BAFL 57.58 Increased By ▲ 0.38 (0.66%)
BIPL 27.25 Increased By ▲ 0.36 (1.34%)
BOP 34.15 Increased By ▲ 0.46 (1.37%)
CNERGY 10.75 Increased By ▲ 0.14 (1.32%)
DFML 18.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
DGKC 212.40 Increased By ▲ 2.50 (1.19%)
FABL 103.75 Increased By ▲ 4.80 (4.85%)
FCCL 54.30 Increased By ▲ 0.56 (1.04%)
FFL 16.59 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.08 (0.34%)
HBL 306.10 Increased By ▲ 3.68 (1.22%)
HUBC 222.55 Increased By ▲ 3.61 (1.65%)
HUMNL 10.41 Decreased By ▼ -0.13 (-1.23%)
KEL 7.35 Increased By ▲ 0.07 (0.96%)
LOTCHEM 29.94 Increased By ▲ 0.29 (0.98%)
MLCF 97.50 Increased By ▲ 1.14 (1.18%)
OGDC 319.88 Increased By ▲ 1.66 (0.52%)
PAEL 42.60 Increased By ▲ 0.83 (1.99%)
PIBTL 16.94 Increased By ▲ 0.13 (0.77%)
PIOC 301.00 Increased By ▲ 4.38 (1.48%)
PPL 223.00 Increased By ▲ 2.83 (1.29%)
PRL 51.75 Increased By ▲ 2.70 (5.5%)
SNGP 107.90 Increased By ▲ 1.77 (1.67%)
SSGC 29.60 Increased By ▲ 0.46 (1.58%)
TELE 8.92 Increased By ▲ 0.10 (1.13%)
TPLP 12.80 Increased By ▲ 0.29 (2.32%)
TRG 60.69 Increased By ▲ 0.47 (0.78%)
UNITY 10.08 Increased By ▲ 0.06 (0.6%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.05 (4.07%)

ترکیہ کے وزرائے خارجہ اور دفاع بدھ کے روز پاکستان کا دورہ کریں گے، جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی امور اور دفاعی صنعت میں تعاون کے فروغ پر گفتگو کریں گے۔ یہ بات منگل کو ایک ترک سفارتی ذریعے نے بتائی ہے۔

ذرائع کے مطابق ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان اپنے دورے کے دوران ترکیہ کی جانب سے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کریں گے اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے اقدامات کی حمایت کا اعلان بھی کریں گے۔

ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات دیرینہ اور قریبی نوعیت کے ہیں۔ ترکیہ نے حالیہ برسوں میں پاکستان کی کھل کر حمایت کی، خصوصاً مئی میں بھارت کے ساتھ پاکستان کی کشیدگی کے دوران ترکیہ نے پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا، جس پر بھارت نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطح کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کی کوششوں کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر دفاعی صنعت میں تعاون کے نئے امکانات پر غور متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق، فیدان اس بات پر زور دیں گے کہ دونوں ممالک کو دفاعی صنعت میں اپنے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ انقرہ کے بھارت کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات ہیں، تاہم پاکستان کی حمایت کے بعد بھارت میں چھوٹے گروسری اسٹورز اور بڑی آن لائن فیشن کمپنیوں نے ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جب کہ نئی دہلی نے قومی سلامتی کے خدشات کے تحت ترکیہ کی ایوی ایشن سروس فراہم کرنے والی کمپنی چیلبی کی کلیئرنس منسوخ کر دی ہے۔

Comments

Comments are closed.