BR100 Decreased By (-0.64%)
BR30 Decreased By (-0.74%)
KSE100 Decreased By (-0.63%)
KSE30 Decreased By (-0.65%)
BAFL 59.31 Decreased By ▼ -0.53 (-0.89%)
BIPL 27.19 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 34.72 Decreased By ▼ -0.56 (-1.59%)
CNERGY 13.15 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
DFML 18.46 Increased By ▲ 0.38 (2.1%)
DGKC 213.77 Decreased By ▼ -3.24 (-1.49%)
FABL 99.90 Decreased By ▼ -0.05 (-0.05%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.17 (-0.29%)
FFL 16.27 Decreased By ▼ -0.15 (-0.91%)
GGL 24.10 Decreased By ▼ -0.26 (-1.07%)
HBL 324.20 Decreased By ▼ -2.01 (-0.62%)
HUBC 210.90 Decreased By ▼ -2.52 (-1.18%)
HUMNL 10.70 Decreased By ▼ -0.11 (-1.02%)
KEL 7.55 Increased By ▲ 0.07 (0.94%)
LOTCHEM 28.00 Increased By ▲ 0.25 (0.9%)
MLCF 100.90 Decreased By ▼ -2.08 (-2.02%)
OGDC 321.80 Decreased By ▼ -1.98 (-0.61%)
PAEL 43.33 Decreased By ▼ -0.57 (-1.3%)
PIBTL 16.55 Decreased By ▼ -0.13 (-0.78%)
PIOC 272.00 Decreased By ▼ -4.19 (-1.52%)
PPL 229.90 Increased By ▲ 0.43 (0.19%)
PRL 72.20 Increased By ▲ 2.09 (2.98%)
SNGP 103.55 Decreased By ▼ -0.11 (-0.11%)
SSGC 27.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 8.70 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 15.28 Decreased By ▼ -0.40 (-2.55%)
TRG 60.44 Decreased By ▼ -0.69 (-1.13%)
UNITY 12.21 Increased By ▲ 0.17 (1.41%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)

خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں امریکہ کی ممکنہ مداخلت سے متعلق غیر واضح اشاروں کے بعد سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری سے ہچکچاہٹ کا شکار نظر آئے۔

برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 37 سینٹ یا 0.48 فیصد کی کمی سے 76.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئی جبکہ گزشتہ سیشن میں جس میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، قیمتوں میں 2.7 فیصد تک کمی کے باوجود 0.3 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ کی جولائی کیلئے قیمت 28 سینٹ یا 0.37 فیصد کی کمی سے 74.86 ڈالر فی بیرل پر آ گئی حالانکہ گزشتہ سیشن میں قیمتیں 2.4 فیصد تک گرنے کے باوجود 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئی تھیں۔

جولائی کا معاہدہ جمعہ کو ختم ہو رہا ہے جبکہ زیادہ فعال اگست کے معاہدے کی قیمت 21 سینٹ یا 0.29 فیصد کمی کے ساتھ 73.29 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائمور نے آئی جی کے لیے اپنے ایک نوٹ میں لکھا کہ قیمت میں اب بھی ایک خاصی حد تک رسک پریمیم شامل ہے، کیونکہ تاجر اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ آیا اسرائیل-ایران تنازع کا اگلا مرحلہ امریکی حملہ ہوگا یا مذاکرات کی طرف پیش رفت۔

سائمور کے مطابق اگر جنگ چھڑتی ہے تو قیمتوں میں 5 ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے جبکہ اگر امن مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو قیمتوں میں تقریباً اسی حد تک کمی بھی ممکن ہے۔

بدھ کو صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں یا نہیں بھی کر سکتے کہ امریکہ اسرائیل کے ایران پر میزائل حملوں میں شامل ہو۔ یہ تنازع جمعرات کو اپنے ساتویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ براہِ راست اس تنازع میں شامل ہوتا ہے تو یہ کشیدگی کو مزید بڑھا دے گا جس سے خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا خطرہ کہیں زیادہ بڑھ جائے گا۔

ایران اوپیک کا تیسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے جو روزانہ تقریباً 33 لاکھ بیرل خام تیل نکالتا ہے۔

تاہم اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے اہم آبی راستے سے روزانہ تقریباً 1 کروڑ 90 لاکھ بیرل تیل اور تیل سے بنی مصنوعات گزرتی ہیں اور اس حوالے سے شدید خدشہ پایا جاتا ہے کہ لڑائی کے باعث وہاں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

امریکی فیڈرل ریزرو نے بدھ کو شرح سود کو برقرار رکھا تاہم سال کے اختتام تک دو بار شرح سود میں کمی کا عندیہ دیا ہے۔

چیئرمین جیروم پاول نے تاہم خبردار کیا کہ شرح سود میں کمی اعداد و شمار پر منحصرہوگی اور کہ صدر ٹرمپ کی منصوبہ بندی کردہ درآمدی ٹیکسز کی وجہ سے صارفین کی مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

کم شرح سود معیشت کو فروغ دے گی اور اس کے نتیجے میں تیل کی طلب بڑھے گی، لیکن اس سے مہنگائی میں بھی شدت آسکتی ہے۔

Comments

Comments are closed.