ایران اسرائیل کی تباہ کن جنگ پورے خطے کو بحران میں دھکیل سکتی ہے، اردوان کا انتباہ
ترک صدر رجب طیب اردوان نے علاقائی رہنماؤں سے سلسلہ وار ٹیلیفونک گفتگو میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ”تباہ کن جنگ“ خطے کو پناہ گزینوں کے نئے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ یہ بات ترک صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی۔
اردوان نے ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پورے خطے کو آگ میں جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان مہلک میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ شدت اختیار کر چکا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ میں شدید جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے گفتگو میں اردوان نے کہا کہ ہمارا خطہ ایک اور بحران کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور تباہ کن جنگ خطے کے تمام ممالک کی جانب غیر قانونی ہجرت کی نئی لہریں پیدا کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ ترکی پہلے ہی لاکھوں شامی مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے جو خانہ جنگی سے فرار ہو کر آئے، جبکہ بعض ایرانی شہری بھی اپنی حکومت کے جبر سے بچنے کے لیے ترکی میں سکونت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ مہاجرین ترکی میں سیاسی تناؤ کا باعث بنے ہیں۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق، اردوان نے سعودی ولی عہد سے گفتگو میں کہا کہ اسرائیل کو روکا جانا چاہیے، کیونکہ وہ خطے میں استحکام اور سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
اردوان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے فلسطین میں قبضے اور نسل کشی پر آنکھیں بند کر لینے نے اسرائیل کو اس حد تک قانون شکنی اور جارحیت پر آمادہ کیا۔
اردوان نے اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی بات چیت کی۔
ترک صدارتی دفتر کے مطابق، ہفتے کی رات اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ٹیلیفونک رابطہ کیا اور واشنگٹن و تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے تسلسل کی حمایت کی۔
پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بتایا کہ انہوں نے اردوان سے گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کے خلاف اسرائیل کی بلا اشتعال جارحیت بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے جمعہ کے روز ایران پر بے مثال حملہ کیا، جس میں اعلیٰ فوجی کمانڈرز، جوہری سائنسدانوں اور دیگر سینئر حکام کو نشانہ بنایا گیا۔ ایران کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں 78 افراد جاں بحق ہوئے۔
جواب میں ایران نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے، جن میں 3 افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔


Comments
Comments are closed.