BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.84 Increased By ▲ 0.21 (0.85%)
BOP 30.05 Decreased By ▼ -0.07 (-0.23%)
CNERGY 12.75 Decreased By ▼ -0.23 (-1.77%)
DFML 18.13 Increased By ▲ 0.64 (3.66%)
DGKC 186.90 Decreased By ▼ -0.32 (-0.17%)
FABL 93.20 Decreased By ▼ -0.51 (-0.54%)
FCCL 51.00 Decreased By ▼ -0.65 (-1.26%)
FFL 14.43 Decreased By ▼ -0.06 (-0.41%)
GGL 18.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.79%)
HBL 302.50 Decreased By ▼ -1.28 (-0.42%)
HUBC 198.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.08%)
HUMNL 9.75 Decreased By ▼ -0.10 (-1.02%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.15 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
MLCF 90.33 Decreased By ▼ -0.90 (-0.99%)
OGDC 315.40 Increased By ▲ 2.01 (0.64%)
PAEL 34.73 Decreased By ▼ -0.51 (-1.45%)
PIBTL 14.23 Decreased By ▼ -0.48 (-3.26%)
PIOC 235.00 Decreased By ▼ -4.62 (-1.93%)
PPL 221.00 Decreased By ▼ -0.36 (-0.16%)
PRL 90.89 Decreased By ▼ -0.33 (-0.36%)
SNGP 90.30 Decreased By ▼ -0.57 (-0.63%)
SSGC 23.39 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 7.40 Decreased By ▼ -0.21 (-2.76%)
TPLP 12.02 Decreased By ▼ -0.54 (-4.3%)
TRG 54.35 Decreased By ▼ -1.44 (-2.58%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

ریاض جو 2023 میں مفاہمت سے قبل طویل عرصے تک تہران کا حریف رہا ہے نے جمعہ کو ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کی۔

ان حملوں میں اہم فوجی کمانڈر اور جوہری سائنسدانوں کی شہادت نے نہ صرف خطے میں مکمل جنگ کے خدشات کو بھڑکا دیا بلکہ اتوار کو عمان میں طے شدہ امریکہ-ایران جوہری مذاکرات کو بھی شدید خطرے سے دوچار کردیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مملکت سعودی عرب ایران کے خلاف اسرائیل کی کھلی جارحیت کی شدید مذمت اور مخالفت کرتی ہے جو ایران کی خودمختاری اور سلامتی کو نقصان پہنچاتی ہے اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔

ان حملوں کو سفاکانہ کارروائیاں قرار دیتے ہوئے سعودی بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس جارحیت کو فوری طور پر روکے جس کے بارے میں اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ حملے کئی دنوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔

ان حملوں نے تیل سے مالا مال خلیجی خطے میں ہلچل مچادی ہے جہاں ایک وسیع تر جنگ کے خدشات سر اٹھارہے ہیں جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں 12 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

یاد رہے کہ سال 2023 میں چین نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ایک تاریخی مفاہمتی معاہدہ کرایا تھا حالانکہ دونوں ممالک طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کے تنازعات میں ایک دوسرے کے مخالف فریقوں کی حمایت کرتے رہے ہیں۔

ریاض نے 2016 میں ایران سے سفارتی تعلقات اس وقت منقطع کرلیے تھے جب ایرانی مظاہرین نے ممتاز شیعہ عالم دین شیخ نمر النمر کی سزائے موت کے بعد سعودی سفارتی مشنوں پر حملہ کردیا تھا۔

Comments

Comments are closed.