✕
پاکستان

عالمی بینک نے سندھ اصلاحاتی پروگرام کی پیش رفت کم تسلی بخش قرار دیدیا

  • بینک نے ادارہ جاتی اصلاحات میں تاخیر، تکنیکی معاونت کی منظوری زیر التوا ہونے اور صحت، تعلیم اور شماریاتی نظام کی مالیاتی منصوبہ بندی میں کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے
شائع اپ ڈیٹ

عالمی بینک نے سندھ میں 100 ملین ڈالر کے سرکاری شعبے میں اصلاحات کے پروگرام پر عمل درآمد کی پیش رفت کو تسلی بخش سے کم کرکے درمیانے درجے تک تسلی بخش قرار دے دیا ہے۔ بینک نے ادارہ جاتی اصلاحات میں تاخیر، تکنیکی معاونت کی منظوری زیر التوا ہونے اور صحت، تعلیم اور شماریاتی نظام کی مالیاتی منصوبہ بندی میں کمزوریوں کی نشاندہی کی ہے۔

عالمی بینک کی تازہ ترین امپلیمنٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ کے مطابق بعض اصلاحات پر کام جاری ہے اور ابتدائی نتائج بھی حاصل ہوئے ہیں، تاہم متعدد اہم سرگرمیوں میں تاخیر کا خدشہ ہے۔ تکنیکی معاونت کے جزو کے لیے پی سی ون کی منظوری میں تاخیر اصلاحاتی عمل کی رفتار برقرار رکھنے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

پاکستان پبلک ریسورسز فار انکلوسیو ڈیولپمنٹ فیز ون (سندھ) نامی اس پروگرام کا مقصد صوبائی مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا، معاشی استحکام اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانا ہے۔ 6 مارچ 2026 کو مؤثر ہونے والے اس پروگرام کے تحت اب تک 99.81 ملین ڈالر کی نظرثانی شدہ مالی معاونت میں سے 19.97 ملین ڈالر جاری کیے جاچکے ہیں، جبکہ پروگرام 31 دسمبر 2030 کو مکمل ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق بنیادی صحت کی مالی معاونت کا فریم ورک، اسکولوں کے اخراجات میں شفافیت، سندھ بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی استعداد کار میں اضافہ اور ڈیٹا گورننس کے نظام کی تیاری تاخیر کا شکار ہیں۔ اسکول مینجمنٹ کمیٹیوں کے فنڈز اور اخراجات کی صنفی بنیاد پر رپورٹنگ بھی مکمل نہیں ہوسکی۔ اسکولوں کی فنڈنگ پالیسی تیار ہونے کے باوجود محکمہ خزانہ اور صوبائی کابینہ کی منظوری کی منتظر ہے۔

دوسری جانب سندھ کی اپنی ٹیکس وصولیاں مارچ 2026 کے 424.8 ارب روپے سے بڑھ کر اگست میں 593 ارب روپے ہوگئیں، جبکہ جون 2030 تک 750 ارب روپے کا ہدف مقرر ہے۔ خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس کی وصولیاں بھی جون 2026 میں بڑھ کر 342.1 ارب روپے ہوگئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 284 ارب روپے تھیں۔

رپورٹ میں سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے میں پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل سندھ کے ذریعے 40 فیصد سرکاری ادائیگیاں الیکٹرانک فنڈ ٹرانسفر کے ذریعے کی گئیں، تاہم اس کی تیسرے فریق سے تصدیق ہونا باقی ہے۔

عالمی بینک نے پروگرام کے ترقیاتی مقاصد کی درجہ بندی تسلی بخش برقرار رکھی ہے، تاہم عمل درآمد کی پیش رفت درمیانے درجے تک تسلی بخش قرار دیتے ہوئے مجموعی خطرات کو نمایاں سطح پر برقرار رکھا ہے۔ ادارہ جاتی صلاحیت اور اصلاحات پر عمل درآمد کے چیلنجز کے باعث سیاسی اور گورننس کے خطرات کو بلند قرار دیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026