ٹرمپ نے سوزی وائلز کی جگہ اسٹیفن ملر کو چیف آف اسٹاف مقرر کردیا
- اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کی سخت ترین داخلی پالیسیوں کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوزی وائلز کی جگہ اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا۔
اسٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کی سخت ترین داخلی پالیسیوں کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کی رواں ہفتے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس کا کنٹرول کھونے کے بعد انہیں یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
اس تبدیلی کے نتیجے میں ٹرمپ کے دیرینہ وفادار اور جارحانہ انداز کے حامل پالیسی مشیر کو صدر کے ایجنڈے کی قیادت کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ ٹرمپ اب ڈیموکریٹس کے زیر قیادت ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا سامنا کرنے کی تیاری کررہے ہیں جبکہ کانگریس کی جانب سے تحقیقات کی متوقع نئی لہر بھی ان کے لیے ایک چیلنج ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کے حکام نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ملر کا انتخاب ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ داخلی پالیسی اور سیاسی معاملات میں جارحانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ملر 2017 سے 2021 تک ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران بھی ان کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔ 2025 میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد ملر باضابطہ طور پر سوزی وائلز کے ماتحت ڈپٹی چیف آف اسٹاف کے عہدے پر فائز تھے، تاہم صدر کے بیشتر داخلی پالیسی ایجنڈے پر ان کا غیر معمولی اثر و رسوخ رہا ہے اور انہیں ٹرمپ تک براہِ راست رسائی بھی حاصل رہی ہے۔
ملر کو خاص طور پر ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی پر عمل درآمد کا محرک سمجھا جاتا ہے جس کے تحت روزانہ 3 ہزار افراد کی گرفتاریوں کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے وفاقی امیگریشن اہلکاروں نے اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھاتے ہوئے ایسے تارکین وطن کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا تھا جو کئی دہائیوں سے امریکا میں مقیم تھے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں ملر کو اپنے قابلِ اعتماد ترین مشیروں میں سے ایک قرار دیا جبکہ سوزی وائلز کی کارکردگی کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شاندار کام کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق عہدے میں یہ تبدیلی پیر سے نافذ العمل ہوگی۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار کے مطابق وائلز نے جمعرات کی شب اپنا استعفیٰ پیش کردیا تھا اور اب وہ ٹرمپ کی سیاسی ٹیم میں ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اور عہدیدار نے کہا کہ ’ٹرمپ ان لوگوں کو نواز رہے ہیں جو ان کے سب سے زیادہ وفادار ہیں۔ وہ اپنی پالیسی کا رخ تبدیل نہیں کر رہے۔