امریکی روزگار کے اعداد و شمار کے بعد فیڈ دسمبر میں شرحِ سود بڑھانے کے فیصلے پر قائم رہنے کا امکان
- امریکی آجروں نے گزشتہ ماہ ایک لاکھ 65 ہزار نئی ملازمتیں فراہم کیں، جو ماہرینِ معیشت کی توقعات سے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں
اکتوبر میں توقعات سے بہتر روزگار کے اعداد و شمار نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں مزید اضافے کے حق میں دلائل کو تقویت دی ہے۔ امریکی اسٹاک مارکیٹ میں انتخابات کے بعد آنے والی مندی اور اس خدشے کے باعث شرحِ سود میں اضافے کا امکان کچھ کمزور پڑ گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے پیدا ہونے والی طلب اچانک ختم ہو سکتی ہے۔
بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے جمعے کے روز جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکی آجروں نے گزشتہ ماہ ایک لاکھ 65 ہزار نئی ملازمتیں فراہم کیں، جو ماہرینِ معیشت کی توقعات سے دوگنا سے بھی زیادہ ہیں، جبکہ بے روزگاری کی شرح معمولی کمی کے بعد 4.1 فیصد پر آگئی۔
فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ پالیسی ساز اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے ’’اعداد و شمار کے مجموعی رجحان‘‘ کا جائزہ لیں گے کہ آیا مالیاتی پالیسی مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ روزگار کی تازہ رپورٹ نے اس سوال کا واضح جواب اثبات میں دیا ہے۔
فچ ریٹنگز کے تجزیہ کار اولو سونولا نے رپورٹ کے بعد لکھا، ’’گزشتہ ہفتے مجموعی قومی پیداوار اور صارفین کے اخراجات کے مضبوط اعداد و شمار کے بعد روزگار کی یہ رپورٹ بھی انتہائی حوصلہ افزا ہے، جو معیشت کی مثبت رفتار کو مزید تقویت دیتی ہے۔‘‘
اولو سونولا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق حالیہ خدشات اس منظرنامے کے لیے خطرہ ہیں، تاہم ’’فی الحال معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہے۔ لیبر مارکیٹ کی لچکدار صورتحال فیڈرل ریزرو کی توجہ مہنگائی پر مرکوز رکھے ہوئے ہے اور پالیسی سے متعلق بحث کو دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کے امکان کی جانب مزید آگے بڑھا رہی ہے۔‘‘
سینٹ لوئس میں جمعے کے روز ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سینٹ لوئس فیڈ کے صدر البرٹو موسلیم نے کہا کہ وسط مغربی خطے میں کاروباری اداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران مہنگائی بدستور ان کی سب سے بڑی تشویش کے طور پر سامنے آئی ہے۔
شرحِ سود میں مزید اضافے کے حامی البرٹو موسلیم نے کہا، ’’مہنگائی ایک ایسا ٹیکس ہے جس کا بوجھ کم آمدنی والے طبقے پر زیادہ پڑتا ہے اور جو معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اقتصادی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے ہم سب سے بہتر کام یہی کر سکتے ہیں کہ بروقت مہنگائی پر قابو پائیں۔‘‘
انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تیزی کی رفتار اور پائیداری سے متعلق نئے خدشات کے باعث اسٹاک مارکیٹوں میں حالیہ مندی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم کہا کہ ان کے خیال میں فی الحال یہ ابھرتا ہوا شعبہ تانبے اور دیگر وسائل جیسی اشیا کی طلب بڑھا کر مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
البرٹو موسلیم نے کہا کہ اگرچہ اس سرمایہ کاری سے مستقبل میں منافع اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے، لیکن ’’ہمیں مالیاتی پالیسی آج کی معیشت کو سامنے رکھ کر بنانی چاہیے، نہ کہ اس بنیاد پر کہ پانچ سال بعد معیشت کیسی ہو سکتی ہے۔‘‘ ان کے بقول، کم از کم فی الحال اے آئی کے شعبے میں سرمایہ کاری ’’مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتی رہے گی۔‘‘
ان کے یہ بیانات منگل کے انتخابات کے بعد سامنے آئے ہیں، جن میں ڈیموکریٹ گورنرز کی متعدد کامیابیوں اور کانگریس میں ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت نے اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے منصوبوں کے خلاف سخت اقدامات کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ سیاسی تبدیلی کے اثرات واضح ہونے کے بعد جمعرات کے روز نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 19 ماہ کی سب سے بڑی گراوٹ سے دوچار ہوا۔
نئے منتخب ہونے والے متعدد گورنرز نے انتخابی مہم کے دوران ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر محدود کرنے کے وعدے کیے تھے، جبکہ ڈیموکریٹک کانگریسی قیادت اے آئی سے متعلق متعدد نئے قانون سازی اقدامات کی تیاری کر رہی ہے۔
اے آئی کے شعبے سے متعلق ان خدشات نے سرمایہ کاروں کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے دسمبر میں شرحِ سود بڑھائے جانے پر لگائے گئے بڑے داؤ سے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اے آئی سے متعلق طلب میں سست روی معاشی نمو کی رفتار کم اور مہنگائی کے دباؤ میں کمی لا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مالیاتی پالیسی مزید سخت کرنے کی ضرورت فوری نوعیت کی نہیں رہے گی۔
تاہم، جمعے کے روز روزگار سے متعلق رپورٹ نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرحِ سود میں اضافے کے امکان کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں فیڈ کے 8 اور 9 دسمبر کے اجلاس میں شرحِ سود میں 0.25 فیصد پوائنٹ اضافے کا امکان تقریباً 78 فیصد ظاہر کیا جا رہا تھا، جو روزگار کے اعداد و شمار جاری ہونے کے فوراً بعد 85 فیصد تھا، جبکہ جمعرات کے روز یہ امکان تقریباً 67 فیصد رہا تھا۔
سرمایہ کار اب شرحِ سود میں اگلے اور ممکنہ طور پر آخری اضافے کی توقع بھی پہلے کے مقابلے میں جلد کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اضافہ جون کے بجائے اپریل میں ہو سکتا ہے، کیونکہ فیڈ مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے جو پانچ سال سے زائد عرصے سے اس کے 2 فیصد ہدف سے اوپر ہے۔
ریمنڈ جیمز کے تجزیہ کاروں نے لکھا، ’’اس سے فیڈرل ریزرو کو اپنے پالیسی مینڈیٹ کے مہنگائی سے متعلق پہلو پر توجہ مرکوز رکھنے کا موقع ملنا چاہیے۔ ہماری توقع ہے کہ فیڈ دسمبر میں وفاقی فنڈز کی شرحِ سود میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرے گا۔‘‘