✕

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے میٹا کے اشتراک سے دوبارہ جاری کیے گئے موبائل نمبرز پر رجسٹرڈ واٹس ایپ کے 176,000 اکاؤنٹس بلاک کردیے ہیں۔ ریگولیٹر غیر فعال اور منسوخ شدہ سمز کے ذریعے سائبر فراڈ کی روک تھام کے لیے ایک مستقل نظام وضع کرنے کی جانب پیش رفت کر رہا ہے۔

پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ واٹس ایپ کے ذریعے سائبر فراڈ کی وارداتوں کے لیے دوبارہ جاری کیے گئے موبائل نمبرز کے استعمال سے متعلق شکایات سامنے آنے کے بعد اتھارٹی کی درخواست پر یہ اکاؤنٹس بلاک کیے گئے۔

اتھارٹی نے ان نمبرز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کی تصدیق اور انہیں بلاک کرنے کے لیے دوبارہ جاری کیے گئے تقریباً ایک کروڑ موبائل نمبرز میٹا کے ساتھ شیئر کیے ہیں۔ ریگولیٹر نے میٹا کے ساتھ ایک مستقل نظام پر بھی اتفاق کیا ہے جس کے تحت ہر ماہ ایسے 5,000 موبائل نمبرز پلیٹ فارم کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کی نشاندہی کرکے انہیں غیر فعال کیا جاسکے۔

پی ٹی اے حکام کے مطابق، ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس اس وقت تقریباً ایک کروڑ 60 لاکھ دوبارہ جاری کیے گئے موبائل نمبرز موجود ہیں۔ یہ صورتحال فراڈ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا باعث بن رہی ہے کیونکہ ان نمبرز پر رجسٹرڈ واٹس ایپ اکاؤنٹس اصل سمز کے غیر فعال یا منسوخ ہونے کے بعد بھی فعال رہتے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ ایسے واٹس ایپ اکاؤنٹس نئے صارفین کی جانب سے دوبارہ جاری کیے گئے موبائل نمبرز حاصل کرنے کے بعد غلط مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں جس سے فراڈ اور سائبر جرائم کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

طے شدہ طریقہ کار کے تحت دوبارہ جاری کیے گئے موبائل نمبرز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو مرحلہ وار بلاک کیا جائے گا تاکہ ان کے غلط استعمال کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

یہ پیش رفت غیر فعال موبائل نمبرز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے ذریعے سائبر فراڈ کی شکایات سامنے آنے کے بعد ہوئی ہے جس پر پی ٹی اے نے مربوط حل تلاش کرنے کے لیے میٹا سے رابطہ کیا تھا۔

پی ٹی اے حکام نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال ریگولیٹر کی جانب سے میٹا کو بھیجی گئی شکایات میں سے 82 فیصد حل کر دی گئی تھیں جو دونوں اداروں کے درمیان بہتر ہوتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔

اس تازہ اقدام کا مقصد ڈیجیٹل سیکیورٹی کو مضبوط بنانا، موبائل صارفین کا تحفظ یقینی بنانا اور ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے موبائل نمبرز دوبارہ جاری کیے جانے کے بعد ان سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔