اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ ٹرین حادثات کے بعد مستعفی، سانچیز کی کابینہ میں ردوبدل
- دو ہلاکت خیز ٹرین حادثات کے بعد اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ مستعفی، مقصد ملک کے ریلوے نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنا ہے
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے بدھ کے روز کہا ہے کہ ان کے نائب کارلوس کوئیرپو عارضی طور پر وزارت ٹرانسپورٹ کا قلمدان سنبھالیں گے۔ وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوئنٹے رواں سال دو ہلاکت خیز تیز رفتار ٹرین حادثات کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں۔
رواں سال کے دوسرے ہولناک ریلوے حادثے کے چھ روز بعد آسکر پوئنٹے کے استعفے سے حکمراں سوشلسٹ جماعت کو انتخابی مہم کے دوران اپنے ایک ایسے نمایاں رہنما کی کمی کا سامنا ہے جو اپنے جارحانہ سیاسی انداز کے باعث ایک طرف نمایاں تھا تو دوسری جانب متنازع بھی تھا۔
ٹیلی ویژن پر مختصر خطاب میں پیڈرو سانچیز نے آسکر پوئنٹے کی سیاسی وقار کے ساتھ ذمہ داری قبول کرنے پر تعریف کی اور کہا کہ ان کے فیصلے سے ملک کو ریلوے نظام پر اعتماد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔
کارلوس کوئیرپو، جو اسپین کے وزیرِ خزانہ بھی ہیں، کو ان کا جانشین مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سانچیز نے کہا کہ ’’کارلوس نے اس پارلیمانی مدت کے دوران انتظامی صلاحیت اور دیانت داری کا غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے۔‘‘
آسکر پوئنٹے نے منگل کی شب خاموشی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرکے ارکانِ پارلیمنٹ کو حیران کردیا۔ اس سے قبل نگران پارلیمانی ادارے کے ارکان نے چار گھنٹے تک ان سے سخت سوالات کیے تھے، جس کے دوران بیشتر جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ وہ ان دو ٹرین حادثات کی ذمہ داری قبول کریں جن میں مجموعی طور پر 115 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
آزاد سیاسی تجزیہ کار ایڈوارڈو بایون نے کہا ہے کہ پوئنٹے کے استعفے سے اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی (پی پی) اپنے اہم ہدف سے محروم ہوگئی ہے، جس کے باعث سیاسی بحث کا رخ اس سوال سے ہٹ کر کہ کس کو عہدہ چھوڑنا چاہیے، اس جانب منتقل ہوگیا ہے کہ اب کیا اقدامات کیے جانے چاہییں۔
بایون نے مزید کہا کہ ’’حکومت کو ریلوے کی سکیورٹی بہتر بنانے اور سرمایہ کاری کے ٹھوس اقدامات کے ذریعے اس خلا کو پُر کرنا ہوگا، کیونکہ تیز رفتار ریل کے نظام پر عوامی اعتماد انتخابی مہم کا اہم موضوع بنا رہے گا۔‘‘
’’ہم سب ایک جیسے نہیں ہیں‘‘
سانچیز کے وفادار اور نمایاں وزرا میں شمار ہونے والے آسکر پوئنٹے نے اس سے قبل اپوزیشن اور اتحادی جماعتوں کی جانب سے مستعفی ہونے کے وسیع مطالبات کے باوجود گزشتہ ہفتے کے ٹرین حادثے کی تحقیقات اور ریلوے نظام کی خامیاں دور کرنے کے لیے عہدے پر برقرار رہنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔
تاہم منگل کے روز 57 سالہ وزیر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے درحقیقت وسطی اسپین کے علاقے اُردا میں ٹرین حادثے کے فوری بعد ہی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا، لیکن اس بارے میں صرف اپنے اہل خانہ کو بتایا اور وزیراعظم پیڈرو سانچیز کو بھی لاعلم رکھا۔
پوئنٹے کے استعفے کے اعلان کے بعد سانچیز نے کہا کہ ’’(پوئنٹے جیسے) سیاست دان ہمارے ملک کے لیے باعثِ افتخار ہیں اور ہمیں دکھاتے ہیں کہ ہم سب ایک جیسے نہیں ہیں۔ کچھ لوگ صرف وعظ کرتے ہیں، جبکہ دوسرے اپنی پوری توانائیاں صرف کردیتے ہیں۔‘‘
اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی (پی پی) کے سربراہ البرٹو نونیز فیخو نے پوئنٹے کے مستعفی ہونے کی تعریف میں سانچیز کی ایکس پر پوسٹ کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اس کا اطلاق خود اپنے اوپر بھی کریں۔‘‘
’’حکومت کا جارحانہ ترجمان‘‘
آسکر پوئنٹے کا استعفیٰ اس وقت مؤثر ہوگا جب اسے سرکاری گزٹ میں شائع کردیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ 29 نومبر کو ہونے والے آئندہ انتخابات میں امیدوار نہیں ہوں گے۔
گزشتہ بدھ کے مہلک ٹرین حادثے کے بعد کیے گئے رائے عامہ کے جائزوں میں حکمراں سوشلسٹ جماعت کی مقبولیت میں معمولی کمی ظاہر ہوئی۔ جماعت کو امید تھی کہ وہ عوامی خدمات برقرار رکھنے اور رہائشی بحران پر قابو پانے کی اپنی کوششوں کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنائے گی۔
پیشے کے اعتبار سے وکیل، سابق میئر اور اسٹیج اداکار آسکر پوئنٹے نے نومبر 2023 میں وزارت ٹرانسپورٹ کا منصب سنبھالا تھا۔ ان کے دور میں اسپین کے ریلوے نیٹ ورک کو وسعت دی گئی اور یورپی یونین کے بحالی فنڈز کی جزوی معاونت سے سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا گیا۔
تاہم ریلوے کی دیکھ بھال کے لیے ناکافی سرمایہ کاری اور ٹرین سروس میں بڑھتی ہوئی رکاوٹوں پر یونینز اور اپوزیشن جماعتیں کئی برس سے ان پر شدید تنقید کرتی رہی ہیں۔ یہ تنقید رواں سال فروری میں سینیٹ کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ کرنے والی قرارداد پر منتج ہوئی، جس کی وجہ اسی میڈرڈ۔سیویل ریلوے لائن پر ایک مہلک حادثہ تھا جہاں گزشتہ بدھ کو بھی ٹرین ٹکرائی تھی۔
میڈیا مبصرین نے پوئنٹے کو سانچیز کا ’’حملہ آور سپاہی‘‘ قرار دیا تھا۔ وہ ایکس اور پارلیمنٹ میں اپنے سیاسی مخالفین سے اکثر تلخ جملوں کا تبادلہ کرتے تھے۔ ان کے جارحانہ انداز نے انہیں سانچیز کے ممکنہ جانشین کے حوالے سے ہونے والی قیاس آرائیوں میں ایک مضبوط امیدوار بنا دیا تھا۔