✕
رائے

پاکستان کا نامکمل گریجویشن منصوبہ

  • معاشی استحکام کو عادت بنا لیا گیا ہے، لیکن اس سے نکلنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ درکار ہے۔پاکستان بار بار ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے جو اب ایک معمول بن چکی ہے
شائع اپ ڈیٹ

معاشی استحکام کو عادت بنا لیا گیا ہے، لیکن اس سے نکلنے کے لیے کوئی واضح منصوبہ درکار ہے۔پاکستان بار بار ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہوتا ہے جو اب ایک معمول بن چکی ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) جائزہ مکمل کرتا ہے، قرض کی اگلی قسط جاری ہو جاتی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں معمولی اضافہ ہوتا ہے، مہنگائی میں کمی آتی ہے اور حکام اعلان کرتے ہیں کہ معاشی استحکام بحال ہو گیا ہے لیکن جیسے ہی آئی ایم ایف پروگرام کا دباؤ کم ہوتا ہے، درآمدات دوبارہ بڑھنے لگتی ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ایک نئے پروگرام کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔

1950 میں آئی ایم ایف کا رکن بننے کے بعد سے پاکستان اب تک اس ادارے کے ساتھ قرض کے 25 معاہدے کر چکا ہے۔ اس کے باوجود یہ سلسلہ تبدیل نہیں ہو سکا : معاشی استحکام، دوبارہ بحران اور پھر ایک نیا مالیاتی بیل آؤٹ۔

سب سے بڑی کمی ایک ایسی قابلِ اعتماد قومی حکمت عملی کا نہ ہونا ہے جس کے ذریعے پاکستان آئی ایم ایف کی طویل المدتی مالی معاونت پر انحصار ختم کر سکے۔ پروگرام کے جائزوں میں کامیابی حاصل کرنا شرائط پر عمل درآمد کا ثبوت تو ہے، لیکن اس پروگرام سے نکلنے کا مطلب ایسی معیشت کی تعمیر ہے جو بار بار غیر معمولی مالی معاونت کے بغیر پائیدار ترقی کر سکے، بیرونی مالی ذمہ داریاں پوری اور پیداواری سرمایہ کاری کو اپنی جانب راغب کر سکے۔

ترقی کا اصل پیمانہ آئی ایم ایف کے کتنے جائزے کامیابی سے مکمل کیے گئے، یہ نہیں بلکہ اس ادارے پر انحصار میں کتنی کمی آئی ہے۔

معاشی استحکام مستقل معاشی ترقی میں کیوں تبدیل نہیں ہو رہا؟

پاکستان نے موجودہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے۔ مالی سال 2026 میں مسلسل تیسری مرتبہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 1.7 فیصد رہا، مجموعی مالیاتی خسارہ کم ہو کر 2.6 فیصد پر آگیا اور مہنگائی میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

قرض لینے کے بجائے مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری کے ذریعے ذخائر میں اضافہ کیا گیا، جو اب تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی ہے، تاہم ملک اب بھی سرمایہ کاری کے لیے موزوں درجے سے نیچے ہے۔

پاکستان نے ایشیائی انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی ضمانت کے تحت اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرکے چین کی مقامی سرمایہ مارکیٹ میں بھی قدم رکھا ہے۔

معاشی استحکام میکرو اکنامک توازن بحال کرنے کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کے لیے اختیار کی جانے والی پالیسیوں کی نوعیت یہ طے کرتی ہے کہ آیا وہ معیشت میں بنیادی تبدیلیاں لانے میں مددگار ہیں یا صرف فوری مسائل کو سنبھالنے کا ذریعہ ہیں۔

ٹیکسوں اور لیویز میں اضافہ، رسمی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ، شرح سود میں کمی اور عارضی مالیاتی اقدامات مختصر مدت کے اہداف تو حاصل کر سکتے ہیں، لیکن ان سے ٹیکس وصولیوں اور سرکاری اخراجات کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے۔

اسی طرح کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کو معاشی مسابقت میں اضافے کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا، خصوصاً جب یہ بہتری برآمدات میں اضافے کے بجائے درآمدات محدود کرنے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی بدولت حاصل ہوئی ہو۔

سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، روزگار کے مواقع اور برآمدات میں کمزوری معاشی اصلاحات کی حدود کو واضح کرتی ہے۔

مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری کم ہو کر گزشتہ ایک دہائی کی کم ترین سطح یعنی جی ڈی پی کے 14.4 فیصد پر آگئی، جبکہ نجی شعبے کی فکسڈ سرمایہ کاری صرف 9 فیصد رہی اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) بھی محدود رہی۔

بینکوں کے پاس حکومت کے تقریباً 70 فیصد ملکی قرضے موجود ہیں۔ اس طرح بینک مسلسل مالیاتی خسارے پورے کرنے کے لیے حکومت کو قرض فراہم کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو رہے ہیں۔

نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضے کم ہو کر جی ڈی پی کے تقریباً 9 فیصد رہ گئے ہیں، جبکہ 1960 سے 2010 کے دوران ان کی تاریخی اوسط تقریباً 20 فیصد تھی۔

ملک میں تقریباً 70 لاکھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) میں سے صرف 3 لاکھ 18 ہزار 585 ادارے بینکوں سے قرض حاصل کر پاتے ہیں۔

ریاست ایسے مالی وسائل اپنے استعمال میں لے رہی ہے جو پیداواری کاروبار اور نجی سرمایہ کاری کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔

پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مسائل

2014 سے 2024 کے دوران پاکستان میں محنت کشوں کی پیداواری صلاحیت میں سالانہ اوسط اضافہ صرف 0.4 فیصد رہا۔

روزگار کے مواقع میں اضافہ ہر سال لیبر فورس میں شامل ہونے والے تقریباً 36 لاکھ افراد کی تعداد سے کم رہا، جس کے باعث بڑی تعداد میں نوجوان اور نئے کارکن پیداواری روزگار حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت کی شرح بھی انتہائی کم ہے اور صرف 24.4 فیصد ہے۔

اس صورتحال کے سماجی اثرات بھی نمایاں ہیں۔ غربت کی شرح 2018-19 میں 21.8 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد ہوگئی۔

اشیا اور خدمات کی برآمدات اب بھی جی ڈی پی کے تقریباً 9 فیصد کے برابر ہیں، جبکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران برآمدات کے مقابلے میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا تناسب 18 فیصد سے بڑھ کر 44 فیصد ہو گیا ہے۔

سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں یہ کمزوریاں معاشی بحالی کو درآمدات پر انحصار کرنے پر مجبور کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان بار بار بیرونی دباؤ کا شکار ہوتا ہے اور ملکی طلب کو محدود کرنے کے اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔

زرمبادلہ کے ذخائر ایک وقت میں موجود مالی وسائل کا ذخیرہ ہوتے ہیں، جبکہ بیرونی مالی ضروریات مسلسل پیدا ہونے والا تقاضا ہیں۔ ذخائر میں اضافہ یقیناً ایک حفاظتی سہارا فراہم کرتا ہے، لیکن مستقل معاشی استحکام کے لیے پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافہ ضروری ہے۔

پاکستان کو اپنی پیداواری صلاحیت کی ان بنیادی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا جو ہر معاشی بحالی کو غیر پائیدار بنا دیتی ہیں۔ بصورت دیگر ملک معاشی استحکام کے عارضی مراحل سے آگے بڑھ کر خود انحصاری اور پائیدار ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکے گا۔

دیگر ممالک سے پاکستان کیا سبق سیکھ سکتا ہے؟

چار ممالک پاکستان کو آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے حوالے سے اہم اسباق فراہم کرتے ہیں۔ مراکش یہ ظاہر کرتا ہے کہ ساختی اصلاحات کے ذریعے آئی ایم ایف کے قرضوں سے نجات کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ جمیکا کا تجربہ ملکی سطح پر اصلاحات کی ملکیت کی اہمیت اور اس کی حدود کو اجاگر کرتا ہے۔ فلپائن کی مثال بتاتی ہے کہ اصلاحات پر کمزور عمل درآمد کس طرح ان کی کامیابی کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ بھارت نے ثابت کیا کہ معاشی بحران وسیع تر معاشی تبدیلیوں کے لیے محرک بن سکتا ہے۔

مراکش نے 1980 سے 1993 کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے 9 معاہدے کیے، تاہم اس کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ کوئی نیا قرض پروگرام نہیں لیا اور 1997 میں اپنے تمام آئی ایم ایف قرضے واپس کر دیے۔ اس دوران ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات، سرکاری اداروں اور ضابطہ کاری میں اصلاحات کے ساتھ معیشت کو آزاد بنانے کے اقدامات بھی کیے گئے۔

مراکش کی مجموعی قومی بچت 1980-82 میں جی ڈی پی کے 16 فیصد سے بڑھ کر 1990-92 میں تقریباً 23 فیصد تک پہنچ گئی۔

جمیکا نے 1996 میں اپنا آخری آئی ایم ایف قرض پروگرام ختم ہونے کے بعد ملکی سطح پر تیار کردہ معاشی پروگرام پر عمل کیا، جس سے مالیاتی نظم و ضبط اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا۔ تاہم ملک پر قرضوں کا بوجھ برقرار رہا، حقیقی شرح سود بلند رہی اور معاشی ترقی کی رفتار کمزور رہی۔

فلپائن نے 1962 سے 2000 کے دوران آئی ایم ایف کے ساتھ 23 پروگرام کیے، لیکن اس کے باوجود بیرونی ادائیگیوں میں عدم توازن اور قرضوں کے بحران کا سلسلہ جاری رہا۔ اصلاحات کے لیے ملکی سطح پر کمزور حمایت، غیر حقیقت پسندانہ مدت کا تعین اور عمل درآمد میں ناکامی نے پیش رفت کو سست کر دیا۔

یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف پروگرام کی شرائط پوری کرنا کافی نہیں، بلکہ ادارہ جاتی صلاحیت اور مسلسل عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔

بھارت میں 1991 کا ادائیگیوں کے توازن کا بحران وسیع معاشی اصلاحات کا محرک بنا۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں معیشت کو کھولا گیا، تجارت اور سرمایہ کاری کی رکاوٹیں کم کی گئیں اور نجی کاروباری شعبے کو وسعت دی گئی۔ خدمات کے شعبے، خصوصاً انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے برآمدات سے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کیے۔

پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام سے نکلنے کا کیا مطلب ہونا چاہیے؟

آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان میں درکار تبدیلیوں کے وسیع پیمانے کو تسلیم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ریاستی ڈھانچے میں اصلاحات، پرانی اور مضبوط رکاوٹوں کا خاتمہ، معاشی ترغیبات کی ازسرنو تشکیل اور مارکیٹ میں مسابقت کو فروغ دینا ہوگا۔

موجودہ حالات میں اس تبدیلی کی بنیاد چار اہم ستونوں پر ہونی چاہیے۔

پہلا ستون: معاشی استحکام کو پیداواری ترقی میں تبدیل کرنا

مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے سرکاری اخراجات کے معیار کو بنیادی طور پر بہتر بنانا ہوگا، تاکہ زیادہ منافع دینے والی سرمایہ کاری اور انسانی ترقی کے شعبوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

شرح مبادلہ کی پالیسی ایسی ہونی چاہیے جو روپے کی حقیقی قدر کو ضرورت سے زیادہ بڑھنے سے روکے اور ملکی معیشت کی مسابقت برقرار رکھے۔

اس کے لیے ریاستی ڈھانچے کی بنیادی تنظیم نو ضروری ہے۔ حکومت کے حجم کو مناسب سطح پر لانا، وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی انتظامات کو نئے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ اور صوبائی مالیاتی کمیشنوں کے ذریعے بہتر بنانا اور ترقیاتی وسائل اس حکومتی سطح کو فراہم کرنا ضروری ہے جو ان منصوبوں کی تکمیل اور نتائج کی ذمہ دار ہو۔

دوسرا ستون: مالیاتی اور توانائی کے مسائل کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ

گردشی قرضے، غیر مؤثر سبسڈیز، خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے اور محدود ٹیکس نیٹ ایسے مسائل ہیں جنہیں مسلسل بجلی و گیس کے نرخ بڑھا کر یا عارضی مالی معاونت کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔

سرکاری بجٹ میں ظاہر ہونے والا مالیاتی خسارہ بھی توانائی کے شعبے اور سرکاری اداروں کی وسیع تر مالی ذمہ داریوں کی مکمل عکاسی نہیں کرتا۔

اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے گہری اور تکنیکی بنیادوں پر اصلاحات درکار ہیں۔ ان میں بجلی، گیس، تیل اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں کی مشترکہ منصوبہ بندی، بجلی کی مارکیٹ کی تنظیم نو، پیٹرولیم کے شعبے میں جامع اصلاحات، قیمتوں کے نظام کو معقول بنانا، مستحق افراد کو ہدف بنا کر سبسڈی دینا، مسابقت کو فروغ دینا اور پرانی مالی ذمہ داریوں کا تصفیہ شامل ہے۔

جدید لاجسٹکس کے ذریعے مال برداری کو سڑکوں سے ریلوے کی جانب منتقل کرنا بھی ڈیزل کی کھپت اور پیٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تیسرا ستون: پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سپلائی سائیڈ اصلاحات

پاکستان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے سپلائی سائیڈ میں بنیادی تبدیلیاں لانا ضروری ہے۔

اس تبدیلی میں زراعت کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، پانی کے بہتر استعمال، زرعی شعبے میں تنوع اور زرعی مصنوعات کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

صنعتی شعبے میں مقامی سطح پر درمیانی نوعیت کی اشیا کی پیداوار میں سرمایہ کاری، صنعتی شعبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے اور پیداواری لاگت کو مسابقتی سطح پر لانے کی ضرورت ہے۔

اس سے ملکی سپلائی چین مضبوط ہوگی، درآمدات پر انحصار کم ہوگا اور برآمدات میں اضافے کے مواقع پیدا ہوں گے۔

قابلِ تجارت خدمات کا شعبہ بھی برآمدات میں تنوع پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن سکتا ہے۔

اس مقصد کے لیے غیر ضروری ضابطوں، اضافی لائسنسنگ اور پیچیدہ قانونی تقاضوں کا خاتمہ، محفوظ مارکیٹوں کو مسابقت کے لیے کھولنا، غیر مؤثر صنعتوں کو تحفظ دینے والے ٹیرف ختم کرنا اور کاروبار کرنے کی لاگت کم کرنا ضروری ہے۔

ہنرمندی کی ترقی اور خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کے ذریعے پیداواری افرادی قوت میں بھی اضافہ کرنا ہوگا۔

اس تبدیلی کے لیے مربوط صنعتی اور تجارتی پالیسیوں کے ساتھ ایسی ریاستی مشینری درکار ہے جو پیشہ ورانہ مہارت رکھتی ہو اور طے شدہ اہداف کے حصول کی صلاحیت رکھتی ہو۔

چوتھا ستون: پیداواری سرمایہ کاری کے لیے مالی وسائل کے ذرائع میں وسعت

پاکستان کو بینکوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے والے مالیاتی نظام سے آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ حکومت کی جانب سے بینکوں سے مسلسل قرض لینے کے باعث نجی شعبے کی سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔

اس مقصد کے لیے ایکویٹی اور کارپوریٹ قرضوں کی مارکیٹ کو وسعت دینا، پنشن اور انشورنس کی بچتوں کو سرمایہ کاری کے لیے متحرک کرنا اور وینچر کیپیٹل، پرائیویٹ ایکویٹی، لیزنگ اور رسک شیئرنگ فنانس کے استعمال کو فروغ دینا ضروری ہے۔

جدید کوآپریٹو اداروں اور پروڈیوسر تنظیموں کو بھی ترقی دی جانی چاہیے، تاکہ وسائل کو یکجا کیا جا سکے، کاروباری سرگرمیوں کا حجم بڑھایا جا سکے اور چھوٹے پیداواری اداروں کو مالی وسائل اور منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل ہو۔

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کے ذریعے صرف زرمبادلہ حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ اس سرمایہ کاری سے ٹیکنالوجی، مہارت اور برآمدات کے شعبے میں روابط بھی پیدا ہونے چاہئیں۔

سرمایہ کاری کا رخ ریاستی اخراجات اور کھپت کی مالی معاونت سے ہٹا کر کاروبار، جدت، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کی جانب منتقل کرنا ہوگا۔

نتیجہ: آئی ایم ایف سے نجات کے لیے قومی اتفاق رائے ضروری

آئی ایم ایف پر انحصار ختم کرنے کے لیے وفاقی، صوبائی اور مقامی سطح پر مشترکہ ذمہ داری، وسائل کی بہتر تقسیم، سیاسی اتفاق رائے اور نجی شعبے کی بھرپور شمولیت ضروری ہے۔

اصلاحات پر پیش رفت کو جانچنے کے لیے شفاف اہداف اور قابلِ پیمائش مراحل مقرر کیے جانے چاہئیں۔

آئی ایم ایف پروگرام کے اختتام کی کوئی تاریخ مقرر ہو جانا معاشی خود انحصاری نہیں کہلاتا۔ حقیقی کامیابی اس وقت حاصل ہوگی جب معیشت میں بچت، سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات کی صلاحیت میں مستقل اور پائیدار بہتری آئے گی۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026