✕
کاروبار اور معیشت

آسان ٹیکس اسکیم، غیر رجسٹرڈ دکانداروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

  • اسکیم کے تحت رجسٹریشن نہ کرانے والے ریٹیلرز کے خلاف جرمانوں سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں گے، بلال اظہر کیانی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے آسان ٹیکس اسکیم میں رجسٹریشن نہ کرانے والے دکانداروں اور ریٹیلرز کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت غیر رجسٹرڈ کاروباری افراد پر جرمانے عائد کیے جائیں گے، جبکہ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں گیس اور بجلی کے کنکشن منقطع کرنے کا آپشن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ آسان ٹیکس اسکیم پر دکانداروں کا ردعمل توقعات کے مطابق نہیں رہا۔ حکومت نے کاروباری اور تجارتی نمائندوں سے مشاورت کے بعد ان کے تمام تحفظات دور کیے تھے، تاہم اب اسکیم پر عمل درآمد کے لیے کارروائی کا مرحلہ شروع کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت رجسٹریشن نہ کرانے والے ریٹیلرز کے خلاف جرمانوں سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ کارروائی کا منصوبہ حتمی شکل دینے کے بعد وزیراعظم کو پیش کیا جائے گا، جبکہ اس کی تفصیلات بھی چند روز میں قائمہ کمیٹی کے سامنے رکھی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر مرحلہ وار کارروائی کرے گا۔ نئی مارکیٹوں اور مقامات پر 6 ہزار دکانداروں کی فزیکل میپنگ مکمل کرلی گئی ہے، جن کے خلاف پہلے مرحلے میں کارروائی ہوگی۔

حکومت کے پاس ملک بھر کے تقریباً 37 لاکھ ریٹیلرز کا ڈیٹا موجود ہے، جن میں سے 14 لاکھ چھوٹے دکانداروں کے قومی شناختی کارڈز اور یوٹیلیٹی بلوں کا ریکارڈ بھی ایف بی آر کو دستیاب ہے۔ ایف بی آر آئندہ جون تک ان تمام ریٹیلرز کی رجسٹریشن یقینی بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں بجلی اور گیس کے کنکشن منقطع کرنے کا اقدام بھی کیا جاسکتا ہے۔

بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں دکانداروں کو عام ٹیکس نظام کے تحت رجسٹریشن کا اختیار دیا تھا، جبکہ آسان ٹیکس اسکیم اضافی سہولت کے طور پر متعارف کرائی گئی تاکہ زیادہ سے زیادہ کاروباری افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جاسکے۔

کمیٹی کے چیئرمین سید نوید قمر نے اسکیم کی افادیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو توقع تھی کہ 80 فیصد ریٹیلرز رجسٹریشن کرائیں گے، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔

اجلاس میں رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے پاکستان کی تین سرحدوں پر تجارتی سرگرمیاں بند ہونے کے اثرات پر بھی سوال اٹھایا۔ بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ موجودہ سرحدی صورتحال کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت معطل ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارت اور دہشت گردی دو الگ معاملات ہیں، جبکہ نوید قمر نے نشاندہی کی کہ مشرقی، مغربی اور جنوبی تجارتی راستوں پر پابندیوں کے ملکی معیشت پر اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026