مہمند میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران حملہ، دو پولیس اہلکار شہید
- صدرِ مملکت کی مہمند میں انسدادِ پولیو مہم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعہ کی مذمت، شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت
خیبرپختونخوا کے ضلع مہمند میں انسداد پولیو مہم کی سیکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو اہلکار موقع پر ہی شہید جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
یہ واقعہ تحصیل پنڈیالی کے علاقے تمن زئی میں پیش آیا جہاں پولیس اہلکار بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے ورکرز کی حفاظت کے لیے تعینات تھے۔
ریسکیو 1122 نے جاں بحق اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ظہور اور فضل ربی کے نام سے کی جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں کانسٹیبل صابر زخمی ہوئے۔ زخمی پولیس اہلکار کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی میں انسدادِ پولیو مہم کے دوران سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے منگل کو جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے فائرنگ کے واقعے میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کی فرض شناسی، بہادری اور قومی خدمات پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بچوں کو پولیو سے محفوظ بنانے کی قومی مہم میں فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ صدر مملکت نے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمی پولیس اہلکار کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار قومی فریضہ انجام دے رہے ہیں اور ان کی قربانیاں فراموش نہیں کی جائیں گی۔