✕
دنیا

وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی سیاسی کارکردگی کا امتحان، کانگریس کا کنٹرول داؤ پر

  • ریپبلکن پارٹی سے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول چھیننے کیلئے ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے، تجزیہ کار
شائع اپ ڈیٹ

امریکی ووٹرز منگل کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو سالوں کی کارکردگی پر اپنی رائے دیں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں اور غیرجانبدار تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکن پارٹی سے ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول چھیننے کیلئے ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہے جبکہ سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس رہے گا، اس حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہے۔

سینیٹ میں کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ تقریباً 10 ایسی ریاستوں میں جاری ہے جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے جن میں سے بیشتر روایتی طور پر ریپبلکن پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جاتی ہیں۔

تاریخی اعتبار سے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے لیے صورتحال سازگار نہیں، کیونکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صرف دو مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ برسرِ اقتدار صدر کی جماعت نے کانگریس میں اپنی نشستیں برقرار رکھی ہوں یا ان میں اضافہ کیا ہو جبکہ دیگر تمام انتخابات میں اسے نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح بھی اپنی کم ترین سطح کے قریب ہے جس کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر ووٹرز کی شدید ناراضی ہے۔

اس بات میں کوئی خاص شبہ نہیں کہ رواں سال کے انتخابات کا محور ڈونلڈ ٹرمپ ہی ہیں، جو گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے امریکی سیاست کی مرکزی شخصیت چلے آ رہے ہیں۔

خود ٹرمپ بھی اپنے حامیوں سے بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسے ووٹ ڈالیں جیسے وہ خود انتخابی امیدوار ہوں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت نے بھی اس پیغام کو بخوشی دہرایا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اکتوبر کے آغاز سے اب تک انتخابی مہم کے سلسلے میں دو درجن سے زائد جلسے کیے ہیں تاکہ اپنے حامیوں کو متحرک کیا جا سکے۔ ان میں سے بیشتر جلسے ان ریاستوں میں منعقد کیے گئے جہاں انہوں نے 2024 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی اس بار اپنی نشستوں اور سیاسی پوزیشن کے دفاع پر کس حد تک توجہ دے رہی ہے۔

ٹرمپ کی قیادت میں ریپبلکنز نے ڈیموکریٹک امیدواروں کو انتہا پسند، امریکی اقدار کے منافی اور حتیٰ کہ کمیونسٹ قرار دے کر پیش کیا ہے۔

ٹرمپ نے پیر کو واشنگٹن میں ایک تقریر کے دوران کہا کہ ڈیموکریٹک پارٹی نے امریکی تاریخ کے انتہائی انتہا پسند اور خطرناک امیدواروں کے پینل کو نامزد کیا ہے۔

تاہم رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ووٹرز کو سب سے زیادہ تشویش اشیا اور خدمات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اخراجات سے متعلق ہے جبکہ اس معاملے سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقۂ کار کو بھی وہ ناپسند کرتے ہیں۔ ان کی وسیع پیمانے پر عائد کردہ ٹیرف پالیسی اور فروری میں ایران پر حملے کے فیصلے کے باعث ملک کے اندر اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن امیدواروں کو ایسے صدر سے خود کو الگ ظاہر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے جو اپنی غیر مشروط وفاداری کا مطالبہ کرتے ہیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف شاذ و نادر ہی کرتے ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوگی، تاہم ان میں سے بیشتر حلقوں میں مقابلہ سخت تصور نہیں کیا جارہا۔

ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کی کم از کم تین اور سینیٹ کی چار نشستیں ریپبلکنز سے چھیننا ہوں گی۔

ڈیموکریٹس کی اکثریت پر مشتمل ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف تحقیقات شروع کرسکتی ہے، خصوصاً ان معاملات پر جنہیں ڈیموکریٹس انتظامیہ کی جانب سے ذاتی مفادات کو ترجیح دینے سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ قانون سازی کی منظوری کے لیے حکومت سے رعایتیں بھی طلب کی جاسکتی ہیں۔

ڈیموکریٹس کے زیرِ کنٹرول سینیٹ کو ٹرمپ کی جانب سے نامزد کردہ عہدیداروں کی تقرریاں روکنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا جس میں امریکی سپریم کورٹ کے ججوں کی نامزدگیاں بھی شامل ہیں بشرطیکہ کوئی اسامی خالی ہو۔

تاہم اگرچہ ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کو ان کے کئی روایتی مضبوط علاقوں میں دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن ان کے پاس غلطی کی گنجائش بہت کم ہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو اپنی تمام موجودہ نشستوں کا دفاع کرنا ہوگا جن میں مشی گن کا ایک سخت مقابلے والا حلقہ بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ اسے کم از کم ایسی دو ریاستوں میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی جہاں دو سال قبل ٹرمپ نے دو ہندسوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ان ریاستوں میں الاسکا، آئیووا، کنساس، نیبراسکا، اوہائیو، ساؤتھ کیرولائنا اور ٹیکساس شامل ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ان تمام ریاستوں میں ڈیموکریٹس یا تو معمولی برتری رکھتے ہیں یا پھر کامیابی کے لیے درکار حمایت کے قریب ہیں۔