بنگلہ دیش میں گارمنٹس فیکٹریاں کھل گئیں، اجرتوں پر احتجاج کا سلسلہ جاری
- ریڈی میڈ گارمنٹس کا شعبہ بنگلہ دیش کی برآمدی آمدنی میں 80 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے
بنگلہ دیش میں گارمنٹس فیکٹریاں پیر کو دوبارہ کھل گئیں، تاہم ایک روز قبل بڑے پیمانے پر بندش اور پیداواری سرگرمیاں متاثر ہونے کے بعد صنعت کاروں کو اجرتوں میں اضافے کے مطالبے پر مزید احتجاج کا خدشہ ہے۔
ریڈی میڈ گارمنٹس کا شعبہ بنگلہ دیش کی برآمدی آمدنی میں 80 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے، تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں اس کا حصہ تقریباً 10 فیصد ہے۔
مزدور ماہانہ کم از کم اجرت 12,500 ٹکا سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکا (243 ڈالر) کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات زندگی کے باعث یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
حکومت نے مطالبے کا جائزہ لینے کے لیے اتوار کو 6 رکنی کم از کم اجرت بورڈ قائم کیا، تاہم اس اقدام سے فوری طور پر احتجاج ختم نہیں ہوسکا۔ مظاہرین نے کئی صنعتی علاقوں میں سڑکیں بند کردیں، جبکہ ڈھاکا میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔
بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) کے مطابق احتجاج کے باعث مختلف شہروں میں 529 فیکٹریوں کا کام متاثر ہوا اور تقریباً 10 لاکھ مزدور متاثر ہوئے۔
صنعتی مالکان کا کہنا ہے کہ توانائی کی بڑھتی لاگت اور اہم برآمدی منڈیوں میں طلب کی سست روی کے باعث صنعت دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق اجرتوں میں خاطر خواہ اضافہ پیداواری لاگت بڑھا کر برآمدکنندگان کے منافع اور عالمی منڈی میں مسابقت کو متاثر کرسکتا ہے۔