پیٹرول قیمتوں کے نئے طریقہ کار سے ریفائنریز کو 49 روپے فی لیٹر نقصان کا خدشہ
حکومت کی جانب سے موٹر اسپرٹ (پیٹرول) کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار میں حالیہ تبدیلیوں کے نتیجے میں مقامی آئل ریفائنریز کو تقریباً 49 روپے فی لیٹر مالی نقصان کا خدشہ ہے، جس سے 5 سے 6 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری کے حامل ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبوں کی مالیاتی عملداری پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
اٹک ریفائنری لمیٹڈ (اے آر ایل) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عادل خٹک نے حکومت کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں کے تعین میں جنگ سے پہلے کے درآمدی پریمیم اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے فیصلے سے ریفائنریز کو تقریباً 35 روپے فی لیٹر نقصان ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں حاصل ہونے والی رقم سے مزید 14 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی کم کرنے کے لیے مختص کیے جانے کے باعث مجموعی مالی نقصان 49 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گا۔
عادل خٹک نے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ریفائننگ انڈسٹری سے مشاورت کیے بغیر یہ اقدام کیا، حالانکہ اس شعبے نے ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) پر اپنا مارجن پہلے 41.89 ڈالر اور بعد ازاں 38 ڈالر تک محدود کرنے پر اتفاق کرکے دو مرتبہ حکومت کو رعایت دی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کی بھی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی سے حاصل ہونے والی رقم مخصوص ریفائنری اکاؤنٹس میں جمع ہونا تھی تاکہ اپ گریڈیشن منصوبوں کی جزوی مالی معاونت کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ان فنڈز کو دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنا اس پالیسی کی بنیادی روح کے منافی ہے۔ پالیسی میں منصوبوں پر عمل درآمد کے دوران ریفائنریز کو منفی حکومتی تبدیلیوں سے تحفظ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔
اے آر ایل کے سربراہ کے مطابق 30 اکتوبر 2026 کو پیٹرول کی قیمتوں کے طریقہ کار میں اچانک تبدیلی ریفائننگ سیکٹر کے لیے بڑا دھچکا ہے، جو کئی سال کی تاخیر اور پالیسی غیر یقینی کے بعد بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی تیاری کر رہا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ چار ریفائنریز نے 24 ستمبر 2026 کو اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جبکہ پانچویں ریفائنری پارکو کی بھی جلد اس پروگرام میں شمولیت متوقع تھی۔
عادل خٹک نے خبردار کیا کہ حکومتی فیصلے سے سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے، کیونکہ ریفائنریز اس وقت مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے اربوں ڈالر کے منصوبوں کے لیے سرمایہ حاصل کرنے پر بات چیت کر رہی ہیں۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے، ریفائنریز سے بامعنی مشاورت کی جائے اور براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت کیے گئے مالیاتی وعدوں اور تحفظات کو برقرار رکھا جائے۔ ان کے مطابق مزید تاخیر پاکستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی کے لیے اہم منصوبوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026