✕
دنیا

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم غلامی پر باضابطہ معافی مانگنے کے لیے تیار، ہرجانے کی ادائیگی مسترد

  • کامن ویلتھ سربراہ اجلاس سے قبل برطانیہ کا غلامی سے متاثرہ ممالک کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کی پیشکش، قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کا عندیہ
شائع اپ ڈیٹ

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ وہ غلاموں کی تجارت میں برطانیہ کے تاریخی کردار پر باضابطہ معافی مانگنے کے مطالبات سننے کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے مالی ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ مسترد کردیا ہے۔

اینڈی برنہم نے یہ بیان آئندہ ہفتے انٹیگوا و باربوڈا میں ہونے والے کامن ویلتھ سربراہ اجلاس سے قبل دیا ہے، جہاں انہیں غلاموں کی تجارت سے متاثرہ ممالک کی جانب سے مالی معاوضے کی ادائیگی کے مطالبات کا سامنا متوقع ہے۔

برطانوی اخبار گارڈین میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں اینڈی برنہم نے کہا کہ برطانیہ بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت سے متاثرہ افراد اور ممالک کے ساتھ ’’منظم مذاکرات‘‘ کی پیشکش کررہا ہے۔ اس تجارت کے دوران کم از کم ایک کروڑ 25 لاکھ افریقی باشندوں کو اغوا کرکے غلامی کے لیے فروخت کیا گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’برطانوی ریاست کی جانب سے باضابطہ معافی کے مطالبات کو سننا اس عمل کا ایک اہم حصہ ہوگا اور میں ان مطالبات پر غور کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

تاہم اینڈی برنہم نے مالی ہرجانے کی ادائیگی کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے لکھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ آج کے برطانوی شہریوں کو ماضی کی ان تاریخی زیادتیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے، خواہ وہ کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہوں، جو ایک مختلف دور میں مختلف قوانین کے تحت ہوئیں اور جن میں ان شہریوں کا کوئی ذاتی کردار نہیں تھا۔

بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کے ڈیٹابیس کے مطابق، 15ویں سے 19ویں صدی کے دوران یورپی تاجروں نے لاکھوں افریقی باشندوں کو غلام بناکر فروخت کیا، جبکہ برطانیہ نے اندازاً 32 لاکھ افراد کو بحرِ اوقیانوس کے پار منتقل کیا تھا۔

کامن ویلتھ سربراہانِ حکومت کے اجلاس سے قبل خطے کے دورے پر موجود برطانوی بادشاہ چارلس سوم نے کہا ہے کہ ماضی کی عظیم تکالیف اور ناانصافیوں کا اعتراف کرنا ہی درست طرزِ عمل ہے۔

کیریبین ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے ہرجانے کی ادائیگی کے مطالبات اٹھائے جانے کا امکان ہے، جنہیں وہ اکثر قرضوں میں ریلیف، ترقیاتی مالی معاونت، تعلیم، صحت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنانے سے جوڑتے ہیں۔

اینڈی برنہم نے گارڈین میں لکھا کہ وہ قرضوں کے حوالے سے نئی مہم شروع کرنا چاہتے ہیں، جس کے تحت زیادہ کمزور ممالک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے طویل مدت اور نسبتاً بہتر شرحِ سود کی سہولت فراہم کرنے میں مدد دی جائے گی۔

انٹیگوا و باربوڈا کے وزیراعظم گیسٹن براؤن نے اینڈی برنہم کے بیان اور عملی تعاون کی تجاویز کا خیرمقدم کیا، تاہم فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ ’’تلافی کے انصاف سے متعلق کیریبین ممالک کا دیرینہ موقف تبدیل نہیں ہوا۔‘‘