’’تہران میں دفاعی معاہدے پر کوئی بات نہیں ہوئی‘‘، خواجہ آصف کا فضل الرحمٰن کو جواب
- اگر جے یو آئی (ف) کے سربراہ کی جماعت کو صوبائی حکومت میں حصہ دیا گیا ہوتا تو وہ ایسا بیان نہ دیتے، وزیر دفاع کا الزام
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کے روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی علاقائی سفارت کاری میں پاکستان کے کردار پر تنقید مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران کا دورہ امن کے قیام میں سہولت کاری کے لیے کیا تھا، دفاعی معاہدے پر مذاکرات کے لیے نہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ تہران میں کسی دفاعی معاہدے پر بات نہیں ہو رہی تھی، اس لیے وزیر دفاع کی اس اجلاس میں شرکت کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
وہ قومی اسمبلی میں ایک روز قبل مولانا فضل الرحمٰن کے دیے گئے بیان کا جواب دے رہے تھے، جس میں جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے سوال اٹھایا تھا کہ جب ان کے بقول تہران میں دفاعی معاہدے پر بات چیت ہو رہی تھی تو وزیر دفاع وہاں کیوں موجود نہیں تھے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اپنے سیاسی اختلافات سے قطع نظر علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کرنا چاہیے۔ انہوں نے بالخصوص چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کاوشوں سے تصادم ٹالنے میں مدد ملی ہے۔
وزیر دفاع نے بتایا کہ وہ دو دفاعی معاہدوں پر دستخط کے وقت موجود تھے۔ ان میں سے ایک پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان، جبکہ دوسرا پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان طے پایا تھا۔ ان کے بقول تہران میں ہونے والے اجلاس میں ان دونوں میں سے کسی معاہدے پر بھی بات چیت نہیں ہو رہی تھی۔
خواجہ آصف نے موجودہ صورتِ حال کو آزمائش کا وقت قرار دیتے ہوئے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بعض معاملات ایسے ہوتے ہیں جن پر قومی اتحاد غیرمشروط ہونا چاہیے۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کے سیاسی کردار پر بھی تنقید کی اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے ایک دہائی کے دوران مسئلہ کشمیر کے لیے ان کی خدمات پر سوال اٹھایا۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کا حوالہ دیتے ہوئے خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ اگر جے یو آئی (ف) کو صوبائی حکومت میں حصہ دیا گیا ہوتا تو اس کے سربراہ ایسا بیان نہ دیتے۔
دیگر کارروائی
وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے کہا کہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کے باعث عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے ملک کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سکیورٹی اہلکاروں کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ پارلیمان کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے انتخابی دھاندلی کے الزامات کا ازالہ کرنے کے لیے اپوزیشن سے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل ہونے کی اپیل کی اور قائدِ حزبِ اختلاف سے اپنے نمائندوں کے نام پیش کرنے کو کہا۔
توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکریٹری برائے تعلیم رابعہ نسیم فاروقی نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کو دستیاب مواقع تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے ایک قومی ڈیجیٹل یوتھ ہب قائم کیا گیا ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے انسدادِ ڈمپنگ ڈیوٹیز ترمیمی بل 2026 بھی ایوان میں پیش کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کے روز صبح 11 بجے دوبارہ ہوگا۔