✕
دنیا

جنگ بندی کے لیے ثالثی کی تازہ تجاویز ناقابلِ قبول ہیں، ایرانی عہدیدار

  • خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی طاقتوں کا ایران میں اجلاس، قطر نے امریکا اور ایران کے پیچیدہ تنازع کے حل کے لیے نئے امن منصوبے پر زور دے دیا
شائع اپ ڈیٹ

قطری ثالثوں نے ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نئے مسودۂ معاہدے کی تجویز پیش کی ہے۔ مذاکرات سے آگاہ ایک عہدیدار نے یہ بات بتائی، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ دوحہ نے صرف ایسی ناقابلِ قبول تجاویز پیش کی ہیں جو باضابطہ پیشکش کے زمرے میں نہیں آتیں۔

مذاکرات سے آگاہ عہدیدار، جن کا تعلق ایران سے نہیں ہے، نے بتایا کہ آٹھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کا نیا مسودہ اتوار کے روز پیش کیا گیا تھا، جس پر تہران غور کر رہا ہے۔ ایران کی جانب سے رواں ہفتے کے اختتام تک جواب متوقع ہے۔

قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ اس جنگ کے باعث عالمی جہازرانی اور تیل کی رسد متاثر ہوئی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں اس کا دائرہ سعودی عرب اور یمن تک پھیل گیا ہے۔

مذاکرات سے آگاہ عہدیدار نے بتایا کہ قطر کی جانب سے پیش کردہ تجویز میں تہران اور واشنگٹن کے تحفظات کو مدنظر رکھتے ہوئے سات روزہ لائحۂ عمل شامل ہے، جس کے تحت دونوں فریقوں کو روزانہ کی بنیاد پر اعتماد سازی کے اقدامات کرنا ہوں گے۔ عہدیدار کے مطابق اس لائحۂ عمل پر آئندہ ہفتے کے آغاز میں عمل شروع ہو سکتا ہے، جبکہ کئی ممالک معاہدے کے ضامن کا کردار ادا کریں گے۔

اس کے کچھ ہی دیر بعد مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ قطر نے صرف ’’ناقابلِ قبول خیالات پیش کیے ہیں، کوئی باضابطہ پیشکش نہیں کی‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاملے پر لچک نہ دکھانے سے متعلق تہران کی پالیسی بدستور برقرار ہے۔

واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کے کئی دہائیوں پر محیط جوہری پروگرام کو جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے آغاز ہی سے شامل کیا جائے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی شرائط پہلے پوری کی جائیں، جن میں ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنا اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔ ایران مغرب کے اس خدشے کو مسترد کرتا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام فوجی مقاصد کے لیے ہے۔

سعودی آئل ریفائنری پر حملہ

ستمبر کے اواخر میں ایران نے سات روزہ ایک اور تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز، جو دنیا میں توانائی کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے، بعض شرائط پوری ہونے پر دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ تجویز مسترد کر دی تھی، جس کے بعد قطر نے ثالثی کی مزید کوششیں شروع کیں۔

مذاکرات سے آگاہ عہدیدار نے بتایا کہ اتوار کے روز تہران میں زیرِ بحث آنے والا مسودہ اس تجویز سے مختلف تھا، تاہم تازہ منصوبے کی تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔ اس عہدیدار نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ قطری ثالثوں نے تہران جانے سے پہلے واشنگٹن سے رابطہ کر کے مشاورت کی تھی۔

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو شروع کی گئی جنگ ختم کرانے کے لیے ثالثی کی سابقہ کوششوں کے نتیجے میں جون میں ایک عبوری امن معاہدہ طے پایا تھا، تاہم یہ معاہدہ جلد ہی ناکام ہو گیا۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یمن کی حوثی فورسز نے سعودی عرب پر بار بار حملے کیے ہیں۔ سعودی عرب امریکا کا اہم اتحادی اور دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کرنے والا ملک ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں آٹھ ماہ سے جاری جنگ میں ایک نیا محاذ کھل گیا ہے۔

بدھ کے روز سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ پر حوثیوں کے حملے کے بعد تیل کی قیمتیں ایک فیصد سے زیادہ بڑھ کر 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں، جس سے رسد کو لاحق خطرات کے خدشات بڑھ گئے۔

گزشتہ ماہ حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب کی آبنائے کی سمت یمنی فورسز کے خلاف پیش قدمی کے دوران لڑائی میں شدت آ گئی تھی۔ باب المندب جزیرہ نمائے عرب کے دوسری جانب واقع ایک اور اہم بحری گزرگاہ ہے، جبکہ آبنائے ہرمز خلیج میں واقع ہے۔

نئے حملوں کے خدشات

مذاکرات سے آگاہ عہدیدار نے بتایا کہ اتوار کے روز تہران میں ہونے والے اجلاس سے قبل یہ خدشات موجود تھے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو، جو عام انتخابات میں ایک اور مدت کے لیے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، رواں ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کر سکتے ہیں۔

جمعے کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر دوبارہ حملے کرنے کی دھمکی دہرائی، جبکہ ایرانی سکیورٹی عہدیداروں نے رائٹرز کو بتایا کہ تہران نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے دوبارہ شروع کیے جانے کی صورت میں خلیجی سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے تفصیلی منصوبے تیار کر لیے ہیں۔

پیر کے روز پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں تہران میں ایرانی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ قطر نے منگل کے روز کہا کہ ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کے لیے ایران کو عرب خلیجی ریاستوں کو دھمکیاں دینا بند کرنا اور آبنائے ہرمز کھولنا ہوگا تاکہ اس کی نیک نیتی ثابت ہو سکے۔

جنگ کے ابتدائی مرحلے میں خلیجی ریاستوں کو مسلسل بمباری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

اس جنگ کے باعث اسرائیل اور لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ کے درمیان لڑائی بھی دوبارہ شروع ہو گئی۔ اس کے علاوہ امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے۔ ان انتخابات کے ذریعے کانگریس پر کنٹرول کا فیصلہ ہوتا ہے۔