گورنر اسٹیٹ بینک کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے اسے 12 فیصد کردیا۔ کمیٹی نے اس اضافے کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے امکانات کم ہونے کو قرار دیا جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔
ان کے مؤقف کی تائید میں ٹھوس شواہد موجود ہیں، تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ستمبر میں پاکستان میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے جو خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت میں مہنگائی کی شرح 5.54 فیصد (دیہی علاقوں میں 6.08 فیصد اور شہری علاقوں میں 4.88 فیصد)، بنگلہ دیش میں 8.34 فیصد اور سری لنکا میں 8 فیصد رہی۔
اس صورتِحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کے جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت سخت پیشگی شرائط پوری کرنے کے لیے کیے گئے دو انتظامی اقدامات کا اس میں کتنا کردار ہے۔ ان میں نمایاں طور پر شامل ہیں:(i) لاگت کی مکمل وصولی کا ہدف: اس کے تحت یوٹیلیٹی نرخوں میں اتنا اضافہ کیا گیا ہے کہ وہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گئے ہیں۔(ii) محصولات کے لیے پیٹرولیم لیوی پر بڑھتا ہوا انحصار: اس میں بڑے پیمانے پر اضافہ کیا گیا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ سیلز ٹیکس ہے، لیکن اسے دیگر ٹیکسوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس کے باعث یہ قابلِ تقسیم محاصل کے حصے سے باہر رہتا ہے۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں پیٹرولیم لیوی کا حصہ ایف بی آر کی مجموعی بجٹ شدہ سیلز ٹیکس وصولیوں کا 34 فیصد اور ایف بی آر کے مجموعی بجٹ شدہ ٹیکس محصولات کا 11 فیصد ہے۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتی اور اس کی دلیل بظاہر زیادہ قابلِ فہم نہیں۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ فعال مانیٹری پالیسی اقدامات اور مسلسل مالیاتی نظم و ضبط کے باعث اب تک عالمی بحران کے ملکی معیشت پر اثرات محدود رہے ہیں، تاہم جغرافیائی سیاسی پیشرفت نے مہنگائی کے منظرنامے کو سابقہ جائزے کے مقابلے میں مزید خراب کردیا ہے۔
پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے، جاری رسدی بحران کے ثانوی اثرات محدود کرنے اور مہنگائی کو درمیانی مدت کے 5 سے 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں لانے کیلئے کافی سمجھا گیا، تاہم درمیانی مدت کی مدت کبھی واضح نہیں کی گئی جس سے ایم پی سی کو گزشتہ کئی برسوں سے ہدفی دائرہ برقرار رکھنے کی گنجائش ملتی رہی ہے، حالانکہ مہنگائی کی شرح دہرے ہندسوں میں داخل ہوچکی ہے۔
یہاں کلیدی لفظ توقعات ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) رائے عامہ اور کاروباری رجحانات کے سروے پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ اپنے تازہ بیان میں اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا، تاہم کاروباری اداروں کی توقعات میں کمی آئی جبکہ دونوں کے اعتماد کے اشاریے کمزور ہوئے۔
بیان میں شاید اس حقیقت کا ذکر نہیں کیا گیا کہ عالمی بینک کی پاکستان سے متعلق حالیہ ترقیاتی رپورٹ کے مطابق غربت کی شرح 2018-19 میں 22 فیصد سے بڑھ کر 2024-25 میں 29 فیصد ہو گئی جو محنت کشوں کی آمدن میں کمی، بلند مہنگائی اور سست اقتصادی نمو کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسرے الفاظ میں گھرانوں کے اعتماد میں کمی کی وجوہات صرف مہنگائی تک محدود نہیں جبکہ کاروباری اعتماد میں کمی کی ایک بڑی وجہ انتظامی اقدامات کے باعث مسابقتی صلاحیت کا مسلسل کمزور ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی عوامل، بالخصوص مشرق وسطیٰ کا تنازع بھی اس صورتحال پر اثرانداز ہورہا ہے۔
یہاں دو نکات کو اجاگر کرنا ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ زرمبادلہ ذخائر 21.5 ارب ڈالر تک پہنچنا، 2023 کی پہلی سہ ماہی میں 3 ارب ڈالر سے بھی کم ذخائر کے مقابلے میں بلاشبہ ایک نمایاں بہتری ہے۔ تاہم کثیرالجہتی مالیاتی اداروں اور ماہرینِ معاشیات کے مقرر کردہ کم از کم معیار کے مطابق زرمبادلہ ذخائر اتنے ہونے چاہییں کہ تین ماہ کی درآمدات کا خرچ پورا کیا جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ زرمبادلہ کی مسلسل خریداری کے باعث اسٹیٹ بینک کے ذخائر 21.5 ارب ڈالر پر مستحکم رہے جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں خلیجی ممالک سے درآمد کی جانے والی متعدد اشیا، جن میں ایندھن اور کھادیں شامل ہیں، کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے پیش نظر اب زرمبادلہ ذخائر کی ضرورت ایک سال پہلے کے مقابلے میں بھی کہیں زیادہ ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے رواں سال مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.5 سے 4.5 فیصد رہنے کا تخمینہ پیش کیا ہے۔
ایک فیصد کے فرق کی گنجائش خاصی زیادہ ہے، جو اس حقیقت کی نشاندہی کرسکتی ہے کہ پاکستان میں اعدادوشمار کی شفافیت اب بھی کم ہے۔ بہرحال رواں سال پاکستان کی شرح نمو کے بارے میں آئی ایم ایف کا تخمینہ 3.5 فیصد اور عالمی بینک کا 3.8 فیصد ہے جبکہ بجٹ میں عموماً پرامید تصور کی جانے والی شرح نمو کا ہدف بھی صرف 4 فیصد رکھا گیا ہے۔
ایسی صورتِحال میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کی جانب سے شرح نمو کی بالائی حد 4.5 فیصد مقرر کرنے کا فیصلہ ناقابلِ فہم ہے۔
بیان میں درست طور پر نشاندہی کی گئی کہ عالمی سطح پر اجناس کی بلند قیمتوں، بین الاقوامی مالی حالات میں سختی اور رسد میں رکاوٹوں سمیت متعدد خطرات کے باعث معاشی منظرنامہ غیر یقینی صورتِحال سے دوچار رہ سکتا ہے۔ تاہم بیان میں یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ مہنگائی توقعات سے زیادہ بڑھنے کے خطرات میں توانائی نرخوں میں غیر متوقع ردوبدل، گندم اور اس سے متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور ناموافق موسمی حالات شامل ہیں۔ یہ نتیجہ شیکسپیئر کے مشہور ڈرامے جولیس سیزر کے اس مکالمے کی یاد دلاتا ہے: ’’پیارے بروٹس! قصور ہمارے ستاروں کا نہیں، بلکہ خود ہمارا ہے کہ ہم زیردست ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026