امریکا نے روسی تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا، بھارتی وزیر
- بھارت مقامی طلب پوری کرنے اور برآمدی وعدوں کی تکمیل کے لیے اپنی تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کررہا ہے، ہردیپ سنگھ پوری
بھارت کے وزیر پٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری نے منگل کو کہا ہے کہ امریکا نے روسی خام تیل کی درآمدات کم کرنے کے لیے بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔
ایک صنعتی تقریب کے دوران ان سے پوچھا گیا کہ کیا روسی تیل کی خریداری کم کرنے کے لیے امریکی دباؤ کا سامنا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا کوئی دباؤ محسوس نہیں ہوا۔
ہردیپ سنگھ پوری کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی فراہمی میں اضافہ ہورہا ہے، کیونکہ خطے کے ممالک اب زیادہ مقدار میں تیل برآمد کرنے کے قابل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یوکرین جنگ شروع ہونے سے قبل بھارت اپنی مجموعی تیل درآمدات کا صرف 0.2 فیصد روس سے حاصل کرتا تھا، تاہم جنگ کے بعد روسی تیل پر رعایتوں کے باعث اس کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق اعدادوشمار کے مطابق ستمبر میں بھارت کی مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی درآمدات بڑھ کر جنگ سے پہلے کی سطح پر آگئیں، جبکہ چین سے سخت مسابقت کے باعث بھارتی ریفائنریز نے روسی تیل کی خریداری کم کردی۔
بھارتی وزیر نے کہا کہ روسی تیل کی خریداری کا انحصار دیگر اقسام کے خام تیل کے مقابلے میں قیمت اور رعایت پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ریفائنریز رعایتی نرخوں پر دستیاب خلیجی تیل زیادہ خرید رہی ہیں، جس کے باعث روسی تیل کی درآمدات میں کمی آئی ہے۔
ہردیپ سنگھ پوری نے مزید کہا کہ بھارت مقامی طلب پوری کرنے اور برآمدی وعدوں کی تکمیل کے لیے اپنی تیل صاف کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کررہا ہے۔