جھینگوں کی فارمنگ کا لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے 120 دن کی ڈیڈ لائن مقرر
- یہ اقدام 24 ماہ پر مشتمل وسیع تر عملدرآمد اور جائزے کے منصوبے کا حصہ ہے
وزیراعظم کی جانب سے قائم کردہ ذیلی کمیٹی نے جھینگوں کی فارمنگ کے فروغ، ویلیو ایڈیشن میں بہتری اور برآمدات بڑھانے کیلئے لائحہ عمل تیار کرنے کی خاطر 120 دن کی ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے۔ یہ اقدام 24 ماہ پر مشتمل وسیع تر عملدرآمد اور جائزے کے منصوبے کا حصہ ہے۔
وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کی زیر صدارت آبی زراعت اور جھینگوں کی ویلیو چین سے متعلق ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں صوبائی ماہی پروری کے حکام اور متعلقہ وفاقی اداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں آبی زراعت کے شعبے کو ایک مسابقتی اور برآمدات پر مبنی صنعت میں تبدیل کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی تیار کرنے پر غور کیا گیا۔
کمیٹی تصدیق شدہ اعدادوشمار اور متعلقہ فریقین کی سفارشات کی بنیاد پر جامع رپورٹ تیار کرے گی۔ اس عمل کے ذریعے شعبے کی موجودہ صورت حال کا بنیادی جائزہ لیا جائے گا، ویلیو چین میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کی جائے گی اور پیداوار، پراسیسنگ اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات تجویز کیے جائیں گے۔
ذیلی کمیٹی نے 14 رپورٹس اور برآمدات کے تخمینے تیار کرنے کے لیے سات تکنیکی ورکنگ گروپس اور ایک پروجیکشن و کاسٹنگ سیل کے قیام کی منظوری دے دی جبکہ متعلقہ اداروں کو ذمہ داریاں بھی سونپ دی گئیں۔ کمیٹی نے ڈیٹا جمع کرنے اور اس کی توثیق، ترجیحی مسائل کی نشاندہی، اصلاحاتی تجاویز کی تیاری اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک بھی منظور کیا۔
ابتدائی 14 روزہ ایکشن پلان کی منظوری بھی دے دی گئی جس کے تحت شریک اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی ذمہ داریاں مکمل کریں۔
اجلاس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے محکمہ ہائے ماہی پروری کے نمائندوں کے علاوہ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق اور وزارتِ بحری امور کے حکام نے شرکت کی۔
جنید انور چوہدری نے کہا کہ اس مشق کے ذریعے جھینگوں کی فارمنگ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور اس شعبے کو وسعت دینے، ویلیو ایڈیشن کو مضبوط بنانے اور برآمدات بڑھانے کے لیے قابلِ عمل حل تیار کیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر مہارتوں اور تجربات سے استفادہ کرے گی تاکہ جھینگوں کی فارمنگ کے شعبے میں ملک کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے مربوط حکمت عملی وضع کی جا سکے۔
پنجاب کے سیکریٹری برائے آبی زراعت و ماہی پروری رانا محمد سلیم افضل نے کہا کہ صوبائی حکومت جھینگوں کی فارمنگ کو وسعت دینے کے لیے کام کررہی ہے، تاہم ایک مؤثر ویلیو چین کا قیام بدستور ایک بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہیچریاں قائم کرنے کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔
سندھ کے سیکریٹری برائے لائیو اسٹاک و ماہی پروری نے بتایا کہ صوبے میں 3,500 ایکڑ پر جھینگوں کا فارم قائم کرنے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی تیار کی جا رہی ہے۔ انہوں نے ویلیو ایڈیشن اور مصنوعات کی سپلائی چین میں سراغ رسانی سے متعلق چیلنجز سے نمٹنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
اجلاس کے دیگر شرکا نے بھی جھینگوں کی پراسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدی مسابقت کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ اجلاس میں نامزدگیوں اور بنیادی اعداد و شمار جمع کرنے کے عمل میں پیشرفت، فارمز میں تیار کیے جانے والے جھینگوں سے متعلق مرتب شدہ بنیادی ڈیٹا، شناخت شدہ رکاوٹوں، ورکنگ گروپس کی سرگرمیوں، دستیاب شواہد میں موجود خلا اور خطرات کے ابتدائی جائزے سمیت مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔