✕

پاکستان اور امریکا نے دوطرفہ توانائی تعاون کو فروغ دینے کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا ہے، جن میں طویل مدتی توانائی فراہمی کے ممکنہ معاہدے اور ملک کے ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام میں سرمایہ کاری شامل ہے۔

پیر کے روز جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز کے مطابق، اس حوالے سے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور امریکی ناظم الامور نیٹلی اے بیکر کے درمیان ملاقات ہوئی۔

ملاقات کے دوران علی پرویز ملک نے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورت حال کے تناظر میں توانائی تحفظ یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے اقدامات سے نیٹلی اے بیکر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث ایندھن کی دستیابی کو درپیش چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔

نیٹلی اے بیکر نے مشکل علاقائی حالات کے باوجود ایندھن کی قلت سے بچنے اور اس کی فراہمی مؤثر انداز میں برقرار رکھنے پر پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے لیے جاری رابطوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام سے امریکی مالیاتی اداروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

نیٹلی اے بیکر نے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس کے ساتھ قریبی تعاون پر امریکا کی آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان میں امریکی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور طویل مدتی توانائی فراہمی کے معاہدوں کے قیام کے حوالے سے امید ظاہر کی۔ ان کے مطابق، ایسے معاہدے دونوں ممالک کے لیے مفید ثابت ہونے کے ساتھ امریکی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع بھی پیدا کرسکتے ہیں۔

ملاقات کے دوران پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے شرکا کو پاکستان کو مائع قدرتی گیس (ایل این جی) فراہم کرنے میں امریکی کمپنیوں کی دلچسپی سے آگاہ کیا۔

علی پرویز ملک نے امریکی کمپنیوں کو آئندہ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم (پی ایم آئی ایف) میں شرکت کی دعوت بھی دی اور ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر نے امریکی تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان روابط میں اضافے سے توانائی کے شعبے میں تعاون مضبوط ہوگا اور پاکستان کے طویل مدتی توانائی تحفظ کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔