✕
کاروبار اور معیشت

چین کا امریکا سے بیرونِ ملک سرمایہ کاری پر پابندیاں بڑھانے کی مجوزہ توسیع روکنے کا مطالبہ

  • بیجنگ کا امریکا سے حساس ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری پر پابندیوں میں توسیع روکنے کا مطالبہ، تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے اور جوابی اقدامات کا انتباہ
شائع اپ ڈیٹ

چین کی وزارتِ تجارت نے ہفتے کے روز امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ چین میں امریکی سرمایہ کاری پر پابندیوں میں توسیع روک دے۔ وزارت کے مطابق حساس ٹیکنالوجی سے متعلق مجوزہ ضابطے سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات متاثر ہوں گے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کے روز بیرونِ ملک سرمایہ کاری کے سکیورٹی پروگرام میں تبدیلیوں کی تجاویز پیش کیں، جن کے تحت پابندیوں کے دائرے میں آنے والے شعبوں میں بایوٹیکنالوجی کو شامل کرنے کے ساتھ اعلیٰ کارکردگی کی حامل کمپیوٹنگ اور ہائپرسونک نظاموں کا دائرہ بھی وسیع کیا جائے گا۔

چین کی وزارتِ تجارت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس تجویز کے ذریعے چین سے متعلق سرمایہ کاری پر پابندیوں کو ’’امتیازی انداز میں‘‘ وسیع کیا گیا ہے اور قدغنوں میں مزید سختی کی گئی ہے۔

وزارتِ تجارت نے مزید کہا کہ چین امریکی تجویز کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور اس نے غیر متعین جوابی اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھا ہے۔

بیجنگ نے یہ بھی کہا کہ اس تجویز سے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نقصان پہنچے گا اور یہ دونوں ممالک کے صدور کے درمیان طے پانے والے اتفاقِ رائے کے منافی ہے۔ دونوں صدور گزشتہ چھ ماہ کے دوران دو مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا اطلاق صرف چین تک محدود نہیں ہے۔ ان کا مقصد امریکی سرمائے کو ایسے غیر ملکی حریفوں کی جانب جانے سے روکنا ہے جو دوہرے استعمال کی حامل تزویراتی ٹیکنالوجیز تیار کر رہے ہیں اور جو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

امریکی پروگرام کے تحت چین سے متعلق سیمی کنڈکٹرز، کوانٹم ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بعض امریکی سرمایہ کاریوں پر پہلے ہی پابندیاں عائد ہیں۔