وائٹ ہاؤس کا دعویٰ: میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان اولیشکی میں جنگ بندی کرائی
- خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ نے یوکرین کے شہر اولیشکی میں جنگ بندی کرانے میں کردار ادا کیا ہے، جس کا اطلاق 29 اکتوبر سے ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانا اور شہریوں کے محفوظ انخلا کو ممکن بنانا ہے
امریکی خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ نے روس کے زیرِ کنٹرول یوکرین کے شہر اولیشکی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کا آغاز 29 اکتوبر سے ہوگا۔ وائٹ ہاؤس نے جمعے کے روز یہ بات بتائی ہے۔
جنوبی یوکرین کے اس شہر پر فروری 2022 سے روسی افواج کا قبضہ ہے، جہاں کے رہائشیوں نے خوراک کے بحران میں شدت آنے کی اطلاعات دی ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ہے، ’’دونوں ممالک نے اولیشکی میں عارضی طور پر تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچائی جا سکے اور ایک مقررہ محفوظ راستے کے ذریعے شہریوں کے انخلا کی تیاری کی جا سکے۔‘‘
میلانیا ٹرمپ جنگ کے دوران روس کے قبضے میں لیے گئے یوکرینی بچوں کی ان کے اہلِ خانہ کے پاس واپسی کے لیے بھی سرگرم رہی ہیں۔
میلانیا ٹرمپ نے بیان میں کہا، ’’اولیشکی کی صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ یہ محاذِ جنگ پر واقع شہر ہے اور تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ اولیشکی میں باقی رہ جانے والی آبادی میں زیادہ تر بزرگ افراد شامل ہیں، جنہیں فوری طبی امداد، ادویات، خوراک اور صاف پانی کی اشد ضرورت ہے۔‘‘