✕
پاکستان

پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی، ترکیہ کا عمل جاری، دفتر خارجہ

  • معاہدے میں کسی خفیہ شق کی موجودگی کی تردید
شائع اپ ڈیٹ

دفتر خارجہ نے جمعے کے روز بتایا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کر لیا ہے. ترجمان نے کہا کہ ترکیہ اب بھی سہ فریقی معاہدے کو اپنے ملکی قانونی طریقہ کار کے تحت منظوری کے مراحل سے گزار رہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا، ’’پاکستان اور مملکت سعودی عرب توثیق کا عمل پہلے ہی مکمل کر چکے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے ملکی قانونی ڈھانچے کے مطابق ضروری کارروائی کر رہا ہے۔‘‘

یہ تصدیق ایسے وقت سامنے آئی ہے جب انقرہ نے معاہدے کی منظوری کے لیے اسے ترک پارلیمان میں پیش کر دیا ہے، جس کے بعد پہلی بار اس کا متن منظر عام پر آیا ہے۔ اسلام آباد نے تاحال معاہدے کا متن جاری نہیں کیا۔

کابینہ کی منظوری کے باوجود پاکستان میں معاہدے کا متن عام نہ کیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔

ترجمان کے مطابق، معاہدے کی توثیق اور اس پر عمل درآمد کے امور تینوں فریقوں کے درمیان زیرِ بحث ہیں، جن میں اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی بھی شامل ہے، جس کا آخری اجلاس 5 اکتوبر کو ہوا تھا۔

ترجمان نے ترک پارلیمان کی جانب سے جاری کردہ معاہدے کے 16 نکاتی متن کی توثیق کرتے ہوئے اس میں غیر اعلانیہ شقوں کی موجودگی کے تاثر کو مسترد کر دیا۔ ترجمان نے کہا، ’’اس میں کوئی خفیہ شقیں نہیں ہیں؛ معاہدے کی دفعات اور شقیں واضح اور صریح ہیں۔‘‘

معاہدے کی شق 2 کے تحت کسی بھی فریق پر بیرونی مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو بھی اس شق کے دائرے میں شامل کیے جانے سے متعلق سوال پر ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کی شق 51 سے مطابقت رکھتا ہے۔

ترجمان نے کہا، ’’اس معاہدے کا ہدف کوئی مخصوص ملک نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کی معاونت کی نوعیت اور دائرۂ کار کا فیصلہ تینوں ممالک حالات کا معروضی جائزہ لینے کے بعد اجتماعی طور پر کریں گے۔

اس حوالے سے مزید سوال پر ترجمان نے معاہدے کی اس شق کی جانب توجہ دلائی جس میں معاہدے کو فعال کرنے کا طریقۂ کار درج ہے۔ ان کے مطابق، اس ضمن میں کوئی بھی فیصلہ تینوں شراکت داروں کی صوابدید پر ہوگا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان ’’معاہدے کے الفاظ اور روح دونوں سے مکمل طور پر وابستہ ہے۔‘‘ انہوں نے معاہدے کو خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا۔