ایف بی آر اور وہی پرانا علاج!
- ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات کے ساتھ قومی ٹیکس عدالت کا قیام بھی ضروری ہے، عدالتی آزادی کے لیے ججوں کی تقرری، مدتِ ملازمت اور انتظامی معاملات کو ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کے اثر سے محفوظ رکھنا ہوگا
19 اکتوبر 2026 کو ہونے والی بریفنگ کے لیے وزیراعظم آفس نے خود ایف بی آر سے تنظیمِ نو کی تجاویز طلب کرلیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق حکومت نے نیا ادارہ بنانے کی تجویز ترک کردی اور اس کے بجائے عملے سے متعلق منصوبہ طلب کیا، ساتھ ہی اضافی عملے کو فارغ کرنے کے لیے قانونی اختیارات کی تجویز بھی سامنے آئی۔ یوں ادارے کی ازسرِنو تشکیل کا معاملہ سکڑ کر عملے کے انتظام تک محدود ہوگیا۔ اپنے ہی علاج کی تشخیص کے لیے افسران سے مشاورت کرنا احتساب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
دی نیوز کے مطابق حکام کا دعویٰ ہے کہ ٹیکس کا خلا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6 فیصد سے کم ہوکر 5 فیصد رہ گیا ہے، جبکہ معاہدے پر رکھے گئے 957 آڈیٹرز نے آڈٹ کی صلاحیت چار گنا بڑھا دی ہے۔ تاہم ٹیکس کے تخمینے میں کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اتنی رقم حقیقتاً وصول بھی ہوگئی۔ اسی طرح آڈیٹرز کی تعداد بڑھنا بہتر ٹیکس تخمینوں کا ثبوت نہیں۔ ان میں سے کوئی دعویٰ بھی یہ ثابت نہیں کرتا کہ اصلاحات کامیاب ہوگئی ہیں۔
سرکاری اداروں سے پیشگی ٹیکس وصولیوں کو ہی دیکھ لیں۔ پارلیمنٹ کو چاہیے کہ آڈٹ شدہ تفصیلات طلب کرے، جن میں وصول شدہ رقوم، قانونی واجبات، ادائیگیوں کی تاریخیں، مالی وسائل کے ذرائع اور بعد میں کی جانے والی ایڈجسٹمنٹس واضح ہوں۔
جب سرکاری خزانے سے جاری رقم کے ذریعے اداروں سے قبل از وقت ٹیکس ادا کروایا جاتا ہے تو عوامی رقم وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ سے نکل کر کسی ادارے کے ذریعے ٹیکس وصولیوں میں شامل ہوجاتی ہے، جو قابلِ تقسیم محاصل کے حصے میں بھی آتی ہے۔ اس سے رقم کی ادائیگی کے وقت اور وفاقی اکائیوں کے درمیان تقسیم میں تبدیلی آتی ہے لیکن اسے نئے ٹیکس محصولات جمع کرنے کی کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔ منافع کمانے والے سرکاری ادارے پر واجب الادا ٹیکس اس سے الگ معاملہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ پہلے سے موجود رقم کو گھما کر یا مستقبل کی وصولیوں کو آج کی انتظامی کامیابی بنا کر پیش کیا جائے۔
اسی طرح کی بے ایمانی اس وقت بھی سامنے آتی ہے جب کارکردگی کا جائزہ غیر ادا شدہ ٹیکس ریفنڈز کو نظرانداز کرکے لیا جائے۔ کوئی وصولی کرنے والا ادارہ دوسرے شخص کی رقم روک کر ماہانہ کارکردگی کے اعدادوشمار بہتر بنا سکتا ہے لیکن معیشت اس بنیاد پر ترقی نہیں کرسکتی۔
محصولات سے متعلق ہر دعوے میں واضح فرق ہونا چاہیے کہ اضافے کی وجہ بہتر ٹیکس تعمیل ہے، بلند شرحیں، مہنگائی، پیشگی وصولیاں یا ریفنڈز کی ادائیگی روکنا۔ جب تک ان عوامل کو الگ کرکے تفصیلات شائع نہیں کی جاتیں، محاصل میں اضافے کے خوش کن اعدادوشمار اصلاحات کی کامیابی کے بارے میں بہت کم بتاتے ہیں۔
یہی وہ نظام ہے جسے ہم ریونیوکریسی کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں، جہاں پالیسی کو آسان ترین طریقے سے زیادہ سے زیادہ وصولیاں کرنے کے تابع کردیا جاتا ہے۔ آجر، بینک، یوٹیلیٹی ادارے، درآمد کنندگان اور کاروباری ادارے ٹیکس وصولی کے کام انجام دیتے ہیں، جبکہ تعمیل کا بوجھ شہریوں پر پڑتا ہے۔ جو پہلے ہی حکومتی نظام کی نظروں میں ہیں، انہیں بار بار مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بااثر افراد دوسروں کے مقابلے میں تحفظ حاصل کرلیتے ہیں۔ اس نظام کو ڈیجیٹل بنانے سے وصولیوں کا عمل تیز تو ہوسکتا ہے، لیکن ٹیکس نظام لازماً منصفانہ یا معیشت کے لیے فائدہ مند نہیں بن جاتا۔
شبّر زیدی کا مضمون پی آر اے ایل لاؤ، ایف بی آر ہٹاؤ، جو 16 اکتوبر 2026 کو بزنس ریکارڈر میں شائع ہوا، پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پی آر اے ایل) پر بیوروکریسی کے کنٹرول کو چیلنج کرتا ہے۔ مضمون کے دوسرے حصے میں برازیل کے ایک الگ ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے کی مثال بھی دی گئی ہے۔
ماہر افرادی قوت کی صلاحیت میں اضافہ اور ٹیکس دہندگان سے براہِ راست رابطے میں کمی معقول اقدامات ہیں مگر مجوزہ اصلاحات کا نسخہ ابھی نامکمل ہے، کیونکہ اس میں وفاقی مالیاتی نظام، ٹیکس دہندگان کے قانونی ازالے اور قانونی اختیارات کے استعمال سے متعلق معاملات مناسب طور پر حل نہیں کیے گئے۔ برازیل کی سرکاری ہدایات کے مطابق وہاں بھی سالانہ مالیاتی گوشوارے جمع کرانا ضروری ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کے باوجود کمپنیوں کی سالانہ رپورٹنگ ختم نہیں ہوئی۔
شبّر زیدی کا یہ مؤقف بھی زیادہ قابلِ قبول نہیں کہ بنیادی مسئلہ پالیسی کے بجائے انتظامی نظام میں ہے۔ بااثر طبقات کو ٹیکس چھوٹ دینا، حقیقی آمدن سے غیر متعلق ٹیکس عائد کرنا، لین دین پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس کٹوتی اور غیر متوقع تبدیلیاں کرنا دراصل پالیسی کے فیصلے ہیں۔ بہتر انتظامی نظام بھی کسی ناقص ٹیکس قانون کو منصفانہ نہیں بنا سکتا۔ غیر منصفانہ قانون پر مؤثر عمل درآمد صرف ناانصافی کے عمل کو تیز کرتا ہے۔ اس لیے پالیسی اور انتظامی نظام دونوں کی بیک وقت اصلاح ضروری ہے۔
اسی طرح محض ایک کارپوریٹ بورڈ قائم کرنے سے عوامی احتساب یقینی نہیں ہوجاتا۔ ٹیکس کا تعین کون کرے گا، غلط معلومات کی اصلاح کون کرے گا، ٹیکس دہندگان کی خفیہ معلومات کا تحفظ کیسے ہوگا اور غیر قانونی وصولیوں سے متاثرہ افراد کو معاوضہ کون دے گا؟ ان سوالات کے جواب کے لیے قانون سازی، قابلِ نفاذ ذمہ داریوں اور آزادانہ عدالتی فیصلوں کا نظام درکار ہے۔ پی آر اے ایل تکنیکی ڈھانچہ فراہم کرسکتا ہے لیکن اس کی کارپوریٹ حیثیت آئینی بنیادوں پر قائم کسی قومی محاصل کے ادارے کا متبادل نہیں بن سکتی۔
ان لینڈ ریونیو سروس آفیسرز ایسوسی ایشن نے 19 اکتوبر کو ہڑتال کی کال دی تھی لیکن بعد میں یہ دھمکی واپس لے لی گئی۔ بیان اور ہڑتال کی کال کے معاملے پر تحقیقات کے لیے دو افسران کو معطل اور دو کو واپس بلا لیا گیا۔ یہ رپورٹ شدہ تادیبی اقدامات ہیں، بدعنوانی کے ثابت شدہ نتائج نہیں۔ افسران کے اپنے کیڈر کا تحفظ اصلاحات کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، لیکن اضافی عملے کو فارغ کرنے کا اختیار انتقامی کارروائی کے لیے بھی استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ شفاف معیار، منصفانہ سماعت اور مؤثر نظرثانی کا نظام دیانت دار افسران اور عوام، دونوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
اس مسئلے کا متبادل طویل عرصے سے موجود ہے۔ ہم نے 27 نومبر 2015 کو بزنس ریکارڈر میں شائع ہونے والے مضمون ’’قومی ٹیکس اتھارٹی کے حق میں دلائل‘‘ میں ٹیکس وصولی کے مربوط نظام کی حمایت کی تھی۔ ہماری کتابیں پاکستان میں ٹیکس اصلاحات : تاریخی و تنقیدی جائزہ‘‘ اور ’’وسیع البنیاد، یکساں، کم شرح اور قابلِ پیش گوئی ٹیکسوں کی جانب‘‘ بار بار سامنے آنے والی ناکامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ادارہ جاتی تنظیم نو کی تجاویز پیش کرتی ہیں۔ پاکستان کو تجاویز کی کمی کا سامنا نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ بااثر مفادات کو چیلنج کرنے والی اصلاحات پر عمل درآمد سے گریز کیا جاتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اتفاقِ رائے پیدا کرکے مناسب قانون سازی اور مرحلہ وار انضمام کے ذریعے قومی محاصل ایجنسی قائم کی جائے۔ اس میں وفاق اور صوبوں کو بامعنی نمائندگی، پیشہ ورانہ انتظامی قیادت اور تقرریوں کا شفاف نظام دیا جائے۔ ہر قانون ساز ادارے کے ٹیکس عائد کرنے کے اختیار اور ہر حکومت کے محصولات میں قانونی حصے کو برقرار رکھا جائے۔ قومی سطح پر انتظام کا مطلب مشترکہ ملکیت ہونا چاہیے، نہ کہ اسلام آباد کی جانب سے صوبائی ٹیکس نظام پر قبضہ۔ ابتدا مشترکہ رجسٹریشن، باہم مربوط ریکارڈ اور ٹیکس دہندگان کے لیے ایک ہی رابطہ نظام سے کی جاسکتی ہے، جبکہ اتفاقِ رائے سے ٹیکس گوشواروں اور آڈٹ کے طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کی جائے۔
اس ضمن میں کینیڈا کا وفاقی نظام ایک مفید مثال فراہم کرتا ہے۔ کینیڈا ریونیو ایجنسی وفاقی ٹیکسوں اور بیشتر صوبائی انکم ٹیکسوں کا انتظام کرتی ہے لیکن کیوبیک اور کارپوریٹ ٹیکس کے معاملے میں البرٹا سمیت بعض استثنا موجود ہیں۔ صوبے ٹیکس پالیسی سے متعلق اپنا اختیار برقرار رکھتے ہیں۔ ایجنسی کے 15 بورڈ ارکان میں سے 11 کو صوبے اور علاقے نامزد کرتے ہیں، جبکہ بورڈ کو ٹیکس قوانین کے نفاذ کی ہدایات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ پاکستان کو مشترکہ انتظام اور اختیارات کی حدود کے اس امتزاج سے سبق سیکھنا چاہیے۔
اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ کینیڈا ریونیو ایجنسی مختلف مراعات بھی فراہم کرتی ہے، جن میں کینیڈا چائلڈ بینیفٹ اور صوبائی پروگرام شامل ہیں۔ اس طرح ریاست اور شہری کے درمیان مالیاتی تعلق صرف ٹیکس وصولی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ شہریوں کے قانونی حقوق اور مالی فوائد کی فراہمی بھی اس کا حصہ بنتی ہے۔ پاکستان کی قومی محاصل ایجنسی کو بھی مرحلہ وار ٹیکس انتظام کو قانون کے تحت آمدن میں معاونت اور قابلِ واپسی ٹیکس کریڈٹس سے منسلک کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ فلاحی اداروں کے ساتھ رابطہ کاری، ذاتی معلومات کا تحفظ اور ڈیجیٹل سہولتوں سے محروم افراد کے لیے قابلِ رسائی خدمات برقرار رکھنا ضروری ہوگا۔ غریب گھرانے کو ریاست سے واسطہ پڑنے پر صرف بجلی کے بل میں کٹوتی کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ریاست کو اس کے جائز حق کی ضمانت بھی دینی چاہیے۔
ٹیکس وصولی کے نظام میں اصلاحات کے ساتھ قومی ٹیکس عدالت کا قیام بھی ضروری ہے۔ عدالتی آزادی کے لیے ججوں کی تقرری، مدتِ ملازمت اور انتظامی معاملات کو ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کے اثر سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ خصوصی بنچ، آسان طریقہ کار، وجوہات کے ساتھ شائع کیے جانے والے فیصلے، متناسب اخراجات اور قابلِ نفاذ ریفنڈ احکامات ٹیکس دہندگان کو مختلف اور پیچیدہ قانونی فورمز کے تھکا دینے والے چکر سے نجات دلا سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کو آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے عدالت کے اختیارات اور دائرۂ اختیار کا تعین کرنا ہوگا، جبکہ آئینی نظرثانی کا حق برقرار رہنا چاہیے۔ ٹیکس وصولی کے اختیارات بڑھانا، مگر انصاف تک رسائی مشکل بنائے رکھنا، ایک غیر مساوی تعلق میں طاقتور فریق کو مزید مضبوط کرنے کے مترادف ہوگا۔
ٹیکس پالیسی کا دائرۂ کار بھی اتنا ہی واضح ہونا چاہیے۔ ٹیکس کی بنیاد وسیع، شرحیں کم اور قابلِ پیش گوئی ہوں، بنیادی ضروریات پوری کرنے والی آمدن کا تحفظ کیا جائے اور بلاجواز مراعات ختم کی جائیں۔ ٹیکس کی شرحوں کا تعین محصولات کے تخمینوں اور معیشت پر ممکنہ اثرات کے شفاف جائزے کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ریفنڈز کے لیے بجٹ میں رقم مختص کی جائے اور انہیں بروقت ادا کیا جائے، جبکہ غیر قانونی تاخیر پر معاوضہ بھی دیا جائے۔ افسران کو ایسے ٹیکس مطالبات پر انعام نہیں ملنا چاہیے جو بعد میں کالعدم قرار دے دیے جائیں یا ایسی وصولیوں پر جو دباؤ ڈال کر حاصل کی گئی ہوں۔ ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرکاری اہلکاروں کی بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال پر قابلِ نفاذ سزائیں ضروری ہیں۔ ان پابندیوں کے بغیر ادارہ جاتی خودمختاری شہریوں کی قیمت پر من مانے اختیارات کے تحفظ کا ایک اور ذریعہ بن سکتی ہے۔
اصلاحات پر عمل درآمد کا آغاز ایک ایسے بنیادی جائزے سے ہونا چاہیے جس کی آزادانہ تصدیق کی گئی ہو۔ اس میں زیرِ التوا ریفنڈز، متنازع ٹیکس مطالبات، نظرثانی کے بعد منسوخ ہونے والے ٹیکس تخمینوں، ٹیکس تعمیل کے اخراجات اور پائیدار بنیادوں پر حاصل ہونے والے اضافی محصولات کی تفصیلات شامل ہوں۔ ہر اصلاحاتی منصوبے کے اخراجات اور نتائج شائع کیے جائیں۔ قانون سازی کے لیے واضح نظام الاوقات اور مرحلہ وار منتقلی کا منصوبہ بنایا جائے، جبکہ اہل عملے کو منصفانہ انتخاب اور دوبارہ تربیت کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جائے۔ پارلیمانی نگرانی کے تحت پالیسی سازی اور ٹیکس وصولی کے عمل کو الگ رکھا جائے۔ اصلاحات کی کامیابی کا اندازہ قانونی طریقے سے حاصل ہونے والے خالص محصولات، رضاکارانہ ٹیکس تعمیل، بروقت ریفنڈز اور قابلِ اجتناب تنازعات میں کمی سے لگایا جائے۔
وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ شواہد، صوبوں، ٹیکس دہندگان اور آزاد ماہرین کو ایک جگہ جمع کریں اور پھر ایف بی آر سے ان نتائج پر جواب طلب کریں۔ اسی پرانی ڈسپنسری سے ایک اور پریزنٹیشن لینے کا نتیجہ بھی اسی بیماری کے لیے ایک اور پرانا نسخہ ہوگا۔ پاکستان کو ایک ایسی قومی محاصل ایجنسی کی ضرورت ہے جو وفاق اور عوام کی خدمت کرے، ایک ایسی قومی ٹیکس عدالت کی جو شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے اور ایک ایسے قابلِ پیش گوئی ٹیکس نظام کی جو پیداواری معاشی سرگرمیوں کو فروغ دے۔
میر نے بہت پہلے اس صورتِ حال سے خبردار کردیا تھا۔ آخر ہم یہ سمجھنے سے پہلے کتنے مزید اصلاحاتی پیکجوں پر رقم خرچ کریں گے؟
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026