این بی پی سربراہ کی ماہانہ تنخواہ 95 لاکھ، 3 کروڑ کی لائف انشورنس اور دو گاڑیاں مقرر
- دیگر مراعات میں یوٹیلیٹی بلز، رہائش پر دو لینڈ لائن ٹیلی فون، دو موبائل فون اور ان کے ماہانہ بلوں کی اصل لاگت کی ادائیگی شامل
نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کے حصص یافتگان نے بینک کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) عمران سرور کے معاوضے کے پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق 9 ستمبر 2026ء کو ان کے عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے ہوگا۔
لسٹڈ بینک نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں ریگولیٹری فائلنگ کے ذریعے اس بارے میں آگاہ کیا۔
معاوضے کے پیکیج کی منظوری بینکس (نیشنلائزیشن) ایکٹ 1974ء کی دفعہ 11(3)(a) کے تحت دی گئی ہے جبکہ اس پر قابلِ اطلاق ٹیکسوں کی کٹوتی بھی ہوگی۔
2026ء سے 2029ء کے لیے منظور شدہ شرائط کے مطابق عمران سرور کو درج ذیل مراعات حاصل ہوں گی:
مجموعی ماہانہ تنخواہ 95 لاکھ روپے۔
سالانہ کارکردگی بونس: اہم کارکردگی اشاریوں (کے پی آئیز) کی بنیاد پر متغیر سالانہ بونس دیا جائے گا جن کی منظوری حصص یافتگان دیں گے اور بورڈ ان کا جائزہ لے گا۔
مکان کا کرایہ: رعایتی شرح پر ملازمتی ہاؤس لون کے متبادل کے طور پر ماہانہ 10 لاکھ روپے ہاؤس رینٹ الاؤنس دیا جائے گا۔
دیگر مراعات میں یوٹیلیٹی بلز، رہائش پر دو لینڈ لائن ٹیلی فون، دو موبائل فون اور ان کے ماہانہ بلوں کی اصل لاگت کی ادائیگی شامل ہے۔ ان کی رہائش گاہ پر 12، 12 گھنٹے کی شفٹوں میں چار سکیورٹی گارڈز تعینات کیے جائیں گے جبکہ پانچ گھریلو ملازمین کے اخراجات کی مد میں ماہانہ ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔
ریگولیٹری فائلنگ کے مطابق صدر اور سی ای او کو دو گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ ان میں سے ایک گاڑی 3,500 سی سی تک کی ہوگی جو ان کے لیے مختص گاڑی (اینٹائٹلمنٹ وہیکل) ہوگی جبکہ دوسری گاڑی بینک کے دستیاب گاڑیوں کے ذخیرے سے فراہم کی جائے گی۔
فائلنگ میں کہا گیا ہے کہ معاہدے کی مدت ختم ہونے پر صدر اور سی ای او کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنی مختص گاڑی کی قیمت یا اس کی تحریری طور پر درج شدہ قدر (رائٹن ڈاؤن ویلیو)، دونوں میں سے جو زیادہ ہو، اس کے 10 فیصد پر گاڑی خرید سکیں۔
انہیں دو ڈرائیور بھی فراہم کیے جائیں گے، بصورتِ دیگر ہر ڈرائیور کے لیے ماہانہ 45 ہزار روپے تنخواہ کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔
دیگر مراعات میں سالانہ 30 دن کی چھٹیاں اور سالانہ 18 دن کی اتفاقی یا بیماری کی چھٹیاں شامل ہیں۔ فائلنگ کے مطابق سالانہ چھٹیاں جمع کرکے زیادہ سے زیادہ 90 دن تک کی جاسکتی ہیں جن کے عوض آخری وصول کردہ مجموعی تنخواہ کی بنیاد پر رقم ادا کی جاسکے گی۔
اس کے علاوہ سی ای او کو رہائش گاہ پر جنریٹر کی سہولت فراہم کی جائے گی جس کی مالیت 15 لاکھ روپے تک ہوگی اور اس کی لاگت معاہدے کی مدت کے دوران مرحلہ وار شمار کی جائے گی۔ پاکستان میں ان کے اپنے اور زیرِ کفالت اہلِ خانہ کے طبی اور دانتوں کے علاج کے اخراجات اصل لاگت کے مطابق ادا کیے جائیں گے جب کہ معاہدے کی مدت کے دوران 3 کروڑ روپے کی لائف انشورنس بھی فراہم کی جائے گی۔
فائلنگ میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کی مدت کے دوران لائف انشورنس کا سالانہ پریمیم 50 فیصد صدر اور سی ای او جبکہ باقی 50 فیصد بینک ادا کرے گا۔
اس کے علاوہ سی ای او کو ہر سالِ ملازمت کے عوض آخری وصول کردہ مجموعی ماہانہ تنخواہ کے برابر گریجویٹی دی جائے گی جبکہ دو کلبوں کی رکنیت کی ابتدائی فیس اور تین کلبوں کے رکنیتی اخراجات بھی بینک ادا کرے گا۔
فائلنگ کے مطابق معاہدے کی مدت کے دوران معاوضے کا پیکیج برقرار رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔
ملازمت ختم ہونے کی صورت میں، اگر آجر معاہدے کی مدت پوری ہونے سے پہلے اسے ختم کرتا ہے تو منظور شدہ معاہدے کی قابلِ اطلاق شرائط کے مطابق صدر اور سی ای او کو معاہدے کی باقی ماندہ مدت کی ادائیگی کی جائے گی۔
استعفے کی صورت میں عمران سرور نوٹس کی مدت کے حصے کے طور پر تین ماہ کی گارڈننگ لیو پر جائیں گے، جس دوران ملازم باضابطہ طور پر ملازمت میں رہتا ہے لیکن معمول کی ذمہ داریاں انجام نہیں دیتا۔
عمران سرور کو 3 ستمبر 2026ء سے تین سال کی مدت کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) کا صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا تھا۔