خیبرپختونخوا میں بگڑتی سیکیورٹی صورتحال پر ایمرجنسی اور گورنر راج ناگزیر تھے، وزیراعظم
- ایپکس کمیٹی اجلاس میں وفاقی، صوبائی اور عسکری قیادت کی سیکیورٹی صورتحال اور انسدادِ دہشت گردی اقدامات پر مشاورت
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بگڑتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کی دوبارہ بڑھتی ہوئی لہر کے باعث یہ اقدامات ناگزیر ہوگئے تھے۔ انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کا الزام سابقہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر عائد کیا۔
ایپکس کمیٹی کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے باعث حکومت کو یہ اقدامات کرنا پڑے۔
انہوں نے سابقہ پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اقدامات نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو نقصان پہنچایا۔
وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم اور شہریوں کے تحفظ سمیت عوام سے متعلق بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے عوام کی حفاظت کو ترجیح نہ دینے کی مبینہ ناکامی کو قومی مفاد کے خلاف اقدام قرار دیا۔
شہباز شریف نے صوبائی پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے نظام میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت کے دور میں پولیس کی تقریباً 5 ہزار آسامیاں خالی رہیں۔ انہوں نے سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر، محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی صلاحیتوں میں خاطرخواہ بہتری نہ آنے اور پولیس کی تربیت کے لیے ناکافی اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پی ٹی آئی کے گزشتہ دونوں وزرائے اعلیٰ کو ہر ممکن وسائل فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی، تاہم ان کے بقول ان پیشکشوں پر عمل نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب اقدامات سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو تو حکومت خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسا مرحلہ آنا ضروری ہے جب اس طرزِ عمل کو ختم کیا جائے۔انہوں نے بتایا کہ صوبے کی صورتحال بہتر بنانے میں معاونت کے لیے ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی ہے۔
شہباز شریف نے گزشتہ آٹھ برس کے دوران ملک کی معاشی ترقی کا سہرا سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان تعاون کو بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے اور توانائی کے لیے درآمدات پر انحصار کے باوجود پاکستان نے معاشی استحکام برقرار رکھا۔ ان کے مطابق یہ کامیابی متعلقہ اداروں کے حکام کی محنت کا نتیجہ ہے۔
وزیراعظم نے اسکول کی چھت گرنے کے اس المناک واقعے کی شفاف تحقیقات کا حکم بھی دیا جس میں درجنوں بچے جاں بحق ہوئے۔ انہوں نے گورنر کو جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ صوبے میں امن کا قیام اور ترقی کو یقینی بنانا اولین ترجیحات ہیں اور صوبے کے عوام کو ان دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب ترجیحات واضح ہوں، ادارے ایک صفحے پر ہوں اور مقصد عوام کی خدمت ہو تو خیبرپختونخوا میں امن بھی قائم کیا جاسکتا ہے اور بیک وقت ترقی بھی ممکن ہے۔
گورنر نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع میں ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ان علاقوں کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔