توجہ برقرار رکھنا ضروری ہے
- بجلی کا شعبہ دہائیوں کے غیر مربوط فیصلوں کی قیمت ادا کر رہا ہے، بجلی پیداوار کے معاہدے طلب کے مستند تخمینوں کے بغیر ہوئے، ترسیلی نظام ضروریات سے پیچھے رہا، ایندھن پالیسیاں معاشی تقاضوں سے متصادم رہیں اور تقسیم کار کمپنیوں میں تجارتی نظم و ضبط کا فقدان رہا، نتیجتاً بجلی مہنگی، گردشی قرضہ بڑھا اور صنعتی مسابقت متاثر ہوئی۔
پاکستان کا بجلی کا شعبہ دہائیوں سے جاری غیر مربوط فیصلوں کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے معاہدے قابلِ اعتماد طلب کے تخمینوں کے بغیر کیے گئے، ترسیلی نظام بجلی کی ضروریات کے مطابق ترقی نہ کرسکا، ایندھن سے متعلق پالیسیاں بجلی کی معاشیات سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں اور تقسیم کار کمپنیوں کو مؤثر تجارتی نظم و ضبط سے مستثنیٰ رکھا گیا۔ نتیجتاً بجلی مہنگی ہوئی، گردشی قرضے میں اضافہ ہوا اور صنعتی شعبے کی مسابقت متاثر ہوئی۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ اصلاحات بالآخر اداروں، سرمایہ کاری کے فیصلوں اور تجارتی ترغیبات میں ہم آہنگی پیدا کرسکیں گی؟
کئی برسوں سے توانائی کے شعبے کو تکنیکی، مالی اور ادارہ جاتی مسائل پر مسلسل اور تفصیلی توجہ کی ضرورت رہی ہے، نہ کہ وقتی اقدامات یا وسیع پالیسی اعلانات کی۔ حالیہ کوششوں میں پرانے انتظامات کا ازسرِنو جائزہ لینے اور مستقبل کی سرمایہ کاری پر باریک بینی سے غور کرنے کا رجحان نمایاں ہوا ہے۔ یہ تبدیلی خوش آئند ہے، تاہم اس کی افادیت کا حتمی تعین قابلِ پیمائش بہتری اور دیرپا ادارہ جاتی اصلاحات سے ہوگا۔
سب سے زیادہ امید افزا اقدام توانائی کی مربوط منصوبہ بندی ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے گیس، بجلی، پیٹرولیم، ترسیلی نظام اور صنعتی توانائی کی طلب کو الگ الگ انتظامی شعبوں میں تقسیم کرکے دیکھتا رہا ہے، حالانکہ ایک شعبے کا ہر بڑا فیصلہ دوسرے شعبوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ایک مربوط منصوبے میں ایندھن، ٹیکنالوجی، نیٹ ورکس اور طلب کا یکساں بنیادوں پر کم سے کم لاگت کے اصول کے تحت موازنہ ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی منصوبے کی منظوری محض اس لیے نہ دے دی جائے کہ کسی ادارے نے قائل کرنے والی پریزنٹیشن تیار کرلی ہے یا منصوبے کے حامی کو سیاسی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔
لیکن بنیادی طور پر منقسم ادارہ جاتی ڈھانچے میں مربوط منصوبہ بندی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ میں توانائی کے شعبے میں اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں، حکومتیں اکثر ادارہ جاتی ناکامی کا جواب ایک اور کمپنی، اتھارٹی، کمیٹی یا رابطہ کاری کے نظام کے قیام سے دیتی ہیں۔ اس سے اختیارات کی حدود ایک دوسرے سے متصادم ہوتی ہیں، اخراجات بڑھتے ہیں اور جواب دہی ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایک اور منصوبہ بندی کا ادارہ بنانا، جنہیں پہلے ہی مشترکہ مفروضوں پر کام کرنا چاہیے، انضمام نہیں بلکہ بیوروکریسی میں بے تحاشا اضافے کے مترادف ہے۔
اس رجحان کو روکنا ضروری ہے۔ موجودہ اداروں کا جائزہ لے کر دہرے کام کرنے والے اداروں کی نشاندہی کی جائے، غیر ضروری انتظامی سطحیں ختم کی جائیں اور اختیارات کے ساتھ جواب دہی بھی یقینی بنائی جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب حکومت مربوط توانائی منصوبہ بندی کا دعویٰ کرتی ہے تو نیپرا اور اوگرا الگ تھلگ ضابطہ کار اداروں کے طور پر کام جاری نہیں رکھ سکتے۔ بجلی کی قیمتیں، گیس کی تقسیم، ایل این جی کے معاہدے، ایندھن کی تبدیلی اور صنعتی طلب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے معاملات ہیں۔ کم از کم دونوں ریگولیٹرز کے لیے مشترکہ تخمینے، یکساں معاشی مفروضے اور مختلف شعبوں پر اثر انداز ہونے والے فیصلوں کا باضابطہ مشترکہ جائزہ ضروری ہے۔
طویل مدت میں ایک متحد اور حقیقی معنوں میں آزاد توانائی ریگولیٹر کے قیام کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے، بشرطیکہ متعلقہ شعبوں کی مہارت اور ضابطہ جاتی تحفظات برقرار رہیں۔
مربوط منصوبہ بندی کو صوابدیدی اختیارات مرکوز کرنے کا جواز نہیں بننا چاہیے۔ اس کے مفروضے عوام کے سامنے پیش کیے جائیں، سرمایہ کاری کی تجاویز کا آزادانہ جائزہ لیا جائے اور کم سے کم لاگت کی سفارشات سے انحراف کی صورت میں اس کی وجوہات واضح کی جائیں۔ کامیابی کا پیمانہ محض منصوبہ تیار کرلینا نہیں، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا منصوبہ کسی ایسے معاشی طور پر ناقابلِ جواز منصوبے کو اس کی منظوری سے پہلے روک سکتا ہے، جس کی لاگت بعد میں ملک کو طویل عرصے تک برداشت کرنا پڑے۔
منصوبہ بند بجلی گھروں میں سرمایہ کاری کا جائزہ اور مہنگے بجلی معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات درست سمت میں اقدامات ہیں۔ ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ترقی نہیں بلکہ مالی بوجھ ہے لیکن معاہدوں میں تبدیلی سے ہونے والی بچت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے جبکہ گردشی قرضے کی ری فنانسنگ کو ان نقصانات کے خاتمے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے جن کی وجہ سے یہ قرض پیدا ہوا۔
تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کی تازہ درخواستیں اس خطرے کو نمایاں کرتی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے مالی سال 2027 کے لیے ٹیرف کی درخواست میں فی یونٹ قیمت 28.20 روپے سے بڑھا کر 43.54 روپے کرنے کی تجویز دی ہے، جو تقریباً 54 فیصد اضافہ بنتا ہے۔ یہ درخواست میں پیش کردہ اعدادوشمار ہیں، منظور شدہ یا ملک بھر میں نافذ صارفین کے نرخ نہیں۔ حتمی اثر نیپرا کے فیصلے اور متعلقہ ٹیرف انتظامات پر منحصر ہوگا۔
اس کے باوجود یہ تجویز ظاہر کرتی ہے کہ تقسیم کے شعبے کے حل طلب اخراجات توانائی کے دوسرے شعبوں میں حاصل ہونے والی بچت پر کیسے پانی پھیر سکتے ہیں۔ اگر اتنے بڑے اضافے کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا گیا تو صنعتی مسابقت، بجلی کی طلب اور گھریلو صارفین کی استطاعت پر سنگین اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ مزید صارفین متبادل ذرائع کی طرف جاسکتے ہیں، جس سے بجلی کے قومی نظام سے منسلک صارفین کی تعداد کم ہوگی اور مقررہ اخراجات کا بوجھ باقی صارفین پر بڑھ جائے گا۔ یوں ٹیرف میں اضافے کا ایک اور سلسلہ شروع ہوسکتا ہے۔
اسی لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ محض ملکیت کی تبدیلی کو اصلاحات قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر تحفظ یافتہ اجارہ داری رکھنے والی کمپنیوں کو بڑھا چڑھا کر ظاہر کیے گئے آمدنی کے حقوق، حل طلب سابقہ مالی واجبات یا کمزور کارکردگی کی شرائط کے ساتھ فروخت کیا گیا تو ان ہی خامیوں کو مزید تقویت مل سکتی ہے جنہیں ختم کرنا اصلاحاتی پروگرام کا مقصد ہے۔
حکومت کو فروخت کی مالیت بڑھانے کے لیے ماضی کے اخراجات صارفین پر منتقل نہیں کرنے چاہییں۔ نجکاری کے سودوں کا جائزہ اس بنیاد پر ہونا چاہیے کہ آیا ان سے بجلی کے نقصانات میں قابلِ نفاذ کمی، بلوں کی بہتر وصولی، خدمات کے معیار میں بہتری، سرمایہ کاری میں نظم و ضبط اور بجلی کے نیٹ ورک تک شفاف رسائی یقینی بنتی ہے یا نہیں، نہ کہ صرف یہ دیکھا جائے کہ قومی خزانے کو کتنی رقم حاصل ہوئی۔
بجلی کی منڈی کو مسابقت کے لیے کھولنے پر بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اگر بجلی کی ترسیل کے استعمال کے چارجز، کراس سبسڈی اور من مانے محصولات براہِ راست بجلی خریدنے کو غیر اقتصادی بنا دیں تو مسابقتی تجارت کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ مسابقت کا مقصد بجلی کی فراہمی کی حقیقی لاگت سامنے لانا اور اسے کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ موجودہ کمپنیوں کی آمدنی برقرار رکھنے کے لیے ایسا نظام تشکیل دینا۔ بصورتِ دیگر پاکستان اپنے اجارہ داری پر مبنی انتظامات کو صرف نیا نام دے رہا ہوگا۔
اس طرح اصلاحاتی پروگرام اپنے ہی مقاصد کو نقصان پہنچانے کا خطرہ رکھتا ہے۔ حکومت غیر ضروری بجلی منصوبے منسوخ کرکے رقم بچا سکتی ہے، لیکن تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کے مطالبات ان فوائد کو ختم کرسکتے ہیں۔ حکومت مربوط منصوبہ بندی کا وعدہ کرسکتی ہے، مگر اس کے ساتھ متداخل اختیارات رکھنے والے اداروں اور ایک دوسرے سے غیر ہم آہنگ ریگولیٹرز کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ اسی طرح مؤثر مسابقت اور جواب دہی کا نظام قائم کیے بغیر تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری بھی کی جاسکتی ہے۔ جب تک ان اقدامات کو ایک مربوط پروگرام کے طور پر ترتیب نہیں دیا جاتا، ہر اقدام دوسرے کی افادیت کمزور کرتا رہے گا۔
حالیہ اقدامات نے ان سوالات پر دوبارہ غور کا موقع فراہم کیا ہے جنہیں طویل عرصے سے نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ اصلاحات کے اگلے مرحلے میں کم، مگر واضح طور پر جواب دہ اداروں، ہم آہنگ ضابطہ کاری، کم سے کم لاگت پر مبنی قابلِ اعتماد منصوبہ بندی، تجارتی اصولوں کے پابند تقسیم کار اداروں اور ایسے ٹیرف کی ضرورت ہے جو ماضی کی ناکامیوں کا بوجھ صارفین پر ڈالنے کے بجائے کارکردگی میں بہتری کی حوصلہ افزائی کریں۔
پیش رفت کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا کم سے کم لاگت کے اصول پر پورا نہ اترنے والے منصوبے روکے جاتے ہیں، بجلی کی تقسیم کے نقصانات اور اخراجات میں کمی آتی ہے اور صنعتی و گھریلو صارفین کو پائیدار نرخوں پر زیادہ قابلِ اعتماد بجلی فراہم ہوتی ہے یا نہیں۔ کامیابی کو اس بنیاد پر نہیں ناپنا چاہیے کہ اعلیٰ حکام کو کتنے فیصلوں پر مسلسل توجہ دینا پڑ رہی ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026