تیل مہنگا ہونے سے سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد کمی
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.1 فیصد کمی کے بعد 4,094.90 ڈالر فی اونس پر آگئی
سونے کی قیمت میں جمعرات کو ایک فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جس کی وجہ تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باعث افراطِ زر کے خدشات میں اضافہ اور شرحِ سود طویل عرصے تک بلند رہنے کے امکانات ہیں۔ سرمایہ کار مستقبل کی مالیاتی پالیسی سے متعلق اشاروں کے لیے آئندہ ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کے اجلاس کے منتظر ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.1 فیصد کمی کے بعد 4,094.90 ڈالر فی اونس پر آگئی جو 14 اکتوبر کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی گولڈ فیوچرز کے نرخ بھی 0.9 فیصد گر کر 4,111.40 ڈالر فی اونس ہوگئے۔
او اے این ڈی اے کے سینئر مارکیٹ تجزیہ کار کیلون وونگ نے کہا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا تو افراطِ زر سے متعلق توقعات بڑھ سکتی ہیں جس سے طویل مدت تک شرحِ سود بلند رہنے کا امکان بڑھے گا اور سونے کی قیمتوں پر دباؤ پڑے گا۔
جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا، کیونکہ سعودی عرب میں حوثی باغیوں کے مزید حملوں کے بعد امریکا نے اپنے بعض سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو مملکت میں قائم سفارتی مشنز سے واپس جانے کی ہدایت کردی۔
اگرچہ توانائی کی بلند قیمتوں کے باعث افراطِ زر میں مسلسل اضافے نے سخت مالیاتی پالیسی کے حق میں دلائل کو تقویت دی، تاہم توقع ہے کہ فیڈرل ریزرو کے پالیسی ساز فی الحال محتاط رویہ برقرار رکھیں گے۔
سی ایم ای کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق ٹریڈرز آئندہ ہفتے 27 اور 28 اکتوبر کو ہونے والے فیڈرل ریزرو کے پالیسی اجلاس میں شرحِ سود بڑھائے جانے کا امکان صرف 16 فیصد دیکھ رہے ہیں، تاہم دسمبر میں شرحِ سود میں اضافے کا امکان 90 فیصد ظاہر کیا جارہا ہے۔
مارکیٹ کی نظریں آئندہ ہفتے جاری ہونے والے ذاتی کھپت کے اخراجات (پی سی ای) کے اعدادوشمار پر بھی مرکوز ہیں۔ یہ افراطِ زر کا ایک اہم پیمانہ ہے جس پر امریکی مرکزی بینک گہری نظر رکھتا ہے اور افراطِ زر کو 2 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھتا ہے۔
وونگ نے کہا کہ سرمایہ کار شرحِ سود میں قلیل اور طویل مدت، دونوں کے لیے بلند سطح برقرار رہنے کی توقع کر رہے ہیں جس سے سونے کی کشش کم ہو رہی ہے، کیونکہ سونا کوئی منافع یا سود نہیں دیتا اور اسے اپنے پاس رکھنے کی موقعی لاگت بڑھ جاتی ہے۔
تکنیکی تجزیے کے مطابق اسپاٹ گولڈ کی قیمت میں مزید کمی کا امکان ہے اور یہ 14 اکتوبر کی کم ترین سطح 4,073 ڈالر فی اونس کو ہدف بناسکتی ہے جس کا اشارہ ویج پیٹرن سے ملتا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے تکنیکی تجزیہ کار وانگ تاؤ کے مطابق سونے کی قیمت کو 4,135 ڈالر فی اونس پر مزاحمت کا سامنا ہے۔ اس سطح سے اوپر نکلنے کی صورت میں قیمت بڑھ کر 4,150 سے 4,169 ڈالر فی اونس کی حدود میں پہنچ سکتی ہے۔
دیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ سلور کی قیمت 2.6 فیصد کمی سے 56.44 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 2.1 فیصد گر کر 1,594.25 ڈالر فی اونس اور پیلیڈیم 2.6 فیصد کمی کے بعد 1,059.05 ڈالر فی اونس پر آگیا۔