ڈیٹا پرائیویسی سے متعلق صارفین کو گمراہ کرنے پر میٹا کو 25 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم
- جج فرانسس میتھیو نے قرار دیا کہ 219 ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کرنا مناسب ہوگا
نیو میکسیکو کے ایک جج نے بدھ کے روز میٹا پلیٹ فارمز کو 25 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ جیوری کی جانب سے اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد سنایا گیا کہ کمپنی نے صارفین کو گمراہ کیا تھا۔ یہ مقدمہ ان الزامات سے متعلق تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی انتخابی مہم میں شامل ایک سیاسی مشاورتی فرم نے لاکھوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا ان کی رضامندی کے بغیر حاصل کیا تھا۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریس نے کہا ہے کہ امریکی تاریخ میں یہ کمپنی کے خلاف کسی ایک ریاست کی جانب سے سنائے جانے والے سب سے بڑے، بلکہ ممکنہ طور پر سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے۔
جج فرانسس میتھیو نے فیصلے کے بعد اپنے حکم نامے میں لکھا، ’’فیس بک کی جانب سے برسوں تک کی جانے والی بدعنوانی، جسے منظم انداز میں عوام کے سامنے بھی لایا گیا، کمپنی کے بنیادی کاروباری طریقۂ کار سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔‘‘
جج فرانسس میتھیو کے مطابق ریاستی قانون کے تحت 219 ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کرنا مناسب تھا، تاہم انہوں نے یہ رقم کم کرکے 25 ارب ڈالر کر دی۔
میٹا کے ترجمان نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چھ دیگر ریاستوں نے مشاورتی فرم کیمبرج اینالیٹیکا سے متعلق اپنے مقدمات 45 کروڑ 92 لاکھ ڈالر میں طے کر لیے ہیں۔ یہ تصفیہ میٹا کی جانب سے اگست میں متعدد ریاستوں کے ساتھ کیے گئے 17 ارب 10 کروڑ ڈالر کے مجموعی تصفیے کا حصہ تھا، جس کے تحت کمپنی کے پلیٹ فارمز سے نوعمر افراد کی ذہنی صحت کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق ریاستوں کے دعوے نمٹائے گئے تھے۔
نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں میٹا کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ یہ اقدام ان انکشافات کے بعد کیا گیا کہ کیمبرج اینالیٹیکا نے ایک تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے فیس بک کے 8 کروڑ 70 لاکھ صارفین تک کا ذاتی ڈیٹا حاصل کیا تھا۔
ریاست نے میٹا پر الزام عائد کیا کہ اس نے نیو میکسیکو میں فیس بک صارفین سے اس بارے میں جھوٹ بولا کہ ان کے ڈیٹا تک کن افراد کو رسائی حاصل تھی، پلیٹ فارم پر نفرت انگیز تقاریر اور گمراہ کن معلومات سے نمٹنے کے لیے کمپنی کیا اقدامات کرتی ہے اور اس کی دیگر داخلی پالیسیاں کیا ہیں۔ ریاست کے مطابق، کمپنی جانتی تھی کہ تیسرے فریق کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک وسیع رسائی حاصل ہے، جبکہ کمپنی کے مالی مفادات پورے ہونے کی صورت میں وہ نفرت انگیز تقاریر اور دیگر نقصان دہ مواد کو برداشت کرتی تھی۔
کیمبرج اینالیٹیکا، جو اب اپنا کاروبار بند کر چکی ہے، نے 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیاب صدارتی انتخابی مہم کے لیے کام کیا تھا اور ووٹرز کی درجہ بندی اور انہیں ہدف بنانے کے لیے فیس بک کے لاکھوں اکاؤنٹس سے ذاتی معلومات تک رسائی حاصل کی تھی۔
اس مشاورتی فرم نے یہ معلومات صارفین کی رضامندی کے بغیر ایک محقق سے حاصل کی تھیں، جسے فیس بک نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ایسی ایپ چلانے کی اجازت دی تھی جو لاکھوں صارفین کا ڈیٹا جمع کرتی تھی۔
بدھ کے روز فیصلے کے بعد البوکرکی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راؤل ٹوریس نے کہا، ’’بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو جواب دہ ٹھہرانے کا انتظار طویل ہو چکا ہے۔ میرے خیال میں آج کا فیصلہ ماضی کی روش سے واضح انحراف اور اس شعبے سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے لیے ایک دوٹوک انتباہ ہے کہ ہم اپنے عوام اور صارفین کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔‘‘
ڈی اے ڈیوڈسن اینڈ کمپنی میں ٹیکنالوجی شعبے کے سربراہ اور تجزیہ کار گل لوریا نے اس فیصلے کو مالی طور پر بھاری قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس کے باوجود میٹا کی مالیت تقریباً دو کھرب ڈالر ہے اور امکان ہے کہ کمپنی ان مقدمات میں اپیل کرتی رہے گی اور انہیں طول دے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ مقدمات کے موجودہ سلسلے سے میٹا کی قدر پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے۔‘‘
صارفین کو رازداری کے معاملے پر گمراہ کیا گیا
25 ستمبر کو جیوری نے قرار دیا تھا کہ ان معاملات پر کمپنی اور اس کی قیادت کے 29 بیانات میں سے 26 گمراہ کن تھے۔ جیوری کے مطابق، کمپنی نے نیو میکسیکو کے صارفین کے تحفظ سے متعلق قوانین کی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد خلاف ورزیاں کیں۔ یہ تعداد ہر گمراہ کن بیان کے مخاطب فیس بک صارفین یا نیو میکسیکو کے رہائشیوں کی تعداد کی بنیاد پر متعین کی گئی تھی۔
راؤل ٹوریس نے فیصلے کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ریاستی قانون کے تحت ہر خلاف ورزی پر 5 ہزار ڈالر تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور جرمانے کی پوری رقم نیو میکسیکو کے تعلیمی نظام کو دی جانی ہے۔
یکم اکتوبر کو ہونے والی سماعت کے دوران نیو میکسیکو کی وکیل رینڈی میک گن نے جج فرانسس میتھیو سے ریاست کے لیے 35 ارب سے 40 ارب ڈالر تک جرمانہ مقرر کرنے کی درخواست کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی آئین میں منصفانہ قانونی کارروائی کے تحفظات اور جیوری کے فیصلے کی روشنی میں اس رقم کا جواز موجود ہے۔
میک گن نے کہا، ’’عدالت کو میٹا سے اسی زبان میں بات کرنی چاہیے جسے وہ سمجھتی ہے، اور وہ زبان پیسہ اور اس کے حصص کی قیمت ہے۔‘‘
عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں میٹا نے جج فرانسس میتھیو سے درخواست کی تھی کہ جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 3 ارب 45 کروڑ ڈالر مقرر کی جائے۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ اس سے زیادہ جرمانہ عائد کرنے سے کاروباری ادارے نیو میکسیکو میں سرمایہ کاری سے گریز کر سکتے ہیں۔
میٹا نے عدالتی دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا کہ شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ کمپنی صارفین کا ڈیٹا فروخت نہیں کرتی، جبکہ نیو میکسیکو یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہی کہ کسی صارف کو حقیقتاً گمراہ کیا گیا تھا۔
دونوں جیوریز نے ریاست کے حق میں فیصلہ دیا
یہ چھ ماہ کے دوران سانتا فے کی جیوری کی جانب سے میٹا پلیٹ فارمز کے خلاف نیو میکسیکو کی ریاست کے دائر کردہ مقدمے میں دیا جانے والا دوسرا فیصلہ ہے۔
مارچ میں ختم ہونے والے پہلے مقدمے میں سانتا فے کی جیوری نے قرار دیا تھا کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر کم عمر صارفین کے تحفظ کے حوالے سے صارفین کو گمراہ کیا۔ جیوری نے کمپنی کو 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سول جرمانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔
اسی مقدمے کے دوسرے مرحلے کے بعد ایک جج نے کمپنی کو نیو میکسیکو کے ایک فنڈ میں 56 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جمع کرانے کی ہدایت کی، جو نوعمر افراد کی ذہنی صحت کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ جج نے میٹا کو نیو میکسیکو میں نوعمر فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔