✕
دنیا

مصنوعی ذہانت سے سکیورٹی کی سنگین خامیاں بے نقاب، دنیا بھر میں ویب سائٹس بند

  • پی ایچ پی میں خامیوں کے باعث پاس ورڈ کے بغیر ویب سرورز کا کنٹرول سنبھالنے کا خدشہ، امریکی ایجنسی کی فوری اپ ڈیٹ یا متاثرہ نظام بند کرنے کی ہدایت، فرانس، نیدرلینڈز اور بیلجیئم میں احتیاطاً ویب سائٹس بند۔
شائع اپ ڈیٹ

دنیا بھر میں سرکاری اداروں اور کمپنیوں نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹس بند کر دیں، جب پی ایچ پی (PHP) میں سکیورٹی کی دو سنگین خامیاں سامنے آئیں۔ پی ایچ پی ایک پروگرامنگ زبان ہے جس پر انٹرنیٹ کے بڑے حصے کی بنیاد قائم ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) نے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر سکیورٹی خامیوں کو دور کرنے کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کریں یا متاثر ہونے کے خطرے سے دوچار نظاموں کو بند کر دیں۔

این ایس اے نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ خامیاں ’’اکثر سرور کے فائل سسٹم یا ڈیٹا بیس تک براہ راست رسائی کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔‘‘

حملہ آور ان خامیوں سے فائدہ اٹھا کر پاس ورڈ کے بغیر ویب سرورز کا کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔

پی ایچ پی ویب سائٹس کی تیاری کے مقبول پلیٹ فارمز کے بنیادی نظام کا حصہ ہے، اس لیے ان خامیوں سے متاثر ہونے کا خطرہ آن لائن اسٹورز اور نیوز ویب سائٹس سے لے کر سرکاری خدمات فراہم کرنے والی ویب سائٹس تک وسیع پیمانے پر موجود ہے۔

یہ خامیاں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی مدد سے سافٹ ویئر کی سکیورٹی خامیوں کی نشاندہی میں تیزی آ رہی ہے۔ 2026 میں سامنے آنے والی خامیوں کی تعداد گزشتہ سال کے ریکارڈ کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہونے کا امکان ہے۔

پی ایچ پی کے رضاکار ڈویلپرز نے بدھ کے روز ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ جاری کر دیا۔

پی ایچ پی فاؤنڈیشن نے اپنے بلاگ میں کہا ہے کہ ’’اگر آپ پی ایچ پی استعمال کرتے ہیں تو فوری طور پر اسے اپ ڈیٹ کرنا ناگزیر ہے۔‘‘ یہ فاؤنڈیشن اس پروگرامنگ زبان پر کام کرنے والے ڈویلپرز کی مالی معاونت کرتی ہے۔

ان خامیوں کی اطلاع اگست میں سائبر سکیورٹی فرم کیلیف (Calif) اور چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے دی تھی۔ دونوں نے ایک ہی روز آزادانہ طور پر ان کی نشاندہی کی تھی۔ بعد ازاں گوگل کی ملکیت سائبر سکیورٹی کمپنی وز (Wiz) نے ان خامیوں سے فائدہ اٹھانے کے مزید طریقوں کی نشاندہی کی۔

اس وقت ان خامیوں کی اطلاع خفیہ طور پر پی ایچ پی کے ڈویلپرز کو دے دی گئی تھی اور ان کی تفصیلات کو اس وقت تک منظر عام پر آنے سے روکے رکھا گیا جب تک ان کے تدارک کے لیے اپ ڈیٹ تیار نہیں ہو گیا۔

تاہم، طے شدہ اجرا سے ایک روز قبل، منگل کے روز ان خامیوں کی تفصیلات آن لائن لیک ہو گئیں، جس کے بعد ویب سائٹس کو ہنگامی طور پر بند کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

فرانس میں وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ فرانسیسی نیشنل سائبر سکیورٹی ایجنسی کی درخواست پر بدھ کی سہ پہر سے مقامی حکومتوں کی ویب سائٹس، بشمول پیرس پولیس پریفیکچر کی ویب سائٹ، دستیاب نہیں ہیں۔ یہ اقدام ’’سکیورٹی کی ایک سنگین خامی کی نشاندہی‘‘ کے بعد کیا گیا ہے۔

نیدرلینڈز میں احتیاطی تدبیر کے طور پر قومی ڈیجیٹل شناختی سروس ڈیجی ڈی (DigiD)، ایوانِ نمائندگان کی ویب سائٹ اور قومی سائبر سکیورٹی مرکز کی ویب سائٹ بند کر دی گئیں۔ ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے این او ایس کے مطابق یہ اقدام ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے لیے کیا گیا۔

بیلجیئم کی وزارت خارجہ نے بھی احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنی ویب سائٹس عارضی طور پر بند کر دیں۔ وزارت نے ایکس پر جاری بیان میں اس کی تصدیق کی، تاہم بیلجیئم کے سائبر سکیورٹی مرکز کے مطابق ملک کی ویب سائٹس پر کسی حملے کا پتا نہیں چلا تھا۔