کیا پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی کے اقدامات مؤثر ثابت ہو رہے ہیں؟
- کاروبار میں آسانی کی اصلاحات محض حکومتی اعلانات تک محدود نہیں رہنی چاہییں۔ کم مراحل، مؤثر سہولتوں اور ضابطہ جاتی مسائل کے فوری حل سے ہی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال اور معیشت مضبوط ہو سکتی ہے
پاکستان میں کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کے لیے اقدامات کی کمی نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران حکومت نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم کی، ضابطہ جاتی نظام کو جدید بنانے کے لیے کوششیں تیز کیں، آسان کاروبار‘ فریم ورک متعارف کرایا، کاروباری سہولت مراکز قائم کیے، ڈیجیٹل خدمات کو وسعت دی اور قومی سطح پر ون ونڈو پلیٹ فارمز کی جانب پیش رفت کی۔
اصولی طور پر یہ درست سمت میں اقدامات ہیں۔ تاہم کاروباری اداروں کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا واقعی کاروبار چلانا آسان ہوا ہے؟ سرمایہ کار کے لیے اصلاحات کی کامیابی کا پیمانہ قائم کی جانے والی کمیٹیوں کی تعداد، متعارف کرائے جانے والے پورٹلز یا نظرثانی شدہ ضوابط نہیں ہوتے۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ منظوری حاصل کرنے میں کتنے دن بچتے ہیں، کتنے محکموں کے چکر کم ہوتے ہیں، کتنے لائسنسوں کی تجدید سے نجات ملتی ہے، ٹیکس ریفنڈ کتنی جلدی ملتا ہے، معائنے کتنے قابلِ پیش گوئی ہوتے ہیں، بجلی اور گیس کے کنکشن کتنی قابلِ اعتماد طریقے سے ملتے ہیں اور کاروباری اداروں کو اس بات کا کتنا اعتماد ہوتا ہے کہ قواعد اچانک تبدیل نہیں ہوں گے۔
اس معیار پر دیکھا جائے تو پاکستان میں اصلاحات کا عمل ابھی جاری ہے، اگرچہ اس حوالے سے کچھ حقیقی پیش رفت بھی ہوئی ہے۔ پاکستان ریگولیٹری ریفارمز 2025 کے تحت غیر ضروری ضابطہ جاتی تقاضے ختم کیے گئے اور متعدد طریقہ کار کو ڈیجیٹل بنایا گیا۔ یہ اقدامات پاکستان ریگولیٹری ماڈرنائزیشن انیشی ایٹو (پی آر ایم آئی) کے وسیع تر اور متعدد مراحل پر مشتمل منصوبے کا حصہ تھے۔ اسی طرح ایس ای سی پی کے کمپنیز ریگولیشنز 2024 کے ذریعے کارپوریٹ قواعد کی تعمیل کو آسان بنایا گیا اور کمپنیوں کے لیے دستاویزات کی تیاری کا بوجھ کسی حد تک کم کیا گیا۔
حکومت نے سرکاری اداروں سے معاملات نمٹانے کے پیچیدہ طریقہ کار کو بھی کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ کاروباری سہولت مراکز کا مقصد متعدد منظوریوں اور خدمات کو ایک ہی جگہ فراہم کرنا ہے۔ پاکستان سنگل ونڈو نے تجارت سے متعلق طریقہ کار کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منتقل کرنے میں پیش رفت کی ہے۔ دوسری جانب ایس آئی ایف سی نے بڑے اور اہم سرمایہ کاروں کے لیے رابطہ کاری کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے تحت وفاقی اور صوبائی فیصلہ سازوں کو ایک جگہ جمع کرکے رکاوٹیں دور کرنے پر توجہ دی گئی، تاکہ سرمایہ کاروں کو خود مختلف محکموں کے چکر نہ لگانے پڑیں مگر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان تمام اقدامات میں سرمایہ کاری بورڈ کا کردار کیا رہ جاتا ہے؟
یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ اقدامات مفید ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ پاکستان کے اصلاحاتی ماڈل کی بنیادی کمزوری بھی نمایاں کرتے ہیں۔ ون ونڈو نظام اسی وقت مؤثر ثابت ہوسکتا ہے جب اس کے پیچھے واقعی ایک متحد طریقہ کار موجود ہو۔
متعدد محکموں کو ایک ہی عمارت میں جمع کردینے یا انہیں ایک ہی پورٹل سے منسلک کردینے سے اختیارات کی تکرار، ایک جیسی دستاویزات بار بار جمع کرانے کی شرط اور متعدد منظوریوں کا مسئلہ خودبخود ختم نہیں ہوجاتا۔ کاروبار قائم ہوجانے کے بعد اکثر مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ کاروباری اداروں کو اب بھی ایسے کاموں کے لیے متعدد اداروں سے رابطہ کرنا پڑتا ہے جنہیں ایک ہی مرحلے میں مکمل ہونا چاہیے۔ بہت سے طریقہ کار اب بھی جزوی طور پر ڈیجیٹل ہیں، جبکہ قوانین پر عمل درآمد کے معاملے میں صوابدیدی اختیارات کا استعمال بھی جاری ہے۔
یہ ایک اہم فرق ہے۔ کسی فارم کو ڈیجیٹل بنانا اور اس کے پیچھے موجود ضابطے میں اصلاح کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔حکومت کی اپنی اصلاحاتی کارکردگی بھی ظاہر کرتی ہے کہ ان اقدامات پر عمل درآمد کتنا مشکل ثابت ہوا ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے ضابطہ جاتی اصلاحات (سی سی او آر آر) کا اسکور کارڈ اب بھی عمل درآمد میں موجود خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
کمیٹی کی جانب سے مختلف شعبوں پر مشتمل سات پیکجز کے تحت منظور کردہ مجموعی طور پر 558 ضابطہ جاتی اصلاحات میں سے صرف 76 پر مکمل عمل درآمد ہوا ہے، جو تقریباً 13.6 فیصد بنتا ہے۔ مزید 232 اصلاحات پر عمل درآمد کا عمل طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے، جبکہ 243 اصلاحات کو 33 مختلف سرکاری محکموں اور اداروں میں مقررہ اہداف سے پیچھے قرار دیا گیا ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب مسئلہ یہ شناخت کرنا نہیں کہ کن امور میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے زیادہ تر مسائل کی نشاندہی پہلے ہی ہوچکی ہے۔ اصل مسئلہ ان اصلاحات پر عمل درآمد ہے۔
آسان کاروبار ایکٹ 2025 کا مقصد مرکزی ریگولیٹری رجسٹری اور ایک متحد ڈیجیٹل پاکستان بزنس پورٹل کے ذریعے کاروباری ضوابط کو آسان بنانا ہے۔ اس پورٹل پر لائسنسوں، اجازت ناموں اور منظوریوں سے متعلق سہولتیں فراہم کی جانی ہیں۔ تاہم مختلف نظاموں کو مکمل طور پر یکجا کرنے میں وقت لگے گا اور اس سلسلے میں اہم اہداف 2028 تک مقرر کیے گئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اصلاحات کا اگلا مرحلہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اب حکومت کو منظور شدہ اصلاحات کی تعداد بتانے کے بجائے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کاروباری اداروں کو واقعی جلد منظوری مل رہی ہے، اخراجات کم ہورہے ہیں اور غیر ضروری سرخ فیتے سے نجات مل رہی ہے۔
تعمیراتی منصوبے کی منظوری حاصل کرنے میں کتنے دن لگتے ہیں؟ صنعتی بجلی یا گیس کا کنکشن کتنی مدت میں فراہم کیا جاتا ہے؟ ٹیکس ریفنڈز کا کتنا فیصد مقررہ وقت کے اندر ادا کیا جاتا ہے؟ کتنی درخواستیں مقررہ مدت گزرنے کے باوجود زیرِ التوا ہیں؟ سرمایہ کاروں کی کتنی شکایات حل کی جاتی ہیں اور ان کے ازالے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ کتنے لائسنس حقیقتاً ختم کیے گئے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف انہیں آن لائن منتقل کردیا گیا ہو؟ اصلاحات کی کامیابی جانچنے کے لیے یہی وہ پیمانے ہیں جو اہمیت رکھتے ہیں۔
یہی اصول خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ ایس آئی ایف سی کی جانب سے سہولت فراہم کردہ سرمایہ کاری اور دی گئی مراعات کے حوالے سے سالانہ رپورٹ شائع کی جائے، جبکہ اس عمل کے اہم مراحل 2027 تک جاری رہیں گے۔ ایسی معلومات کی اشاعت سے توجہ محض سرمایہ کاری کے اعلانات کے بجائے حقیقی نتائج پر مرکوز کرنے میں مدد ملے گی۔
اسی طرح وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
پاکستان میں ایک عام کاروباری ادارے کو بیک وقت حکومت کی مختلف سطحوں سے معاملات نمٹانے پڑتے ہیں، جن میں ایف بی آر اور ایس ای سی پی جیسے وفاقی ادارے، صوبائی محکمے، مقامی حکام اور مختلف ریگولیٹری ادارے شامل ہیں۔ اس صورت حال کے باعث کاروباری ضوابط مختلف حصوں میں بٹے ہوئے ہیں، لہٰذا صرف وفاقی سطح پر اصلاحات سے مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔ مجوزہ قومی ریگولیٹری رجسٹری کا مقصد بالآخر ان تقاضوں کو ایک زیادہ مربوط نظام میں یکجا کرنا ہے لیکن جب تک صوبائی اور مقامی قواعد کو مکمل طور پر اس نظام میں شامل نہیں کیا جاتا، ملک میں متعدد ’ون ونڈو‘ پورٹلز تو موجود ہوں گے، لیکن ان کے پیچھے کام کرنے والا نظام بدستور منتشر اور متداخل رہے گا۔
پاکستان میں ضابطہ جاتی غیر یقینی صورت حال کی ایک مثال اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری میں 100 فیصد قابلِ ری سائیکل پی ای ٹی بوتلوں میں پیک مصنوعات پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات بھی ہیں۔ متعلقہ فریقوں سے مناسب مشاورت کے بغیر کیے جانے والے ایسے فیصلوں سے سپلائی چین متاثر ہونے، قواعد کی تعمیل کے اخراجات بڑھنے اور ری سائیکلنگ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورت حال شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور صنعت سے ابتدائی مشاورت کی اہمیت مزید بڑھا دیتی ہے، تاکہ ضوابط میں تسلسل برقرار رہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد قائم رہے۔
ٹیکس انتظامیہ بھی ایک اہم امتحان ہے۔ ریفنڈز میں تاخیر، آڈٹ کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال اور قواعد کی تعمیل کے پیچیدہ تقاضے اب بھی کاروباری اداروں کا وقت ضائع کرتے اور ان کے گردشی سرمائے کو روکے رکھتے ہیں۔ یہی وہ شعبے ہیں جہاں طریقہ کار آسان بنانے سے حقیقی فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ معائنے کے نظام میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ کاروباری اداروں کو مختلف سرکاری ایجنسیوں کے بار بار دوروں کا سامنا نہیں ہونا چاہیے، خصوصاً جب ہر ادارہ ان سے ایک ہی معلومات طلب کر رہا ہو۔
لہٰذا پاکستان کو لازمی طور پر ایک اور اصلاحاتی پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے سے موجود نظام مؤثر انداز میں کام کریں۔
اصلاحات کے اگلے مرحلے میں مقررہ مدت کے اندر خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے، مختلف اداروں کے ڈیٹا بیس کو باہم مربوط کرنے، منظوریوں کی تعداد کم کرنے، خطرات کی بنیاد پر ضوابط نافذ کرنے، جہاں مناسب ہو خودکار منظوری دینے اور عوامی ڈیش بورڈز متعارف کرانے پر توجہ دی جانی چاہیے۔ ان ڈیش بورڈز کے ذریعے یہ دیکھا جاسکے گا کہ کون سے ادارے اپنے طے شدہ اہداف پورے کر رہے ہیں۔
اس سے اصلاحات سے متعلق بحث کا رخ بدل جائے گا۔ اس کے بجائے کہ یہ پوچھا جائے کہ پاکستان نے کتنے اقدامات کا اعلان کیا ہے، اصل سوال یہ ہوگا کہ کاروباری اداروں کے کتنے وقت اور کتنے پیسے کی بچت ہوئی ہے اور ان کے لیے غیر یقینی صورت حال میں کتنی کمی آئی ہے۔
جب کاروباری ادارے کم مراحل اور زیادہ یقین دہانی کے ساتھ اپنا کاروبار شروع کرسکیں گے، اسے وسعت دینگے، درآمدات کرسکیں گے، ٹیکس ادا کرسکیں گے، بجلی اور گیس کے کنکشن حاصل اور ریفنڈز وصول کرسکیں گے اور ضابطہ جاتی مسائل حل کرسکیں گے، تب کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے کی اصلاحات حکومتی اعلانات سے آگے بڑھ کر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکیں گی۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026