عالمی بینک نے اپنی جائزہ رپورٹ میں 700 ملین ڈالر کے تکنیکی معاونت کے منصوبے پبلک ریسورسز فار انکلوژو ڈیولپمنٹ – ملٹی فیز پروگرامیٹک اپروچ کو 19 جون 2025 سے مؤثر قرار دیتے ہوئے اس کی کارکردگی کو تسلی بخش حد تک قرار دیا ہے۔
تکنیکی معاونت (ٹی اے) کے اس منصوبے کے کئی اجزا تھے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ جائزے میں کس جزو کی کارکردگی کا تعین کیا گیا۔ اس منصوبے کا ایک ہدف پاکستان میں ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب جون 2025 میں 10.3 فیصد سے بڑھانا تھا جس میں صرف ایف بی آر کی وصولیاں شامل تھیں جب کہ وفاقی اور صوبائی ٹیکس وصولیوں کو یکجا کرنے کی صورت میں یہ تناسب تقریباً 12.3 فیصد بنتا تھا۔ اسے جون 2030 کے اختتام تک 15 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے دو نکات اہم ہیں۔ اول، یہ واضح نہیں کہ وفاقی اور صوبائی ٹیکس وصولیوں کے مجموعی اعداد و شمار میں پیٹرولیم لیوی کو بھی شامل کیا گیا تھا یا نہیں۔ پیٹرولیم لیوی ایک سیلز ٹیکس ہے جسے دیگر ٹیکسوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے، ایف بی آر وصول نہیں کرتا اور اسی وجہ سے یہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت قابلِ تقسیم محاصل کے حصے میں بھی شامل نہیں ہوتا۔ دوم، یہ بھی واضح نہیں کہ ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب متعین کرنے کے لیے غیر ٹیکس آمدن کو بھی ٹیکس وصولیوں میں شامل کیا گیا تھا یا نہیں۔
اقتصادی سروے 2024-25 میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ مالی سال 2025 میں مجموعی آمدن جی ڈی پی کے 15.8 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال 2024 میں یہ شرح 12.6 فیصد تھی۔ اس بہتری میں ٹیکس اور غیر ٹیکس دونوں ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کا کردار تھا۔ ٹیکس آمدن جی ڈی پی کے 9.6 فیصد سے بڑھ کر 11.2 فیصد ہوگئی جبکہ غیر ٹیکس آمدن 3 فیصد سے بڑھ کر 4.6 فیصد تک پہنچ گئی، جو ملکی وسائل کو متحرک کرنے میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔ دوسری جانب جون 2026 کے اختتام تک ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جی ڈی پی کے 10.3 فیصد کے مساوی رہنے کا تخمینہ تھا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتری ظاہر کرتا ہے۔
اس کے باوجود ملک میں مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری پروگرام کے باعث محدود رہی ہے، جس میں سالانہ آمدن بڑھانے اور بجٹ خسارے کو پائیدار سطح پر رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی پر زور دیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت چینی، سیمنٹ اور کھاد سمیت تین مخصوص اشیا پر فیکٹری کی سطح پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں جس کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کردیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ملک میں غربت کی شرح بھی بڑھ رہی ہے جو عالمی بینک کے تخمینے کے مطابق 44.7 فیصد کی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یہ شرح سب صحارا افریقا میں رائج شرح سے بھی زیادہ ہے۔ اگرچہ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو محدود ہے، تاہم شرح نمو میں اضافے سے ٹیکس وصولیوں میں خودکار طور پر بہتری آسکتی ہے۔ حکومت نے جاری پروگرام کے تحت آئی ایم ایف مشن کے ساتھ محصولات کا ایک بلند ہدف مقرر کرنے کا عہد کیا ہے، تاہم بیرونی عوامل، بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جاری بحران نے بجٹ میں درآمدی محصولات پر انحصار کم کردیا ہے۔
اس کمی کے باعث بلاشبہ ایف بی آر کو نفاذی اقدامات کے ذریعے محصولات بڑھانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ چنانچہ مالی اصلاحات کا دائرہ موجودہ ٹیکسوں، بالخصوص بالواسطہ ٹیکسوں کے اطلاق کو وسعت دینے تک محدود رہا ہے، بجائے اس کے کہ ٹیکس وصولیاں افراد کی ادائیگی کی صلاحیت کے مطابق بڑھائی جائیں۔ زرعی آمدن پر ٹیکس وصولیاں جو آئین کے تحت صوبائی ٹیکس ہے، سیاسی مصلحتوں کے باعث انتہائی کم ہیں جبکہ تنخواہ دار طبقے سے ٹیکس وصولیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
چنانچہ ملک کا ٹیکس نظام بدستور بالواسطہ ٹیکسوں کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے جن کا بوجھ امیر طبقے کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ودہولڈنگ ٹیکسوں کو، جو سیلز ٹیکس کے طور پر عائد کیے جاتے ہیں، براہِ راست ٹیکسوں میں شمار کرنے کا طریقہ ترک کردے، باوجود اس کے کہ آڈیٹر جنرل پاکستان بھی اس عمل کے خلاف سفارش کر چکے ہیں۔ ٹیکس نظام میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت بدستور موجود ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایف بی آر براہِ راست ٹیکسوں کی مد میں وصولیاں بڑھانے کے لیے اقدامات شروع کرے گا۔