حوثی حملوں کے باعث خلل پھیلنے پر سعودی بلند عمارت کے دفاتر بند
- 99 منزلہ ٹاور میں آئندہ اطلاع تک گھر سے کام کرنا لازمی قرار دے دیا گیا
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی معروف 99 منزلہ عمارت کنگڈم سینٹر نے سکیورٹی خدشات کے باعث دفاتر کے تمام ملازمین کو اگلی اطلاع تک گھر سے کام کرنے کی ہدایت کردی۔
عمارت کی انتظامیہ نے ای میل میں کہا کہ فوری طور پر ریموٹ ورکنگ لازمی ہوگی اور ملازمین اس دوران دفاتر آنے سے گریز کریں گے۔ تاہم عمارت کے نچلے حصے میں واقع شاپنگ مال کھلا رہے گا۔ یہ فیصلہ دارالحکومت کے اطراف دو ڈرونز روکے جانے اور سکیورٹی الرٹ جاری ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ریاض اور گردونواح کے اسکولوں میں آن لائن تعلیم کا سلسلہ دوسرے ہفتے تک بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ گزشتہ ہفتے حملے میں 13 افراد کی ہلاکت کے بعد بند ہے۔
سعودی اتحاد نے یمن کی سرحد کے قریب نجران میں ہیلی کاپٹر کے دو پائلٹوں کی ہلاکت کی اطلاع دی اور وجہ تکنیکی خرابی بتائی۔ تاہم حوثیوں نے اسی علاقے میں سعودی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
اتحاد کے مطابق ریاض کے علاقے میں دو ڈرونز، مشرقی صوبے میں ایک ڈرون اور جنوبی سعودی عرب میں دو بیلسٹک میزائل روکے گئے۔
دوسری جانب حوثیوں کے حملوں اور بحری ناکہ بندی سے بحیرہ احمر میں تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ نے بھی سعودی عرب کی دفاعی مدد سے متعلق صدر عبدالفتاح السیسی کی درخواست پر بحث پیر تک ملتوی کردی۔