✕
دنیا

ٹرمپ نے نئے قانون کے تحت روس سے متعلق اہم پابندیاں اور ٹیرف نافذ ہونے سے پہلے ہی ختم کردیے

  • امریکی صدر نے روس پر پابندیوں سے چھوٹ دے دی، ماسکو کا خیرمقدم، امریکی قانون سازوں کی یوکرین سے بے وفائی پر تنقید
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ دستخط کیے گئے قانون کے تحت روس سے متعلق اہم امریکی پابندیوں اور محصولات کے نفاذ سے چند روز قبل ہی انہیں معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان اقدامات میں روسی مصنوعات پر محصولات اور روس سے تیل و گیس خریدنے پر عائد کی جانے والی پابندیاں بھی شامل تھیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ صدارتی حکم نامے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ چھوٹ امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔

اس قانون کا مقصد 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد ماسکو پر دباؤ بڑھانا تھا۔ تاہم ٹرمپ کے روس کے ساتھ تعلقات میں نرمی کے آثار سامنے آئے ہیں، جب تک وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی پر کھلے عام تنقید کرتے رہے ہیں اور یہاں تک کہہ چکے ہیں کہ کیف کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا میں وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل ان اقدامات سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ تھا۔ ان انتخابات میں ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ امریکی عوام پہلے ہی ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ سے منسوب بڑھتے اخراجات کا سامنا کررہے ہیں۔

کانگریس میں اس قانون کے اہم حامی، جنوبی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم تھے، جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ قانون کے تحت روسی خام تیل یا گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان سے امریکا آنے والی تمام اشیا پر 100 فیصد تک محصولات عائد کیے جانے تھے۔ ان ممالک کے علاوہ روس سے تیل یا گیس خریدنے والے کسی بھی ملک پر بھی یہ محصولات لاگو ہوسکتے تھے، بشرطیکہ خریداری قانون کے نفاذ کے 30 روز بعد بھی جاری رہتی۔ روس کو پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے پانچ بڑے ممالک کو بھی اس قانون کے دائرے میں شامل کیا گیا تھا۔

صدارتی حکم نامے کے مطابق یہ چھوٹ اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ٹرمپ یا ان کے اعلیٰ حکام یہ فیصلہ نہیں کرلیتے کہ مزید کارروائی ضروری ہے۔

ٹرمپ نے ستمبر کے وسط میں ’’لنڈسے او گراہم ایکٹ برائے روس اور ایران پر پابندیاں، 2026‘‘ پر دستخط کیے تھے۔ حکم نامے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کردیا ہے کہ اس وقت پابندیوں سے چھوٹ دینا امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔

روس سے بڑی مقدار میں تیل خریدنے والے چین اور بھارت نے اس قانون پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ بیجنگ نے کہا کہ وہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد کے بغیر دوسرے ممالک کے دائرہ اختیار کو توسیع دینے کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ بھارت نے خبردار کیا تھا کہ نئے محصولات دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرسکتے ہیں۔

قانون کے تحت صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کانگریس کو مطلع کرکے پابندیوں سے چھوٹ دے سکتے ہیں، اگر ان کے نزدیک یہ پابندیاں امریکا کے قومی مفاد میں نہ ہوں۔

ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس ڈان بائر نے ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے سامنے جھک رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا یہ تازہ اقدام یوکرین کے اتحادیوں سے ایک بار پھر بے وفائی اور روس کی جارحیت کو سزا دینے کے لیے منظور کردہ قانون کی واضح منشا کے خلاف ہے۔

ٹرمپ کو روس کے ساتھ حالیہ ڈیزل معاہدے پر بھی متعدد امریکی سینیٹرز، جن میں بعض ری پبلکن ارکان بھی شامل تھے، کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس معاہدے کے تحت امریکا نے روسی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے پر اتفاق کیا، جبکہ روس نے عالمی منڈیوں کو ڈیزل فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی، تاکہ ایندھن کی قیمتیں کم کی جاسکیں۔ معاہدے کے ناقدین کا کہنا تھا کہ اس سے روس کو جنگی اخراجات پورے کرنے میں مدد ملے گی۔

روسی صدر پیوٹن کے سرمایہ کاری امور کے ایلچی کریل دمتریئیف نے ٹرمپ کے فیصلے کو ’’واقعی ایک تاریخی لمحہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ قانون روس اور امریکا کے درمیان اقتصادی تعاون کو مؤثر طور پر مکمل طور پر روک سکتا تھا۔