ایف بی آر کا ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کیلئے طریقۂ کار بنانے کا حکم
- چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو راشد محمود لنگڑیال سے کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کی ملاقات
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) راشد محمود لنگڑیال نے کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) کی درخواست پر انکم ٹیکس ریفنڈز کی کارروائی تیز کرنے اور ان کی ادائیگی کے لیے مقررہ مدت کا طریقۂ کار وضع کرنے کی ہدایت کردی۔
کے ٹی بی اے کے مطابق ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایف بی آر کے دفتر میں چیئرمین سے ملاقات کی جس میں دونوں جانب کے سینئر نمائندوں نے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس ماہرین کو درپیش مسائل، ٹیکس پالیسی اور انتظامی امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ کے ٹی بی اے کے صدر محمود بکیہ نے ایسوسی ایشن کے ساتھ باقاعدہ رابطے اور مشاورت کے لیے ایف بی آر کے اقدام کو سراہا۔
مذاکرات میں مقیم اور غیر مقیم ٹیکس دہندگان کو سہولت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ کے ٹی بی اے نے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے ٹیکس دہندگان کو فی الحال اس بارے میں واضح آگاہی نہیں کہ اضافی ادا کردہ ٹیکس کب واپس کیے جائیں گے۔ کے ٹی بی اے کے مطابق چیئرمین ایف بی آر نے متعلقہ حکام کو ریفنڈز کی ادائیگی کے لیے مقررہ مدت پر مشتمل طریقۂ کار تیار کرنے کی ہدایت کی۔
ٹیکس بار نے ایف بی آر کو یہ بھی بتایا کہ متعدد ٹیکس دہندگان نے سیکشن 7 ای کے تحت ادا کردہ ٹیکس کی واپسی کے لیے اپنے گوشواروں میں ترمیم کی درخواستیں جمع کرائی تھیں، تاہم یہ درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ ایسوسی ایشن نے زور دیا کہ 23 ستمبر 2026 کے خط کے ذریعے جاری کردہ ہدایات پر ان کی روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کیا جائے۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے کے ٹی بی اے نے کہا کہ طریقۂ کار سے متعلق تقاضوں کو آسان بنایا جائے، ان کا اطلاق قانون کے مطابق ہو اور جہاں مناسب ہو، ان پر عمل درآمد کا بوجھ کم کیا جائے۔ ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ غیر مقیم ٹیکس دہندگان پر ایسی تعمیلی ذمہ داریاں عائد نہیں ہونی چاہییں جن کی قانون میں واضح طور پر صراحت نہ کی گئی ہو۔
ایسوسی ایشن نے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 25/2026 کے حوالے سے عملی مشکلات بھی اجاگر کیں۔ اس حکم نامے کے تحت رجسٹرڈ افراد کے لیے ایک ٹیکس دہندہ کے احاطے سے دوسرے کے احاطے میں سامان منتقل کرتے وقت مقررہ فارمیٹ میں اسٹاک ٹرانسفر نوٹ جاری کرنا لازم ہے۔ ایف بی آر حکام نے ان تحفظات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کا داخلی مشاورت کے ذریعے جائزہ لیا جائے گا۔
کے ٹی بی اے کے مطابق چیئرمین نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ کاروباری اداروں کو اپنے سامان اور ریکارڈز (تحویل میں ہونے کی وجہ سے) جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ سنگین ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ ان چیزوں کو جلد از جلد واگزار (ریلیز) کیا جانا چاہیے۔
کے ٹی بی اے نے مزید مطالبہ کیا کہ ایڈوانس انکم ٹیکس کی وصولی کے لیے سخت اقدامات شروع کرنے سے پہلے قانونی طریقۂ کار پر عمل کیا جائے اور ٹیکس دہندگان کو تعمیل کے لیے مناسب موقع اور کافی وقت دیا جائے۔
ٹیکس بار نے گوشواروں سے متعلق نوٹیفکیشنز کے اجرا میں تاخیر، آئی آر آئی ایس پورٹل پر مسلسل درپیش مسائل اور بڑی مقدار میں ڈیٹا اپ لوڈ کرنے میں مشکلات کی بھی نشاندہی کی۔