✕
پاکستان

پاکستان سمیت 19 مسلم ممالک کی یروشلم میں کولمبیا کا سفارت خانہ کھولنے کی مذمت

  • اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی قرار
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان اور 18 دیگر مسلم ممالک نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

کولمبیا نے بدھ کو یروشلم میں اپنا سفارت خانہ کھول دیا جس کے بعد وہ ایسا کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔ نئے صدر ابیلاردو ڈی لا ایسپریلا نے اپنے پیش رو کی اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کی پالیسی واپس لیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ بھی بحال کردیا ہے۔

پاکستان، الجزائر، جبوتی، مصر، انڈونیشیا، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، ملائیشیا، عمان، فلسطین، قطر، یمن، سعودی عرب، صومالیہ، شام، سوڈان اور ترکیہ نے یروشلم میں سفارت خانہ کھولنے کے اقدام کی مذمت کی ہے۔

جمعہ کو جاری مشترکہ بیان میں ان 19 ممالک کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ یروشلم کی قانونی یا تاریخی حیثیت تبدیل کرنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کو مسترد کردیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایسے اقدامات کالعدم اور بے اثر ہیں اور ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ اس ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص 1980 میں منظور کی گئی قراردادوں 476 اور 478 کا حوالہ دیا گیا۔

وزرائے خارجہ نے کہا کہ یروشلم 1967 میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقے کا حصہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں شہر کی شناخت یا حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا گیا ہے اور ممالک سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفارتی مشنز وہاں سے واپس بلائیں۔

وزرائے خارجہ نے کولمبیا کی حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے واپس لے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو متاثر کریں۔

انہوں نے فلسطینی عوام کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے قیام کے حق کی حمایت کا اعادہ بھی کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔