✕
کاروبار اور معیشت

پاکستان کا خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بی بی درجے تک پہنچنے کا ہدف

  • وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی فچ ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری لاتے ہوئے بی بی درجے تک پہنچنے کے لیے درکار شرائط کے بارے میں فچ ریٹنگز سے جائزہ طلب کرلیا ہے۔

اس سلسلے میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فچ ریٹنگز کے نمائندوں سے ملاقات کی جس میں ملک کی معاشی کارکردگی اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ ملاقات تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں 2026 کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان کی معاشی پیش رفت، مالیاتی استحکام اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں ملک کی پوزیشن بہتر بنانے کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر خزانہ نے امریکا کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور بی بی ریٹنگ کے درجے تک پہنچنے کے لیے درکار تقاضوں پر فچ سے رہنمائی طلب کی۔

اس سے قبل محمد اورنگزیب نے موڈیز کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں پاکستان کے معاشی منظرنامے اور خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں مزید بہتری کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

وزیر خزانہ نے عالمی کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کی دوبارہ رسائی، مالیاتی استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات اور مسلسل بنیادی مالیاتی سرپلس کو اجاگر کیا۔

انہوں نے مہنگائی کے رجحانات، زری پالیسی، شرح مبادلہ میں استحکام اور جاری کھاتے کے محدود خسارے سے متعلق صورت حال پر بھی روشنی ڈالی۔ اس موقع پر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے، مستقبل میں واجب الادا بیرونی ادائیگیوں کی ذمہ داریوں میں کمی اور معاشی دھچکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بیرونی مالیاتی تحفظات مضبوط بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی وفد نے قرضوں کی پائیداری میں بہتری، قرضوں کی ادائیگی پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی، قرضوں کی مدت میں اضافے اور دوطرفہ قرضوں کی تجدید سے متعلق یقین دہانیوں کو بھی نمایاں کیا۔ وفد نے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل، ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل درآمد اور برآمدات پر مبنی معاشی نمو کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

دریں اثنا، وزیر خزانہ نے کینیڈا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی رندیپ سرائے سے الگ ملاقات کی جس میں پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ محمد اورنگزیب نے کینیڈین سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے پر پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اعلامیے کے مطابق دونوں فریقوں نے زراعت، جدید زرعی ٹیکنالوجی، لائیو اسٹاک اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا اور ان شعبوں میں نجی شعبے کی شمولیت کی اہمیت اجاگر کی۔

ملاقات میں بیرک مائننگ منصوبے، اس کے سیکیورٹی جائزے، مالیاتی انتظامات اور برآمدات و روزگار میں اس کے ممکنہ کردار پر بھی گفتگو ہوئی۔

وزیر خزانہ نے آئی ٹی خدمات، مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مہارتوں، ورچوئل اثاثوں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے روابط بڑھانے کے مواقع کا بھی ذکر کیا۔ اس ضمن میں کینیڈا سے پاکستان کو ترسیلات زر میں اضافے کے امکانات پر بھی بات ہوئی۔

دونوں فریقوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں اور علاقائی تنازع کے توانائی، کھاد کی فراہمی اور عالمی غذائی تحفظ پر اثرات کا جائزہ لیا۔

وزیر خزانہ نے سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے کینیڈا کی امداد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے سیاحت کو بھی دوطرفہ تعاون کا ایک اہم شعبہ قرار دیا اور رندیپ سرائے کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔