✕
بی آر ریسرچ

گاڑیوں کی بڑھتی فروخت، آٹو پالیسی کہاں ہے؟

  • حکومت صنعت کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وقت لے رہی ہے، لیکن اس دوران صارفین اپنی پسند کا انتخاب کر رہے ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی نئی آٹو پالیسی تاحال منظرعام پر نہیں آئی، لیکن گاڑیوں کی فروخت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم طلب کی نوعیت میں تبدیلی آ رہی ہے۔ روایتی انٹرنل کمبشن انجن (آئی سی ای) والی گاڑیاں، خصوصاً تین جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ گاڑیاں، ایک بار پھر مقبولیت حاصل کر رہی ہیں، جبکہ نئی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں (این ای وی) کی مارکیٹ کے بعض حصوں کو ٹیکسوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ حکومت صنعت کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے میں وقت لے رہی ہے، لیکن اس دوران صارفین اپنی پسند کا انتخاب کر رہے ہیں۔

پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مسافر گاڑیوں، ایس یو ویز اور پک اپس کی فروخت سالانہ بنیادوں پر 19 فیصد اضافے سے 50,480 یونٹس تک پہنچ گئی۔ اس عرصے میں مسافر گاڑیوں کی فروخت 43 فیصد بڑھ کر 41,872 یونٹس ہو گئی، جس کے نتیجے میں رپورٹ شدہ مارکیٹ میں ان کا حصہ مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے 69 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں 83 فیصد ہو گیا۔ تینوں جاپانی کمپنیوں، سوزوکی، ٹویوٹا اور ہونڈا، کا مجموعی مارکیٹ شیئر بھی اسی عرصے میں 82 فیصد سے بڑھ کر 86 فیصد ہو گیا۔

تاہم پاما کے اعداد و شمار پوری صورت حال کی عکاسی نہیں کرتے۔ کئی اہم گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اور درآمد کنندگان ایسوسی ایشن کو اپنی فروخت کے اعداد و شمار فراہم نہیں کرتے، جن میں کیا، چنگان، اوموڈا اور جیکو، بی وائی ڈی، ایم جی اور جی اے سی شامل ہیں۔ بی آر ریسرچ کی جانب سے جمع کی گئی مارکیٹ کی معلومات کے مطابق ان کمپنیوں نے سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر تقریباً 20,000 گاڑیاں فروخت کیں، جن میں مکمل طور پر تیار شدہ درآمدی گاڑیاں (سی بی یو) بھی شامل ہیں۔ اس طرح پوری صنعت کی تخمینی فروخت تقریباً 70,000 یونٹس تک پہنچ جاتی ہے، جو صنعت کے سرکاری اعداد و شمار میں ریکارڈ کیے گئے حجم سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

سوزوکی 22,615 یونٹس کی رپورٹ شدہ فروخت کے ساتھ مارکیٹ میں سرفہرست ہے، جبکہ ٹویوٹا 13,260 یونٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ ہونڈا 7,401 یونٹس کی فروخت کے ساتھ تیسرے نمبر پر اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم چینی گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں سے اس کا مقابلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جاپانی کمپنیوں کو روایتی مسافر گاڑیوں کی فروخت میں بحالی سے فائدہ پہنچا ہے، جبکہ ٹیکسوں کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال نے بعض متبادل ٹیکنالوجیز سے چلنے والی گاڑیوں کو خریداروں کے لیے کم پُرکشش بنا دیا ہے۔

مختلف ماڈلز کی فروخت کے اعداد و شمار بھی خاصے اہم ہیں۔ سوزوکی آلٹو ملک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی برقرار ہے، جس کی فروخت مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں 42 فیصد اضافے سے 15,910 یونٹس ہو گئی۔ ٹویوٹا کرولا، یارس اور کرولا کراس کی مجموعی فروخت 43 فیصد بڑھ کر 10,925 یونٹس تک پہنچ گئی، جبکہ ہونڈا سِوک اور سٹی کی فروخت میں 86 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 7,103 یونٹس رہی۔ صنعت کی زیادہ تر توجہ برقی گاڑیوں کی جانب منتقلی پر مرکوز ہونے کے باوجود روایتی جاپانی ماڈلز اپنی مارکیٹ پوزیشن مزید مستحکم کر رہے ہیں۔

غیر جاپانی کمپنیوں میں چنگان سرفہرست ہے، جس کی سہ ماہی فروخت کا تخمینہ تقریباً 7,000 یونٹس ہے۔ اس کی ڈیپال ایس 05 ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آئی ہے اور کمپنی کی مجموعی فروخت میں اس کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ اس کے بعد نشاط گروپ کے چینی آٹوموٹیو منصوبے کے تحت تیار کی جانے والی اوموڈا اور جیکو کی باری آتی ہے، جن کی فروخت تقریباً 4,500 یونٹس رہی۔ بی وائی ڈی اور سازگار، دونوں نے 3,000 سے زائد گاڑیاں فروخت کیں، جبکہ ایم جی اپنے نئے ماڈلز کے ذریعے مارکیٹ میں جگہ بنا رہی ہے اور اس کی فروخت 2,000 یونٹس سے تجاوز کر گئی ہے۔

کوریائی برانڈز کی کارکردگی اس کے مقابلے میں خاصی کمزور ہے۔ کیا اور ہنڈائی نے سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر صرف تقریباً 3,200 گاڑیاں فروخت کیں، جن میں ہنڈائی کا حصہ تقریباً 70 فیصد تھا۔ لکی موٹر کی جانب سے کیا اور جی اے سی سمیت اپنے تمام برانڈز کے تحت فروخت کی جانے والی گاڑیوں کی تعداد 1,500 یونٹس سے کم رہی۔ نشاط گروپ کی صورت حال اس کے برعکس خاصی نمایاں ہے۔ جہاں اس کا ہنڈائی کا کاروبار مشکلات سے دوچار ہے، وہیں اس کے چینی آٹوموٹیو منصوبے کو مضبوط طلب حاصل ہو رہی ہے۔ مارکیٹ میں اب مقامی سطح پر گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی کی قومیت کے بجائے درست مصنوعات اور ٹیکنالوجی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔

سازگار کی صورت حال بھی دلچسپی کی حامل ہے۔ ٹینک متعارف کرانے میں کامیابی کے باوجود اس کی ہیول اور ٹینک گاڑیوں کی فروخت سالانہ بنیادوں پر تقریباً 12 فیصد کم ہو کر 3,137 یونٹس رہ گئی۔ مقابلہ سخت ہو گیا ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال بظاہر اس کے پہلے سے مقبول ماڈلز کی طلب کو متاثر کر رہی ہے۔ نئی گاڑیوں کے ماڈلز متعارف کرانے سے مدد تو مل رہی ہے، لیکن اس سے کمپنی کے دیگر ماڈلز کی فروخت میں کمزوری کی تلافی نہیں ہو پا رہی۔

اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نئی توانائی سے چلنے والی مختلف ٹیکنالوجیز کی مقبولیت میں کس طرح تبدیلی آ رہی ہے۔ پاکستان میں ابھی تک کوئی جامع عوامی ڈیٹا بیس موجود نہیں جو بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑیوں (بی ای وی)، توسیعی برقی رینج والی گاڑیوں (آر ای ای وی)، بیرونی ذریعے سے چارج ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای وی) اور روایتی ہائبرڈ گاڑیوں (ایچ ای وی) کے اعداد و شمار الگ الگ فراہم کرے۔

تاہم بی آر ریسرچ کے مارکیٹ تخمینوں کے مطابق مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں بی ای وی اور آر ای ای وی کی مجموعی فروخت تقریباً 6,000 یونٹس رہی، جن میں آر ای ای وی کا حصہ تقریباً نصف تھا۔ دوسری جانب پی ایچ ای وی کی فروخت تقریباً 3,500 یونٹس رہی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری سے جون 2026 کے دوران ان گاڑیوں کی ماہانہ اوسط فروخت کے مقابلے میں اب فروخت کی رفتار نمایاں طور پر کم ہو گئی ہے۔

طلب میں یہ فرق مکمل طور پر صارفین کی پسند کا نتیجہ نہیں ہے۔ ٹیکس پالیسی اس بات کا تعین کرنے میں ایک اہم عامل بن گئی ہے کہ کون سی ٹیکنالوجی سے چلنے والی گاڑیاں فروخت ہو رہی ہیں اور کن کی فروخت کی رفتار سست پڑ رہی ہے۔ مالی سال 2027 کے بجٹ سے قبل مقامی طور پر تیار کی جانے والی ہائبرڈ گاڑیوں پر رعایتی عمومی سیلز ٹیکس کی شرح تقریباً 8.5 سے 12.75 فیصد تھی۔ یہ رعایتیں جون میں ختم ہو گئیں، جس کے نتیجے میں قابلِ اطلاق ٹیکس کی شرح بڑھ کر 25 فیصد ہو گئی۔ بعد ازاں حکومت نے 2,000 سی سی تک انجن کی گنجائش رکھنے والی، مقررہ شرائط پر پورا اترنے والی مقامی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے ٹیکس کی شرح کم کرکے 18 فیصد کر دی، تاہم ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی مختلف اقسام پر ٹیکس کے اطلاق کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال اب بھی برقرار ہے۔

اب مارکیٹ کو آئندہ آٹو پالیسی کے تحت بیرونی ذریعے سے چارج ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں (پی ایچ ای وی) کے لیے مزید ٹیکس رعایتوں کی توقع ہے۔ اگرچہ ابھی تک کسی چیز کو باضابطہ طور پر حتمی شکل نہیں دی گئی، لیکن کم ٹیکس کی توقعات پہلے ہی کاروباری فیصلوں کو متاثر کر رہی ہیں۔ گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو پیداوار یا انوائسنگ مؤخر کرنے کی ترغیب مل رہی ہے، جبکہ ممکنہ خریدار بھی گاڑی خریدنے کے بجائے انتظار کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ نئی پالیسی کے اعلان کے بعد اس کی قیمت میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔ بعض خریدار اس کے بجائے متبادل گاڑیوں کا انتخاب کر رہے ہیں۔

بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑیاں (بی ای وی) اور توسیعی برقی رینج والی گاڑیاں (آر ای ای وی) نسبتاً زیادہ سازگار ٹیکس نظام کے تحت کام کر رہی ہیں۔ اہل گاڑیوں کے لیے ایک فیصد سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح میں مزید ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے، جبکہ ڈیوٹیز اور درآمدات سے متعلق دیگر مراعات بھی ان کے حق میں ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں نے ان ٹیکنالوجیز کے معاشی جواز کو مزید مضبوط کیا ہے، خصوصاً ان صورتوں میں جہاں گاڑی کی ابتدائی قیمت کا فرق اسے چلانے کے کم اخراجات سے پورا ہو جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بی وائی ڈی نے سہ ماہی کے دوران مکمل طور پر تیار شدہ درآمدی (سی بی یو) گاڑیوں کی تقریباً 2,500 یونٹس فروخت کیں، جبکہ چنگان کی مقامی طور پر تیار کردہ ڈیپال ایس 05 نے توسیعی برقی رینج والی گاڑیوں کے زمرے میں تقریباً اتنی ہی فروخت حاصل کی ہے۔

یہ فرق واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ گاڑیوں کی مختلف ٹیکنالوجیز کے درمیان طلب یکساں انداز میں کیوں تبدیل نہیں ہو رہی۔ روایتی جاپانی ماڈلز کو مجموعی طلب میں اضافے اور ٹیکس سے متعلق فوری پیچیدگیوں کی نسبتاً کم تعداد سے فائدہ پہنچ رہا ہے، جبکہ بی ای وی اور آر ای ای وی زیادہ سازگار مالیاتی مراعات سے فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ دوسری جانب پی ایچ ای وی اور بعض ہائبرڈ گاڑیاں موجودہ بلند ٹیکسوں اور مستقبل میں رعایت ملنے کی توقعات کے درمیان پھنسی ہوئی ہیں۔ اس لیے روایتی انٹرنل کمبشن انجن والی گاڑیوں کی فروخت میں بظاہر ہونے والے دوبارہ اضافے کو برقی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس معاملے میں پالیسی کا ایک وسیع تر تضاد بھی موجود ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں کے پیش نظر پاکستان کے پاس ایسی ٹیکنالوجیز کی حوصلہ افزائی کرنے کی معاشی وجہ موجود ہے جو ایندھن کی کھپت اور درآمدی تیل پر انحصار کم کرتی ہیں۔ تاہم غیر مستقل ٹیکس نظام اسی منتقلی کو متاثر کر رہا ہے جس کی حمایت کا حکومت دعویٰ کرتی ہے۔ بیٹری سے چلنے والی برقی گاڑیوں، توسیعی برقی رینج والی گاڑیوں، بیرونی ذریعے سے چارج ہونے والی ہائبرڈ گاڑیوں اور روایتی ہائبرڈ گاڑیوں کے درمیان فرق ٹیکنالوجی اور مالیاتی پالیسی، دونوں اعتبار سے اہم ہے، لیکن ان گاڑیوں پر ٹیکس کا اطلاق یکے بعد دیگرے دی جانے والی عارضی رعایتوں کے بجائے ایک مربوط اور طویل مدتی لائحۂ عمل کے تحت ہونا چاہیے۔

آٹو انڈسٹری اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے۔ چینی کمپنیوں نے نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائی ہیں اور ایسی مارکیٹ میں مقابلے کی شدت بڑھا دی ہے جس پر طویل عرصے سے جاپانی گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کا غلبہ رہا ہے۔ برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں میں صارفین کی دلچسپی واضح ہے، جبکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کو اس منتقلی کو مزید تقویت دینا چاہییں۔ تاہم گاڑیوں کی تیاری کی صلاحیت میں توسیع، مقامی سطح پر پرزوں کی تیاری اور نئے ماڈلز متعارف کرانے کے لیے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی موجودہ صورت حال سے کہیں زیادہ پالیسی استحکام اور یقین دہانی درکار ہے۔

نئی آٹو پالیسی میں مختلف ٹیکنالوجیز پر ٹیکس کے اطلاق کو حتمی شکل دینا اور مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں اور درآمدی گاڑیوں، دونوں کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی نظام فراہم کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر، سرمایہ کاری اور گاڑیوں کی خریداری سے متعلق فیصلے بنیادی طور پر مصنوعات کی معاشی افادیت کے بجائے اگلی ٹیکس رعایت کے بارے میں قیاس آرائیوں کی بنیاد پر ہوتے رہیں گے۔ پالیسی میں تاخیر پاکستانیوں کو گاڑیاں خریدنے سے نہیں روک رہی، بلکہ یہ تاخیر تیزی سے اس بات کا تعین کر رہی ہے کہ وہ کون سی گاڑیاں خریدیں گے۔