روس امریکا ڈیزل معاہدے سے مزید اقتصادی تعاون کی راہ ہموار ہوسکتی ہے، نمائندہ کریملن
- روس امریکا ڈیزل سپلائی معاہدے پر تنازع، پابندیوں کے باوجود مستقبل میں اقتصادی تعاون پر سوالات
کریملن کے نمائندے کیرل دمتریئیف نے کہا ہے کہ روس اور امریکا کے درمیان روسی ڈیزل کی فراہمی کا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان مزید اقتصادی تعاون کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پابندیوں سے متعلق تمام مشکلات پر قابو پالے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ جمعے کو کہا تھا کہ ان کی روسی ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے روسی ڈیزل امریکا اور عالمی منڈیوں کو فراہم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ٹرمپ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ملک میں ڈیزل کی قیمتیں کم کرنا چاہتے ہیں۔
اس معاہدے کے لیے امریکا کو روس پر عائد بعض پابندیاں نرم کرنا پڑیں، جس پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی حکام نے شدید تنقید کی۔
دمتریئیف نے کہا کہ یہ معاہدہ مستقبل میں مزید سمجھوتوں کے لیے مثال بن سکتا ہے اور روس امریکا کے ساتھ اقتصادی روابط جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ معاملہ صرف ڈیزل معاہدے تک محدود نہیں بلکہ امریکا کے ساتھ اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے متعدد مواقع موجود ہیں، جو روس، امریکا اور عالمی منڈیوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔