قریبی ہمسایہ، دور کی منڈی : دبئی کے ریسٹورنٹس میں پاکستان پیچھے کیوں؟
- پہلا مسئلہ دبئی کی نمائشوں پر بھاری اخراجات ہیں، جہاں کامیابی کو طویل مدتی معاہدوں کے بجائے پویلین کے حجم اور پریس ریلیزوں سے جانچا جاتا ہے، دوسرا مسئلہ ضوابط پر عمل درآمد میں کمی ہے
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش غذائی درآمدی منڈیوں میں شامل ہے۔ ملک کے ایک فیصد سے بھی کم رقبے پر قابلِ کاشت زمین موجود ہے، اسی لیے وہ اپنی خوراک کی 80 سے 90 فیصد ضروریات درآمد کرتا ہے۔ 2024 میں صارفین کے لیے تیار اشیائے خورونوش کی درآمدات 16.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ خوراک سے متعلق وسیع تر تجارت 9.34 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی۔
پاکستان اس مجموعی منڈی میں صرف 3.5 سے 4.5 فیصد حصہ رکھتا ہے، جو سالانہ تقریباً 600 سے 700 ملین امریکی ڈالر بنتا ہے۔ اقوام متحدہ کے کام ٹریڈ ڈیٹا کے مطابق اس میں گوشت کی برآمدات 191.21 ملین ڈالر، اناج 121.36 ملین ڈالر، سبزیاں 70.15 ملین ڈالر اور پھل 48.15 ملین ڈالر شامل ہیں۔
یہ اعداد و شمار برازیل اور بھارت جیسے حریفوں کے مقابلے میں واضح فرق ظاہر کرتے ہیں۔ برازیل کی برآمدات 1.34 ارب ڈالر جبکہ بھارت کی 1.09 ارب ڈالر ہیں۔ دبئی کے ریسٹورانٹس کا ایک معمولی جائزہ بھی ایک تشویش ناک تضاد سامنے لاتا ہے : مقامی سپلائی چین میں برازیلی پولٹری اور گائے کا گوشت نمایاں طور پر غالب ہے، حالانکہ دونوں ممالک کے درمیان لاجسٹک فاصلہ بہت زیادہ ہے۔
برازیل دنیا کے دوسرے سرے پر واقع ہے، یہ محض جغرافیائی قربت کا اتفاق ہے۔مارکیٹ شیئر بڑھانے کے لیے ریاست کو نمائشی بیوروکریٹک فروغ سے نکل کر سرد، نتائج پر مبنی کارکردگی کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔
جیسا کہ پاکستان کے تجارتی نظام کے پہلے آڈٹ میں تفصیل سے بیان کیا گیا، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) جیسے ادارے برآمدی فروغ کو ایک مسلسل رسمی سرگرمی سمجھتے ہیں، نہ کہ واضح اہداف اور اعداد و شمار پر مبنی حکمتِ عملی۔ بجٹ کا تقریباً نصف حصہ بیوروکریٹک اخراجات میں صرف ہونے کے باوجود سرمایہ کاری پر منافع (آراو آئی) کی پیمائش نہیں کی جاتی۔ متحدہ عرب امارات کی غذائی منڈی میں یہی ادارہ جاتی جمود تین نمایاں ناکامیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
پہلا مسئلہ پرتعیش نمائشوں کا جال ہے، جس کے تحت دبئی میں ہونے والی نمائشوں میں وفود بھیجنے پر لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ کامیابی کو طویل مدتی معاہدوں کو حتمی شکل دینے کے بجائے پویلین کے حجم اور پریس ریلیزوں کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے۔
دوسرا مسئلہ خودمختار ضوابط کی پاسداری میں کمی ہے۔ متحدہ عرب امارات اپنی قومی غذائی تحفظ حکمت عملی 2051 کے تحت غذائی شعبے کو باضابطہ شکل دے رہا ہے، جس کے لیے صحت و صفائی اور نباتاتی صحت سے متعلق معیارات (ایس پی ایس) پر عمل درآمد اور خوراک کی ترسیل کے دوران درجہ حرارت برقرار رکھنے والے قابلِ سراغ کولڈ چین نظام کا تقاضا کیا جا رہا ہے۔
برازیل نے مؤثر کولڈ چین لاجسٹکس اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ حفاظتی معیارات قائم کرکے جغرافیائی فاصلے کی رکاوٹ پر قابو پالیا، جبکہ پاکستانی برآمد کنندگان کو من مانے مقامی ضوابط اور ملکی سطح پر یکساں معیارات کے فقدان کا سامنا ہے۔
تیسرا مسئلہ عالمی ویلیو چینز میں عدم شمولیت ہے۔ متحدہ عرب امارات خوراک کی پراسیسنگ اور دوبارہ برآمد کا مرکز ہے، لیکن پاکستانی تجارتی مشیروں کی کارکردگی کو ٹھوس نتائج سے مشروط نہ کیے جانے کے باعث وہ پاکستانی خام زرعی پیداوار کو دبئی کی فوڈ ٹیک ویلی جیسے زیادہ منافع بخش مراکز سے منسلک کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
موجودہ صورت حال کو بدلنے اور متحدہ عرب امارات کی اربوں ڈالر مالیت کی غذائی منڈی میں دو ہندسوں پر مشتمل نمایاں حصہ حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو ادارہ جاتی جواب دہی کی بنیاد پر مقامی ضروریات سے ہم آہنگ اور ساختی نوعیت کی تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
اول، وزارتِ تجارت کو تجارتی سفارت کاروں کی کارکردگی جانچنے کا روایتی نظام ختم کرنا ہوگا۔ دبئی اور ابوظبی میں تعینات کمرشل قونصلرز کی کارکردگی اور مالی مراعات کو قابلِ تصدیق نتائج سے براہِ راست منسلک کیا جائے۔ ان نتائج میں زیادہ قدر رکھنے والی زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ، مثلاً بڑی مقدار میں خام گوشت کی برآمد سے تیار، ویکیوم پیک گوشت کی جانب منتقلی، نئے تصدیق شدہ خریداروں کا حصول، غیر محصولات رکاوٹوں کا خاتمہ اور بندرگاہوں سے کلیئرنس میں تاخیر دور کرنا شامل ہونا چاہیے۔
دوم، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف) سے تجارتی وفود کی شرکت پر خرچ ہونے والی ہر رقم کا سخت اور عوامی سطح پر دستیاب سرمایہ کاری پر منافع (آر او آئی) ٹیسٹ ہونا چاہیے۔ اگر سرکاری فنڈز سے کسی تجارتی نمائش میں شرکت کے نتیجے میں 180 دن کے اندر اس کی لاگت سے کم از کم دس گنا مالیت کے دستخط شدہ خریداری آرڈرز حاصل نہ ہوں تو متعلقہ شعبے کے فروغ کا طریقہ کار تبدیل کیا جائے یا اسے نجی شعبے کے حوالے کردیا جائے۔
سوم، پاکستان کو خام اجناس کی بڑی مقدار میں برآمد کے بجائے ویلیو ایڈڈ مصنوعات اور ان کی ویلیو چینز کی طرف منتقل ہونا ہوگا۔ اس وقت پاکستان کا برآمدی فائدہ خطرناک حد تک محدود ہے، جو خام گائے اور بھینس کے گوشت کے لاشوں اور بغیر برانڈ کے چاول کی بڑی بوریوں تک محدود ہے۔
اعلیٰ قیمت والی منڈیوں میں جگہ بنانے کے لیے حکومت کو ایسے پیچیدہ خصوصی ریگولیٹری احکامات (ایس آر اوز) ختم کرکے فوڈ پراسیسنگ کرنے والے اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوگی جو سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ٹیکسٹائل صنعت کاروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس کے بجائے واضح اور یکساں ٹیرف کوڈز متعارف کرائے جائیں، تاکہ فوڈ پراسیسرز جدید پیکجنگ مواد، کولڈ اسٹوریج ٹیکنالوجی اور جانچ کے آلات مکمل طور پر ڈیوٹی فری درآمد کرسکیں۔
آخر میں بین الاقوامی سفر پر سرکاری رقم خرچ کرنے کے بجائے فنڈز کو ملکی سطح پر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جانچ کی لیبارٹریوں اور کراچی، ملتان اور لاہور جیسے اہم برآمدی مراکز پر کولڈ چین انفرااسٹرکچر کے قیام پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی زرعی مصنوعات کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات (ایم او سی سی اے ای) کے سخت درآمدی ضوابط سے ہم آہنگ کرنے سے مشرقِ وسطیٰ کے خریداروں کے لیے خطرات کم ہوں گے اور پاکستان خلیجی خطے کے غذائی تحفظ کے نظام کا مستقل اور اہم حصہ بن سکے گا۔
دبئی کے ریسٹورنٹس میں نظر آنے والی تلخ حقیقت ثابت کرتی ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت کے بغیر جغرافیائی قربت کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ برازیل نے ثابت کیا ہے کہ مؤثر نظام ہزاروں میل پر پھیلے سمندری فاصلے کی رکاوٹ کو بھی شکست دے سکتا ہے، جبکہ پاکستان کی مثال ظاہر کرتی ہے کہ بیوروکریسی کی مکمل جمود پسندی جغرافیائی برتری کے بہترین موقع کو بھی ضائع کرسکتی ہے۔
روایتی رسمی تشہیر کی جگہ سخت نگرانی، آڈٹ اور قابلِ پیمائش نتائج پر مبنی کارکردگی کا نظام اپنا کر پاکستان بالآخر اپنے قریبی جغرافیائی محلِ وقوع کے فائدے سے بھرپور استفادہ کرسکتا ہے اور اپنے زرعی شعبے کو کم منافع پر گزارہ کرنے والے نظام سے ایک مؤثر اور مضبوط برآمدی شعبے میں تبدیل کرسکتا ہے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026