✕
ٹیکنالوجی

ایپل کا ہوم ویو متعارف، گھریلو آلات کو آواز کے ذریعے کنٹرول کرنے کی سہولت

  • ہوم ویو صارفین کو دروازوں کی گھنٹیوں، تھرموسٹیٹس اور اسمارٹ تالوں سمیت گھریلو آلات کنٹرول کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔
شائع اپ ڈیٹ

ایپل نے منگل کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بہتر بنائے گئے ورچوئل اسسٹنٹ سری کی مدد سے اسمارٹ ہوم مارکیٹ میں اپنی جگہ مضبوط بنانے کے لیے متعدد نئی مصنوعات متعارف کرادیں، جن میں 7 انچ اسکرین والا ہوم ویو ڈیوائس بھی شامل ہے، جس کی قیمت 299 ڈالر مقرر کی گئی ہے اور اس کی ترسیل آئندہ ماہ شروع ہوگی۔

ہوم ویو صارفین کو دروازوں کی گھنٹیوں، تھرموسٹیٹس اور اسمارٹ تالوں سمیت گھریلو آلات کنٹرول کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔ اس میں چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جس کے ذریعے مختلف صارفین کی شناخت کے مطابق اسکرین پر ایپلی کیشنز تبدیل ہوسکیں گی۔

ایپل کو اس شعبے میں ایمیزون اور گوگل جیسی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ ایمیزون اپنے ایکو اسپیکرز اور رنگ ڈور بیلز جبکہ گوگل اپنے نیسٹ ہب کے ذریعے پہلے ہی اسمارٹ ہوم مارکیٹ میں موجود ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سری کی صلاحیت اور مختلف کمپنیوں کے آلات کے ساتھ مطابقت ایپل کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔

ایپل نے ہوم ویو کے ساتھ اپنے ہوم پوڈ اسمارٹ اسپیکر اور ایپل ٹی وی آلات میں بھی بہتری متعارف کرائی ہے۔ کمپنی نے ایل جی اور شنائیڈر الیکٹرک کے تعاون سے ڈور بیلز، کیمروں اور تھرموسٹیٹس سمیت دیگر لوازمات بھی پیش کیے ہیں، جنہیں گھریلو نیٹ ورک سے منسلک کرنا آسان ہوگا۔

ایپل کے مطابق ہوم ویو کو دیوار پر نصب یا میز پر رکھا جاسکتا ہے۔ تاہم، پیغامات اور کیلنڈر سے متعلق ذاتی معلومات تک رسائی کے لیے صارف کے پاس حال ہی میں اَن لاک کیا گیا آئی فون ہونا اور اس کا اسی گھریلو نیٹ ورک سے منسلک ہونا ضروری ہے۔ یورپی یونین میں سری کی مصنوعی ذہانت کی سہولت دستیاب نہ ہونے کے باعث یہ ڈیوائس وہاں فروخت نہیں کی جائے گی۔

ایپل کی نئی مصنوعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب کمپنی اپنی ہارڈویئر فروخت بڑھانے اور منافع بخش سبسکرپشن خدمات سے آمدنی میں اضافے کی کوشش کررہی ہے۔ منگل کو کاروبار کے دوران ایپل کے حصص میں تقریباً ایک فیصد اضافہ ہوا، جبکہ رواں سال اب تک کمپنی کے حصص 25 فیصد بڑھ چکے ہیں۔