ٹیکسٹائل انڈسٹری نے درآمدی اشیا پر لیوی عائد کرنے کی مخالفت کردی
- اپٹما کا پنجاب حکومت سے 0.90 فیصد سیس کی وصولی روکنے کا مطالبہ، صنعتکاروں پر دہرا ٹیکس عائد ہونے کا خدشہ
پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات پر نیا انفرااسٹرکچر سیس عائد ہونے سے پیداواری لاگت میں اضافہ، برآمدات متاثر اور صوبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے صنعتی درآمدات پر پنجاب انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس کی وصولی معطل کرنے کی اپیل کی ہے۔
اپٹما کے چیئرمین اسد شفیع نے 9 اکتوبر 2026 کو لکھے گئے خط میں درآمدات پر 0.90 فیصد سیس عائد کرنے پر اعتراض کیا۔ ان کے مطابق یہ ٹیکس پنجاب کا پتا رکھنے والی درآمدات پر لاگو ہوگا، خواہ سامان دوسرے صوبوں کی بندرگاہوں سے کلیئر کرایا جائے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) نے یکم اکتوبر کو ای میل کے ذریعے اس اقدام سے آگاہ کیا تھا۔ اپٹما کا کہنا ہے کہ توانائی، قرضوں کی لاگت، ٹیکسوں اور کمزور طلب کے دباؤ سے دوچار صنعتوں کے لیے یہ اضافی بوجھ ہوگا۔
اسد شفیع نے کہا کہ سندھ کی بندرگاہوں سے آنے والی اشیا پر پہلے ہی سندھ انفرااسٹرکچر سیس وصول کیا جاتا ہے، ایسے میں پنجاب کا سیس بھی عائد کرنا دہرا ٹیکس ہوگا اور صوبے کی صنعتوں کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں نقصان پہنچائے گا۔
اپٹما کے مطابق ٹیکسٹائل ملیں درآمدی کپاس، مصنوعی ریشوں، رنگوں، کیمیکلز، پرزہ جات اور مشینری پر انحصار کرتی ہیں۔ اضافی ٹیکس سے پیداواری لاگت بڑھے گی، منافع میں کمی آئے گی اور پاکستانی برآمدکنندگان کی عالمی منڈی میں مسابقت متاثر ہوگی۔
ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ سے فوری مداخلت کرتے ہوئے صنعتکاروں اور چیمبرز آف کامرس سے مشاورت تک پی ایس ڈبلیو کے ذریعے سیس کی وصولی روکنے اور معاملے پر جلد ملاقات کا مطالبہ کیا ہے۔