ریاض ایئرپورٹ پر دھماکا، متعدد افراد زخمی، عینی شاہدین
- رواں ہفتے ریاض ایئرپورٹ پر دو بار حملے ہوچکے ہیں، جن میں چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے
ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے، جبکہ واقعے سے آگاہ دو افراد اور دو عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے بعض حصوں سے مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ اس نے دھماکا دیکھا، جس کے بعد ایئرپورٹ کے اندر متعدد افراد کو زمین پر زخمی حالت میں پڑے دیکھا۔ ایک درجن سے زائد ایمبولینسوں کو تیزی سے ایئرپورٹ کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
سعودی حکومت کے میڈیا آفس اور سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے واقعے پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔
ہفتے کا یہ واقعہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے مملکت پر میزائل حملوں میں اضافے کے دوران پیش آیا ہے۔ رواں ہفتے ایئرپورٹ پر پہلے ہی دو بار حملے ہوچکے ہیں، جن میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ایک طیارے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
پروازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق ریاض جانے والی تمام پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا تھا یا انہیں منسوخ کردیا گیا تھا، جبکہ ایک موقع پر ایئرپورٹ کے اوپر صرف ایک ہیلی کاپٹر پرواز کرتا دکھائی دیا۔
ایئرپورٹ انتظامیہ نے مسافروں پر زور دیا کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے متعلقہ ایئرلائنز سے براہِ راست رابطہ کریں اور اپنی پرواز کی صورتِ حال کی تصدیق کرلیں۔
کویت ایئرویز نے سعودی دارالحکومت ریاض آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والی پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ ایئرلائن کے مطابق، ریاض ایئرپورٹ پر ’’سیکیورٹی صورتحال‘‘ کے باعث ہوائی اڈہ بند کردیا گیا ہے۔
اس سے قبل اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز نے اپنے اپنے فضائی مراکز اور ریاض کے درمیان متعدد پروازیں منسوخ کردی تھیں، جبکہ بعض پروازوں کی منسوخی کا سلسلہ پیر تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
جمعرات اور رواں ہفتے کے اوائل میں حوثیوں کے حملوں کے بعد بھی متعدد ایئرلائنز نے سعودی دارالحکومت کے لیے اپنی پروازیں عارضی طور پر معطل یا منسوخ کردی تھیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ریاض میں توانائی اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم کانفرنسوں کا انعقاد قریب ہے۔
ان کانفرنسوں کے منتظمین نے ہفتے کو اعلان کیا کہ تقریبات طے شدہ شیڈول کے مطابق منعقد ہوں گی۔ انہوں نے شرکا کو سیکیورٹی کے حوالے سے اطمینان دلانے کی بھی کوشش کی۔
حوثیوں نے یمنی حکومت کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں ان کے خلاف کارروائی شروع کیے جانے کے بعد سعودی فضائی حدود کو فوجی کارروائیوں کا علاقہ قرار دیتے ہوئے مسافر طیاروں کو اس سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔