سرکاری اداروں کا 10.1 کھرب روپے قرض نیا بینک قرض نہیں، وزارتِ خزانہ
- وزارتِ خزانہ کے مطابق نئے یا اضافی قرضوں کا حجم صرف 164 ارب روپے رہا، باقی اضافہ پرانے حکومتی و غیر ملکی قرضوں، جمع شدہ منافع اور دیگر موجودہ واجبات کے باعث ہوا
وزارتِ خزانہ نے جمعرات کو سرکاری اداروں (ایس او ایز) کے قرض سے متعلق ایک میڈیا رپورٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں دو ایسے اعداد و شمار کا موازنہ کیا گیا ہے جو یکساں بنیاد پر مرتب نہیں کیے گئے، جس سے یہ غلط تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ سرکاری اداروں نے 1.3 کھرب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے ہیں۔
وزارت نے ’’سرکاری اداروں کا قرض بڑھ کر 10.1 کھرب روپے ہوگیا‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کے جواب میں جاری وضاحت میں کہا کہ وزارتِ خزانہ کے مرکزی مانیٹرنگ یونٹ (سی ایم یو) کی جانب سے رپورٹ کیا گیا 10.1 کھرب روپے کا حجم وفاقی سرکاری اداروں کی شرحِ سود پر مبنی مجموعی واجب الادا ذمہ داریوں کا مجموعی حجم ہے، جسے مالیاتی خطرات کی نگرانی کے لیے مرتب کیا جاتا ہے۔ یہ نئے بینک قرض لینے کی پیمائش نہیں ہے۔
وزارت کے مطابق رپورٹ میں پیش کردہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کا ڈیٹا ایک محدود پیمانہ ہے، جس میں صرف بینکاری نظام سے سرکاری شعبے کے اداروں کی جانب سے حاصل کیے گئے قرضے شامل ہیں۔
وضاحت کے مطابق ایس بی پی کے اعداد و شمار میں سرکاری شعبے کے اداروں کا بینک قرض 2.954 کھرب روپے ہے، جبکہ سی ایم یو کے وسیع تر پیمانے کے مطابق سرکاری اداروں کا مجموعی قرض 10.1 کھرب روپے ہے۔
وزارت نے کہا کہ دونوں ڈیٹا سیٹس کے دائرۂ کار، کوریج اور مقصد میں فرق ہے، اس لیے انہیں باہم یکجا نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق سی ایم یو کی رپورٹ کردہ تقریباً 10.1 کھرب روپے کی مجموعی واجب الادا رقم میں شامل ہیں:
- نقد ترقیاتی قرضے (سی ڈی ایل): 2.098 کھرب روپے
- دوبارہ قرض دیے گئے غیر ملکی قرضے (ایف آر ایل): 2.581 کھرب روپے
- بینک اور نجی قرضے: 3.102 کھرب روپے
- جمع شدہ منافع/رول اوور اخراجات: 2.181 کھرب روپے
- دیگر شرحِ سود پر مبنی واجبات، جن میں لیز اور استعمال کے حق سے متعلق واجبات شامل ہیں: 0.135 کھرب روپے
وزارت نے کہا کہ بینک اور نجی قرضے مجموعی رقم میں صرف تقریباً 3.1 کھرب روپے پر مشتمل ہیں۔ باقی رقم میں بنیادی طور پر حکومتی قرضے، دوبارہ قرض دیے گئے غیر ملکی قرضے، جمع شدہ منافع، رول اوور اخراجات اور دیگر شرحِ سود پر مبنی موجودہ واجبات شامل ہیں۔ اس نے کہا کہ سی ایم یو کی پوری رقم کو ایس بی پی کے بینکاری شعبے سے متعلق اعداد و شمار کے مساوی قرار دینا ’’طریقۂ کار کے لحاظ سے غلط‘‘ ہے۔
وزارتِ خزانہ نے سرکاری اداروں کے مجموعی قرض میں تقریباً 8.8 کھرب روپے سے بڑھ کر 10.1 کھرب روپے ہونے کی بھی وضاحت کی۔ اس نے کہا کہ اس اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ رپورٹنگ کے عرصے کے دوران سرکاری اداروں نے 1.3 کھرب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے۔ اس عرصے میں نئے یا اضافی قرضوں کا حجم صرف تقریباً 164 ارب روپے تھا۔
وزارت کے مطابق باقی اضافہ حکومت کی جانب سے پہلے سے فراہم کردہ قرضوں اور دوبارہ قرض دیے گئے غیر ملکی قرضوں میں تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ جمع شدہ منافع، رول اوور اخراجات اور دیگر موجودہ واجبات کے باعث ہوا۔
وزارت نے خبر کی سرخی اور اعداد و شمار کے موازنے کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں مالیاتی خطرات کی جامع پیمائش کو بینکاری شعبے کے محدود قرضوں کے پیمانے کے ساتھ خلط ملط کیا گیا ہے۔
اس نے مزید کہا کہ سی ایم یو کا فریم ورک دانستہ طور پر اس انداز میں تشکیل دیا گیا ہے کہ حکومت اور سرکاری اداروں سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی او ایس او ای) کو سرکاری اداروں کے قرضوں اور ان سے وابستہ مالیاتی خطرات کی زیادہ جامع تصویر فراہم کی جاسکے۔