حکومت مذاکرات کیلئے تیار، سیاسی عدم استحکام سے مطالبات تسلیم نہیں ہونگے، رانا ثناء اللہ
- پی ٹی آئی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے استعمال کررہی ہے، مشیر
وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے بدھ کو کہا کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر زور دیا کہ وہ لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپوزیشن، پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ عدم استحکام کی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کی راہ اختیار کرکے یا ریاستی امور میں خلل ڈال کر سیاسی مطالبات پورے نہیں کیے جاسکتے۔
رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی پر سیاسی عدم استحکام، عدم برداشت، نفرت اور نازیبا زبان کے فروغ کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی قیادت پر زور دیا کہ وہ سیاسی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دیں اور لانگ مارچ ختم کردیں۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی ٹی آئی عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں سرکاری وسائل اسلام آباد کی جانب مارچ کے لیے استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے عوام دہشت گردی سے متاثر ہیں جبکہ صوبائی حکومت کی توجہ لانگ مارچ پر مرکوز ہے۔
مشیر نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کو سیاسی محاذ آرائی کی پالیسی ترک کرکے مذاکرات کی میز پر آنے کی بارہا دعوت دی ہے، تاہم ریاست کو یرغمال بنا کر سیاسی مطالبات منوانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
سیکیورٹی کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت کے پاس دہشت گردی کے انسداد کے لیے پہلے ہی پالیسی موجود ہے اور وہ پوری قوت کے ساتھ اس پر عمل جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں اور خطرہ مکمل طور پر ختم ہونے تک یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔
رانا ثناء اللہ نے خیبر پختونخوا حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اب تک مذاکرات کو ترجیح دی ہے اور چاہتی ہے کہ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر صوبائی حکومت اپنے موجودہ طرزِ عمل پر قائم رہتی ہے تو وفاقی حکومت قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کرسکتی ہے۔
مشیر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے جاری لانگ مارچ کو عوامی حمایت کی وہ سطح حاصل نہیں ہوسکی جس کی اسے توقع تھی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے مارچ کو پُرامن اور آئینی دائرہ کار کے مطابق قرار دیا ہے۔