✕
دنیا

انتخابی احتجاج، راہول گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنما مختصر حراست میں

  • الیکشن کمیشن نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت یقینی بنانا ہے
شائع اپ ڈیٹ

بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو منگل کے روز ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر نظرثانی کے خلاف احتجاجی مارچ کے دوران پولیس نے مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کررہے تھے۔

اے ایف پی کے ایک رپورٹر کے مطابق راہول گاندھی پولیس کی رکاوٹ پر کھڑے ہوکر قومی پرچم لہراتے رہے۔ پولیس نے انہیں دیگر قانون سازوں کے ہمراہ حراست میں لیا تاہم کچھ دیر بعد رہا کردیا۔

اپوزیشن رہنماؤں نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر تنقید کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر کام کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے پسماندہ اور اقلیتی برادریاں، خصوصاً مسلمان زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نظرثانی کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت یقینی بنانا ہے۔

منگل کو اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر کی جانب مارچ کررہے تھے کہ پولیس نے انہیں روک دیا۔ بعد ازاں راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی واڈرا الیکشن کمیشن سے متصل سرکاری ریڈیو کے دفاتر میں بیٹھ گئے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ نریندر مودی نے ووٹ چوری کے ذریعے ملک کو یرغمال بنا لیا ہے۔