✕
کاروبار اور معیشت

مسابقتی کمیشن نے فاطمہ فرٹیلائزر کو ایگری ٹیک کے شیئرز خریدنے کی منظوری دے دی

  • سی سی پی کے جائزے میں یوریا مارکیٹ میں فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کے کاروبار میں افقی اوورلیپ کی نشاندہی
شائع اپ ڈیٹ

کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے فیز ون مسابقتی جائزہ مکمل کرتے ہوئے فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ کی جانب سے ایگری ٹیک لمیٹڈ کے شیئرز کے حصول سے متعلق ٹرانزیکشن کی منظوری دے دی۔

منگل کو جاری بیان کے مطابق ٹرانزیکشن کے تحت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایگری ٹیک کے شیئرز دو مراحل میں حاصل کیے گئے۔ پہلے مرحلے میں 2023 جبکہ دوسرے مرحلے میں 2024 میں اضافی شیئرز حاصل کیے گئے۔ سی سی پی نے جائزے کے دوران دونوں ٹرانزیکشنز کے ذریعے حاصل کیے گئے مجموعی شیئرز کا جائزہ لیا۔

فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ ایک لسٹڈ کمپنی ہے جو کھاد اور کیمیکلز کی تیاری، پیداوار، خرید و فروخت، درآمد اور برآمد کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ ایگری ٹیک لمیٹڈ بھی ایک لسٹڈ کمپنی ہے جو یوریا اور دانہ دار سنگل سپر فاسفیٹ (ایس ایس پی) کھاد کی پیداوار اور فروخت کرتی ہے۔

زرعی شعبے میں کھاد کی اہمیت کے پیش نظر سی سی پی نے جائزہ لیا کہ مذکورہ ٹرانزیکشن سے پاکستان کے کھاد سیکٹر میں مارکیٹ کے ڈھانچے، ارتکاز اور مسابقت پر کیا ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

سی سی پی نے یوریا اور ایس ایس پی کو متعلقہ مصنوعات کی مارکیٹیں جبکہ پاکستان کو متعلقہ جغرافیائی مارکیٹ قرار دیا۔ کمیشن نے فریقین اور ان کے حریفوں کی مارکیٹ پوزیشن کے ساتھ ساتھ ٹرانزیکشن کے مسابقت پر ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا۔

جائزے میں یوریا مارکیٹ میں فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک کے کاروبار میں افقی اوورلیپ کی نشاندہی ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں کمپنیوں کے مشترکہ مارکیٹ شیئر میں اضافہ ہوا۔ تاہم ایس ایس پی مارکیٹ میں فاطمہ فرٹیلائزر کا کوئی مارکیٹ شیئر نہیں تھا، اس لیے اس مارکیٹ میں ایگری ٹیک کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

جائزے کے دوران فاطمہ فرٹیلائزر نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ اس نے ایگری ٹیک میں اپنی تمام حصص داری فروخت کردی ہے اور اب کمپنی کا کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ چنانچہ کمیشن کے فیصلے کے وقت فاطمہ فرٹیلائزر کی ایگری ٹیک میں کوئی شیئر ہولڈنگ موجود نہیں تھی۔

مسابقتی جائزے اور اس پیش رفت کی روشنی میں سی سی پی نے نتیجہ اخذ کیا کہ مذکورہ ٹرانزیکشن سے متعلقہ مارکیٹوں میں مسابقت میں نمایاں کمی کا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔ ٹرانزیکشن سے مارکیٹ میں داخلے کی رکاوٹیں پیدا نہیں ہوئیں، فریقین کی مارکیٹ طاقت میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا اور نہ ہی کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کے تحت کسی غالب پوزیشن کا قیام یا اس کی مضبوطی عمل میں آئی۔

چنانچہ کمیشن نے کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 31(1)(d)(i) کے تحت ٹرانزیکشن کی منظوری دے دی۔سی سی پی نے کہا کہ کھاد جیسے شعبوں میں مؤثر انضمام و حصول کا کنٹرول خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ مسابقتی مارکیٹ کے حالات کے زرعی پیداوار، کسانوں اور قومی معیشت پر وسیع تر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔