✕
دنیا

اپوزیشن کے احتجاج سے قبل نئی دہلی میں سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات

  • ووٹر فہرستوں اور رجسٹریشن کے طریقۂ کار پر سامنے آنے والے اختلافات نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے جبکہ ووٹر فہرستوں میں متنازع نظرثانی کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کرنے کیلئے اپوزیشن کے احتجاجی مارچ سے قبل رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں اور مقبول کاکروچ یوتھ موومنٹ کے ارکان نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ احتجاج گزشتہ ماہ بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی جانب سے الیکشن کمیشن میں اختلافات کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کیا گیا۔

ووٹر فہرستوں اور رجسٹریشن کے طریقۂ کار پر سامنے آنے والے اختلافات نے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا۔

ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی تصاویر میں پارلیمنٹ اور سرکاری دفاتر کے قریب واقع الیکشن کمیشن کے رکاوٹوں سے گھرے دفتر کے باہر سینکڑوں سکیورٹی اہلکار نظر آئے جن میں سے بعض کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔

مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مخالف جماعتوں کے ارکانِ پارلیمنٹ کا مارچ صبح 11 بجے مقرر تھا جو پارلیمنٹ سے شروع ہو کر الیکشن کمیشن کے دفتر تک جانا تھا۔

کانگریس اور دیگر جماعتوں کا الزام ہے کہ نظرثانی شدہ ووٹر فہرستوں سے مودی اور ان کی جماعت کو فائدہ پہنچتا ہے۔

گیانیش کمار نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم الیکشن کمیشن اور مودی کی جماعت بی جے پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ حکام نے احتجاج کے لیے مقررہ علاقوں کے اطراف سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا اور بعض راستے بھی بند کر دیے۔

منگل کو ہونے والا احتجاج گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے طلبہ تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور کاکروچ تحریک کے تقریباً روزانہ ہونے والے مظاہروں کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کو الیکشن کمیشن کی ووٹر فہرستوں کی نظرثانی مہم اور اس کے سربراہ کے طرزِ عمل سے متعلق الزامات میں عدالتی مداخلت کی درخواست پر قانونی دلائل سننے پر رضامندی ظاہر کی۔

درخواست گزاروں کی جانب سے الیکشن کمیشن پر جانبداری کا الزام عائد کیے جانے کے بعد سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر قانون کے خلاف فیصلے کیے گئے ہیں تو ہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔